Book Name:Jinnon ki Dunya

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُودِ پاک کی فضیلت

        شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت،بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال  محمد الیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنے رسالے ’’ا َبلق گھوڑے سوار‘‘میں نقْل فرماتے ہیں کہ سرکارِمد ینۂ منوّرہ ، سردارِ مکۂ مکرمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمان ِدلنشین ہے:’’فرض حج کرو!بے شک اس کا اَجْر بیس غزوات میں شرکت کرنے سے زیادہ ہے اور مجھ پر ایک مرتبہ دُرُودِپاک پڑھنا اس کے برابرہے  ۔‘‘ (فردوس الاخبا رج۲ ص ۲۰۷ حدیث  ۲۴۸۴ دا رالکتاب العربی بیروت )

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی  محمَّد

(1)جِنّوں کی دُ نیا

             باب الاسلام (سندھ)حیدرآباد کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ میرا16سالہ بیٹا حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کر رہا تھا۔26پارے حفظ کر لینے کے بعداچانک نہ جانے اسے کیا ہوا !پڑھا ئی سے جی چرانے لگا، طبیعت میں چِڑچِڑ ا پن آگیا اورہر روز کسی نہ کسی بہانے مدرسے سے چٹھی کرنے لگا ۔اُسکی اِس تبدیلی نے مجھے پریشان کر دیا ۔ ایک صبح جب ہم بیدار ہوئے تو وہ پُراَسرارطور پر غائب تھا۔ سارا گھر چھان مارا لیکن وہ کہیں نہ ملا۔مدرسہ میں معلومات کرنے کے بعد قریبی عزیزوں کے ہاں بھی رابطہ کیا لیکن ہر جگہ سے ما یوسی ہوئی ۔ پھردوپہرتقریباً ایک بجے وہ اچانک گھر آ گیا ۔ میں نے بیتاب ہوکر پوچھا:’’بیٹا!تم کہاں چلے گئے تھے؟ ‘‘ اس نے کوئی جواب نہ دیا، بس سر جھکائے خاموش کھڑا رہا۔بار بار پوچھنے کے بادجود بھی جب وہ کچھ نہ بولا تو میں نے محسوس کیا کہ وہ کسی انجانے خوف کے باعث بول نہیں پارہا ۔ دوسری صبح پھر وہ غائب تھا۔ ہر جگہ تلاش کیا مگر کہیں نہ ملا۔ اب تو گھر میں کُہرام مچ گیا۔ سب گھر والے پریشان و خوف زدہ ہو گئے ۔ میری بیٹی نے مجھے بتایاکہ بھائی مجھ سے کہہ رہے تھے کہ میں  جِنّوں کی دنیا میں جاتا ہوں اور ان کے بچوں کے ساتھ کھیلتاہوں ۔وہ مجھے بہترین کھانا کھلاتے ہیں ، وہاں بڑے بڑے خوبصورت تالابوں میں بَہُت ہی پیاری رنگ برنگی مچھلیاں ہیں ۔یہ سن کرہم بہت پریشان ہوئے، سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کریں ؟ایک بارپھر وہ خُود ہی گھر لوٹ آیا ۔ہم نے اس کے کمرے کو تالا لگا دیاتاکہ و ہ باہر جا ہی نہ سکے ۔اگلی صبح وہ پھر حیرت انگیز طور پر غائب تھا، حالانکہ ہم نے باہر جانے کے سب راستے بند کردئیے تھے۔آخرِ کار ایک رات میں نے فیصلہ کیاکہ آج جاگ کردیکھتاہوں کہ یہ کس طرح غائب ہوتا ہے اورکہاں جاتاہے؟ چنانچہ میں اس کے کمرے میں لیٹ گیا۔ رات تقریباً 2:00بجے اچانک وہ اس طرح چونک کر اُٹھا جیسے کسی اَن دیکھے وُجود نے اسے بیدارکردیا ہو۔اب وہ پُراَسرار انداز میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے اُٹھااوردبے قدموں کھڑکی کی طرف بڑھا،مگر قریب پہنچتے ہی ٹھِٹَھک کر رُک گیااور خوفزدہ ہوکر کھڑکی کوگُھور نے لگا۔میں نے قریب جا کر کہا :’’رُک کیوں گئے ہو؟ آگے بڑھو!یہ سن کر اُس نے مجھے غصّے سے گُھورا مگر پھرفوراًہی سر جُھکالیا اور دوبارہ بِستر پرآکرلیٹ گیا۔ ہم نے حیدرآبا د کے مشہورِزمانہ بُزُرگ حضرت سیِّدُنا عبدالوہاب المعروف سخی سلطان علیہ رحمۃ المنان کے مزارِ مبارک کی چادر کھڑکی پرلگا دی تھی۔غالباً یہ اسی کی برکت تھی کہ جنّات میرے بیٹے کو نہ لے جا سکے ۔

              اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اگلا دن خیروعافیت سے گزرا،جب رات ہوئی تو میں پھرجاگ کر نگرانی کرنے لگا۔ آدھی رات گزرنے بعد اچانک مجھے نیند آ گئی۔ تقریباََ ساڑھے تین بجے آنکھ کھلی تو میرا بیٹا پھر غائب تھا۔ میں نے آؤدیکھانہ تاؤ،اپنے بیٹے کی تلاش میں نِکل پڑا۔مختلف مزارت اور گلیوں کی خاک چھانتاہوا، لطیف آباد نمبر4 کے ایک گوٹھ کے قریب پہنچا۔اس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں ایک پُرانے بَڑ کے درخت پر جِنّات کا بسیرا ہے۔بیٹے کی محبت میں مَیں اکیلا اس ویرانے میں پہنچ تو گیاتھالیکن اب خوف محسوس ہو رہا تھا۔پتّا بھی کھڑکتا تو میں اس خوف سے کانپ اٹھتا کہ کہیں کوئی جن حملہ آور نہ ہوجائے ۔ مگر بیٹے کی محبت نے مجھے وہاں روک رکھا تھا۔ میں نے اسے خوب ڈھونڈا مگر وہ کہیں نہ ملا۔ جب میں تھک ہار کر واپس آنے لگا تواچانک وہ مجھے نظر آگیا ۔وہ سر جھکائے خاموش کھڑاتھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ پھر ہم فوراَ وہاں سے بھاگ آئے اورگھر آکر ہی دم لیا۔بیٹے کے مل جانے پر ہم نے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کا شکراداکیا۔ پھر ہم نے ایک عامل سے رابطہ کیا، تواس نے کچھ عملیات وغیرہ کئے اور کہا:’’ جاؤ !اب اسے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘مگررات کو پھر وہ اچانک غائب ہوگیا۔

             میں کئی دن تک مختلف عاملین کے پاس مارامارا پھرتارہاجس کے نتیجے میں ایک خطیررقم خرچ ہوچکی تھی مگر میری کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی ۔اسی پریشانی کے عالَم میں ایک دن اچانک میری ملاقات لطیف آباد نمبر7کی جائے نماز پردعوت ِاسلامی کے مدرسۃ المدینہ کے ناظم صاحب سے ہوئی ۔انہوں نے میری پریشانی بھانپ لی اور اس کا سبب دریافت کیا۔میں نے ساراماجراکہہ سنایا، انہوں نے مجھے فوراً مجلس مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ کے بستے سے رابطے کا مشورہ دیا۔چنانچہ میں فیضانِ مدینہ آفندی ٹاؤن حیدر آبادپہنچااوربستے کے ذمہ داراسلامی بھائی کو سارا مُعاملہ بتایا۔ انہوں نے تعویذاتِ عطاریہ دیئے،کاٹ کاعمل کیااورپلیٹیں لکھ کردیں ۔ میں نے گھرآکرفوراًاسے تعویذ پہنا دیا اور پلیٹیں استعمال کرواناشروع کردیں ۔ پہلے دن ہی تعویذاتِ عطاریہ کی برکتوں کاظہور ہوا اور میرا بیٹا غائب نہ ہوا ۔اوراس طرح  اَلْحَمْدُْ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  ہمیں اس مصیبت سے نجات مل گئی ۔تادمِ تحریرمیرابیٹا،جامعۃ المدینہ حیدرآباد، میں درسِ نظامی (عالم کورس)  کی سعادت حاصل کررہا ہے ۔اور اس سال اُس نے اپنے دَرَجہ(کلاس) میں سب سے نُمایاں نمبر حاصل کئے ہیں ۔ اَلْحَمْد لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّایک ولیِ کامل کے تعویذات کی بَرَکت سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے ہماری بہت بڑی مُشکل آسان فرمادی۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ  کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 7

Go To