Book Name:Kalay Bicho Ka Khof

ان رسائل کے مطالعے کا ذہن دیتیں ، یوں تو میں بھی ان کی مُسلسل انفرادی کوشش کی بنا پر کبھی کبھار سرسری طور پر ان رسائل کی ورق گردانی کر لیا کرتا تھامگر سنجیدگی سے نہ پڑھنے کی وجہ سے میرے دل پر اس تحریر کا کوئی اثر نہ ہوا تھا۔ ایک دن نجانے مجھے کیا ہوا کہ گھر میں رکھا امیرِ اہلسنّت کا تحریر کردہ ’’قبرکاامتحان‘‘ نامی رسالہ اُٹھایا اور دلجمعی کے ساتھ بغور اس کا مطالعہ کر نے لگا۔ واقعی چند اَوراق پر مشتمل وہ انتہائی پُر تاثیر تحریر ثابت ہوئی کیوں کہ جیسے جیسے میں پڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا ہوتاچلا جارہا تھا، دورانِ مطالعہ میری نظر جب اس شعرپہ پڑی

سرکار کاعاشق بھی کیاداڑھی منڈاتاہے

کیوں عشق کاچہرے سے اظہارنہیں ہوتا

          ایک ولیٔ کامل کے شعر کا پڑھنا تھا کہ اس کی تاثیر سے میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ میں نے اسی وقت تہیہ کر لیا کہ اب چاہے کچھ بھی ہوجائے میں ہر گز داڑھی نہیں کٹواؤں گا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیارے آقا صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی پیاری پیاری سنّت (داڑھی شریف) کا نور میرے چہرے پر جگمگانے لگا، ا ب میں نمازوں کا اہتمام بھی کرنے لگا تھا،  چونکہ مجھے دُرست مخارِج کے ساتھ قراٰنِ پاک پڑھنا نہیں آتا تھا لہٰذا دعوتِ اسلامی کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی کے توسّط سے مدرسۃالمدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے لگا، اس کی برکت سے رفتہ رفتہ میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا، اب میں سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سر پر سجا چکا ہوں اور علاوہ ازیں سفید لباس بھی اپنا لیا ہے، تادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں ذیلی حلقہ مشاورت میں قافلہ ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کے لئے کوشاں ہوں۔

اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                                صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

    (3)قبرمیں کالے بچھو

          مرکزُ الاولیاء لاہور (پنجاب، پاکستان)کے علاقے ہَنْجروال کی جمال کالونی میں مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے :  مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میری عملی حالت بہت خراب تھی۔ میں پینٹ شرٹ میں کسا کسایا رہنے والا ایک ماڈرن نوجوان تھا۔ میں اپنے اکثر اوقات فضولیات میں برباد کیا کرتا تھا۔ برے دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر مَعَاذَ اللہ فلمیں ، ڈرامے دیکھنا، نمازیں ترک کرنا، شراب نوشی کرنا اور والدین کو ستانا میرے عام معمولات میں شامل تھا ۔ میری زندگی میں مدنی انقلاب اس طرح برپا ہوا کہ ایک دن میں جامع مسجد سبزہ زار میں نمازِ مغرب کی ادائیگی کے لئے چلا گیا، ابھی نماز پڑھ کر مسجد ہی میں بیٹھا ہوا تھا کہ میری نظر ایک طرف رکھے امیرِ اہلسنّت کا تحریر کردہ رسالے پر پڑی، میں نے اسے اُٹھاکر دیکھا تو اس پر ’’کالے بچھو‘‘ کے الفاظ لکھے تھے ، وہیں بیٹھے بیٹھے میں نے اس کا مطالعہ شروع کر دیا ، اس میں داڑھی مُنڈانے والوں کے مُتعلق وعیدیں موجود تھیں جنہیں پڑھ کر میری میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے جب میں نے یہ تصور کیا کہ داڑھی مبارک مُنڈوانے کی وجہ سے اگرمیری قبربھی کالے بچھوؤں سے بھر گئی تو میرا کیا بنے گا؟ یہ سوچ کر میری گریہ و زاری میں اضافہ ہوگیا میں نے اُسی وقت اپنے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی عظیم سنت (داڑھی شریف) سجانے کی نیت کرلی اور دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ تحریری بیان دیتے وقت میں علاقائی مشاورت کے قافلہ ذمہ دار کی حیثیت سے اپنے علاقے میں مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں۔

 



Total Pages: 12

Go To