Book Name:Kalay Bicho Ka Khof

اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                          صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(4)مرید ہونے کی خواہش

          سردار آباد (فیصل آباد) کے علاقے ڈھڈّی والہ کے محلہ رسول نگرمیں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے :  میں انتہائی گناہ گار تھا اور اکثر اوقات معاشرے میں پائی جانے والی مختلف برائیوں میں ملوث رہتا تھا میرا ایک بھائی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک تھا، وہ میرے بگڑے ہوئے کردار کی خستہ حالی پر نہایت کُڑھتا اور وقتاً فوقتاً دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے گناہوں سے باز آنے اور دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول اپنانے کے لئے مجھ پر انفرادی کوشش کیا کرتا اور میں تھاکہ اس کی نصیحت آمیز گفتگو پر کان دھرنا بھی گوارا نہ کرتا بلکہ گھر والوں کے ساتھ مل کر اس کا مذاق اُڑاتا اور طرح طرح سے اس کی دل آزاری کے اسباب مہیا کیا کرتا مگر  دعوتِ اسلامی والوں نے میرے بھائی کو حسن اخلاق اور عفو و درگزر کا ایسا پیکر بنا دیا تھا کہ وہ نیکی کی دعوت کے جذبے سے سرشار ، صبر و اِستِقلال کا گویا پہاڑ بن کر مسلسل پانچ سال تک میری حوصلہ شکن باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے گاہے گاہے مجھے نیکی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوششیں کرتا رہا شاید یہی وجہ تھی کہ اس کی اصلاح سے بھرپور باتوں کے لئے رفتہ رفتہ میرے دل میں نرم گوشہ پیدا ہوتا چلا گیا۔ پہلے تو گناہوں پر ندامت کا احساس تک نہ ہوتا تھا مگر اب جب بھی بتقاضائے بشریت مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوتا تو میرا ضمیر مجھے ملامت کرنے لگتا اور مجھے اپنے آپ سے شرمندگی ہونے لگتی، کبھی کبھار تو یہ تمنا بھی دل میں جاگ اُٹھتی کہ کاش ! مجھے کوئی ایسا دامن نصیب ہوجائے جسے تھام کر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گناہوں کے دلدل سے نجات حاصل کرلوں۔ آخرکارمجھ گناہگار پر میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ کا بڑا کرم ہوا کہ اس نے مجھے اپنے ولی کامل شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کا دامن عطا فرما کر اسے میری اصلاح کا ذریعہ بنادیا ۔ ہوا کچھ یوں کہ یکم رمَضانُ الْمبارک ۱۴۲۹ھ بمطابق 2 ستمبر 2008ء کو دیگر مسلمانوں کی طرح میں بھی روزہ رکھنے کے لئے صبح سویرے جاگ گیا، سحری کے بعد نمازِ فجر کی ادائیگی کے لئے میں اپنے محلے کی بلال مسجد میں گیا تو دیکھا کہ ایک اسلامی بھائی بیان کر رہے ہیں جماعت سے تھوڑی دیر پہلے بیان ختم ہوا تو وہاں موجود تمام نمازیوں کو تحفۃًرسائل تقسیم کئے گئے۔ المدینۃ العلمیہ کا ایک رسالہ بنام ’’سرکار کا پیغام عطار کے نام‘‘ مجھے بھی دیا گیا ۔ رسالہ کا نام پڑھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ ہونہ ہو ضرور یہ کوئی نیک ہستی ہیں جو اللہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی بارگاہ میں انتہائی مقبول ہیں۔ یہی سوچ کر میں نے دلچسپی کے ساتھ اُس رسالے کا مطالعہ شروع کردیا۔ اول تا آخر اس کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے ارادہ کرلیا کہ امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ ہی کا مرید بننا ہے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی رمَضانُ الْمُبارک میں مجھے آخری عشرہ کا اعتکاف کرنے کی سعادت حاصل ہوگئی دوران اعتکاف عاشقانِ رسول کی صحبت کی بَرَکتیں لوٹنے کے ساتھ ساتھ فیضان سنت سے درس بھی دینے لگا اور بالآخر ایک مُبلغِ دعوتِ اسلامی کے واسطے سے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ  کا مرید بن گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ درس کی برکت سے تین مرتبہ خواب میں امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ  کی زیارت سے بھی مشرف ہوا۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                               صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

    (5)شرعی مسئلے کی تلاش

 



Total Pages: 12

Go To