Book Name:Hazrat Abu Ubaidah bin Jarah

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنط

اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

حضرت سیدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

دُرُود شریف کی فضیلت

نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے: قِیامت کے روز اللہ عَزَّوَجَلَّکے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہیں ہو گا، تین شخصاللہ عَزَّوَجَلَّکے عرش کے سائے میں ہوں گے: (۱)وہ شخص جو میرے اُمّتی کی پریشانی دُور کرے (۲) میری سُنّت کو زِندہ کرنے والا(۳)مجھ پر کثرت سے دُرود شریف پڑھنے والا۔‘‘([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کردار کے غازی

مسلمانوں نے مسلسل کئی روز سے رومی قلعہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور ایک مرتبہ رومی قلعہ سے باہر آکر مسلمانوں سے جھڑپ بھی کرچکے تھے لیکن منہ کی کھا کر

 



[1]البدور السّافرۃ فی امور الا خرۃ للسیوطی، الحدیث: ۳۶۶، ص ۱۳۱



Total Pages: 60

Go To