Book Name:Kalay Bicho Ka Khof

          مرکزالاولیاء (لاہور) کے علاقے اقبال ٹاؤن میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے : میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی بد قسمتی سے وہاں فیشن کا راج تھا ، ہمارے گھر کا ہر فرد ہی ماڈرن تھا شاید یہی وجہ تھی کہ میں بھی دیوانگی کی حد تک فیشن کا شوقین بن گیا مگر اس کے باوجود مجھے اپنے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم سے بے پناہ محبت تھی جس کی وجہ سے میں ان کی پیاری پیاری سنتیں اپنانا چاہتاتھا لیکن ہمیشہ میرے گھر کا ماڈرن ماحول میرے نیک ارادوں کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا اور یوں میں کئی نیک کاموں سے محروم رہ جاتا۔ بالآخر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پر کرم ہوا اور میں صلوۃ و سُنّت کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ میری اصلاح کا ذریعہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کا ایک رسالہ بنا، ہوا کچھ یوں کہ جن دنوں میں آئی کام (I.Com) کا  اسٹوڈنٹ تھا ان دنوں وقتاً فوقتاً کئی مرتبہ میرے دل میں داڑھی مبارکہ سجانے کی خواہش بیدار ہوئی مگر یہ سوچ کر ہمت جواب دے جاتی کہ گھر والے ہر گز اس کی اجازت نہیں دیں گے، رفتہ رفتہ جب یہ خواہش دل میں شدت اختیار کر گئی تو میں نے اپنے گھر والوں کے سامنے اس کا اظہار کر دیا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا  میرے گھر والوں نے اس بات کی شدید مُخالفت کی اور والدین نے تو سختی سے منع کردیا۔ رشتہ داروں اور کچھ قریبی دوستوں کو جب اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ والدین کی اجازت کے بغیرتم ایسانہیں کرسکتے کیونکہ اس طرح تو تم ان کی ناراضگی مول لو گے اور پھر ثواب کے بجائے اُلٹا گناہگار ہو جاؤ گے، میرے دل نے ان کی یہ بات قبول کرنے سے انکار کردیا، میں نے اس مسئلے کی جانچ کے لئے اپنے کالج کی لائبریری میں موجود مختلف اسلامی کتب کامطالعہ کیا مگر مجھے یہ مسئلہ نہ ملا۔ چونکہ مجھے شَرَعی احکامات کی زیادہ معلومات تو تھی نہیں لہٰذا اس طرح کی باتیں سُن کر دل مَسُوس کر رہ گیاسے۔ ایک دن محلے کی مسجد غوثیہ رضویہ میں نماز پڑھ کر جب مسجد سے نکلنے لگا تو اچانک باآوازِبلند ایک مبلغ دعوتِ اسلامی کے دُرود و سلام پڑھنے کی صدائیں میری سماعَتوں سے ٹکرائیں ان کی آواز کا سُننا تھا کہ گھر کی جانب اُٹھتے ہوئے قدم خود بخود رُک گئے اور جب انہوں نے نمازیوں سے قریب قریب آنے کو کہا تو بے ساختہ میرے قدم اُن کی طرف بڑھ گئے اور میں بھی درس میں شریک ہوگیا۔ درس کے اختتام پر مُلاقات کے دوران اُس مُبَلّغ اسلامی بھائی نے مجھے ایک رسالہ بنام ’’سمندری گنبد‘‘ تحفے میں پیش کیا۔ گھر جا کر جب میں نے اس رسالے کا مطالعہ کیا تو میری پلکوں کے ساحل پر اشکوں کا ہُجوم لگ گیا کیونکہ امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ نے اُس مختصر رسالے میں والدین کے حُقُوق سے مُتعلّق انتہائی تاثیر کُن تحریر لکھی تھی، علاوہ ازیں اس رسالے میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ’’ اگر ماں باپ جھوٹ بولنے کا حکم دیں یا داڑھی مُنڈوانے یا ایک مٹھی سے گھٹانے کا کہیں تو ان کی یہ باتیں ہر گز نہ مانیں چاہے وہ کتنے ہی ناراض ہوں ، آپ نافرمان نہیں ٹھہریں گے، ہاں اگر مان گئے تو ربّ کے نافرمان قرار پائیں گے۔‘‘ جب میں نے یہ پڑھا تو ہکّا بکّا رہ گیا کیونکہ اس مسئلے کی تلاش میں تو مَیں کافی کتابیں کھنگال چکا تھا بس پھر کیا تھا میں نے اُسی وقت چہرے پر داڑھی مبارکہ سجانے کی نیت کرلی اور آہستہ آہستہ دعوت اسلامی کے مدنی رنگ میں رنگتا چلا گیا وقت کے ساتھ ساتھ انفرادی کوشش کے ذریعے گھر والوں کو بھی راضی کر لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر میرے چہرے پر ایک مٹھی داڑھی شریف اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج جگمگا رہا ہے۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                              صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(6)جب رسالہ دوبارہ پڑھا۔۔

          ضلع جہلم(پنجاب پاکستان)کے گاؤں لنگرپور میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں



Total Pages: 12

Go To