Book Name:Main Hayadar kesay bani?

میں نے تعویذ ات عطاریہ کی تر کیب بنائی اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کی برکت سے مجھے اس موذی مرض سے نجات مل گئی۔ تادم تحریر دوسال کا عرصہ گزر نے کے باوجود مجھے دوبارہ سانس اور پسینے کی شکا یت نہیں ہوئی یہ سب تعویذاتِ عطاریہ کا فیضان ہے۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                                            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

{6}خصوصی شفقت

            کہروڑپکا  (پنجاب،  پاکستان)  کی رہائشی اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میرے سر میں شدید درد رہتا تھا علاج بھی کرایا مگر  ’’ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی ‘‘  کے مصداق دو برس ہو چکے تھے مگر درد تھا کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتا تھا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے میری ملاقات دعوت ِاسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ چند اسلامی بہنوں سے ہوئی۔ میں نے انہیں اپنی پریشانی عرض کی تو انہوں نے مجھے تعویذاتِ عطاریہ کی کئی مدنی بہاریں سنائیں ۔ نہ صرف دِلاسا دیا بلکہ انتہائی شفقت فرماتے ہوئے کہا کہ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں آپ کے لیے تعویذاتِ عطاریہ کی ترکیب بنا دوں گی۔ میں نے جب ان کے دئیے ہوئے تعویذ استعمال کیے تو اس کی برکتیں ظاہر ہوئیں اور میرے درد میں کمی ہونے لگی۔ رفتہ رفتہ تعویذات کی برکت سے  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلََّ میرا سر درد بالکل ٹھیک ہو گیا۔ جب کہ پہلے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ درد سے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی مگر اب میں بہت سکون محسوس کرتی ہوں۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                                            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

{7}گناہ چھوٹ گئے

          عطار والہ  (بوریوالہ ضلع وہاڑی،  پنجاب)  کی ایک اسلامی بہن کا بیان ہے کہ آج سے پندرہ سال قبل مجھ سمیت گھر کا ہر فرد دین سے دوری کے باعث جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا عقائدِ صحیحہ کی معلومات تو دور کی بات ہم تو   اچھائی برائی کی تمیز سے محروم تھے۔ دن بھر فلمیں ڈرامے دیکھنے کی نحوست کے سبب شرعی پردہ کا کوئی ذہن نہ تھا۔ الغرض اسلامی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے ہماری حالت انتہائی قابلِ تشویش تھی۔ خوش قسمتی سے کسی نے مجھے شیخِ طریقت،  امیرِ اہلسنّت،  بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ کی عظیم مشہورِ زمانہ تالیف  ’’ فیضانِ سنّت ‘‘  تحفتاً پیش کی۔ سرسری طور پر اس کے چیدہ چیدہ مقامات کا مطالعہ کرنے سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ انتہائی دلچسپ اور معلوماتی کتاب ہے۔ چنانچہ اس کے بعد میرا روزانہ کا معمول بن گیاکہ فیضانِ سنّت کے کچھ نہ کچھ صفحات کا نہ صرف مطالعہ کرتی بلکہ اپنے دادا جان کو بھی سناتی جسے وہ بڑی یکسوئی سے سنتے اور موقع کی مناسبت سے بے ساختہ ان کی زبان سے سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی صدا ئیں بلند ہوتی رہتی تھیں ۔ محبتِ رسول سے مملو تحریر سن کر بسا اوقات آنکھوں سے آنسو بھی چھلک پڑتے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ کچھ عرصہ بعد رمضان المبارک کے آخری دس دن کا اعتکاف مسجد ِبیت میں کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور میں نے دورانِ اعتکاف اوّل تا آخر فیضانِ سنّت پڑھنے کی نیت کر لی۔ جب نوافل و تلاوت سے فراغت پاتی تو فیضانِ سنّت کے مطالعے میں مصروف ہو جاتی اور ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ بھی کرتی جاتی۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ سے بیعت کی سعادت تو پہلے ہی حاصل کر چکی تھی اب ان کی پر تاثیر تحریر پڑھنے سے نہ صرف میرے دل میں ان کی عقیدت اور بڑھ گئی بلکہ نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کا ذہن بھی بنا۔ اسی جذبہ کے تحت میں نے پابندی سے گھر درس شروع کر دیا جس کی برکت سے آہستہ آہستہ گھر میں مدنی ماحول قائم ہونے لگا۔ ٹی وی کی نحوست سے جان چھوٹی،  نمازوں کی پابندی اور شرعی پردے کا ذہن بنا اور یوں اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرے گھر کے تمام افراد دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہو کر سنّتوں کے سانچے میں ڈھل گئے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ایسا کرم ہوا کہ میری شادی بھی دعوتِ اسلامی کے ایک مبلغ سے نہایت سادگی سے ہوئی۔ ولیمہ کی رات اجتماع ِ ذکر و نعت کا انعقاد بھی ہوا۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں شہر مشاورت کی ذمہ دارہ کی حیثیت سے مدنی کام سرانجام دے رہی ہوں ۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!                                            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

{8}مُرادوں کا خالی کشکول

            باب المدینہ  (کراچی)  کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میرے بھائی پر کسی نے ایک کروڑ روپے کے فراڈ کا جھوٹا الزام لگا دیا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پریشان تھے۔ اسی پریشانی کے عالم میں انھوں نے مجھے باب المدینہ کراچی فون کیا اور اپنی بے چینی بتانے کے بعد مجھے دعا کروانے کے لیے کہا۔ میں نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ فکرنہ کریں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی پریشانی دور ہوجائے گی اور اس مصیبت سے جلد جان چھوٹ جائے گی۔ ایسے نازک حالات میں میری اُمیدوں کا مرکز دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول ہی تھا کیونکہ مجھے معلوم تھاکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں اور سنّتوں بھرے اجتماعات میں ہزارہا پریشان حالوں کی پریشانیاں اور درد منددوں کے دکھ درد کا مُداوا ہونے کے ساتھ دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں چنانچہ میں نے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں  بھرے 12 اجتماعات میں شرکت کی نہ صرف نیت کرلی بلکہ اپنی مرادوں اور امیدوں کا خالی کشکول لئے ان اجتماعات میں شرکت کرنے لگی۔ اجتماع میں نہ صرف خود دعا کرتی بلکہ دیگر اسلامی بہنوں سے بھی دعا کرواتی۔ ابھی چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ



Total Pages: 8

Go To