Book Name:Noor Wala Aaya hay

بے سبب بخشش ہو میری یہ دعا فرمایئے

مصطَفٰے کا واسِطہ مولیٰ علی مشکلکُشا

کیجئے حق سے دعا  ایمان پر ہو خاتمہ

خیر سے عطّارؔ کا مولیٰ علی مشکلکُشا

در پہ جو تیرے آ گیا بغداد والے مُرشِد

 (یہ کلام یکم ربیع الغوث۱۴۳۲ھ کو موزوں کیا) 

در پہ جو تیرے آ گیا بغداد والے مرشد

مَن  کی مُرادیں پا گیا بغداد والے   مرشد

لینے شفائے کامِلہ دربار میں یا پیر

بیمارِ عِصیاں آگیا بغداد والے  مرشد

جو کوئی تِیرہ بخت ([1]در پہ ہو گیا حاضِر

تقدیر کو چمکا گیا بغداد والے  مرشد

دنیا کے جھنجھٹ سے نکل کے تیرے قدموں میں

جو  آگیا سو پا گیا بغداد والے  مرشد

جب بھی تڑپ کر کہہ دیا یا غوث المدد

اِمداد کو تُو آ گیا بغداد والے  مرشد

جس نے لگایا زور سے یا غوث کا نعرہ

وہ دشمنوں پہ چھا گیا بغداد والے  مرشد

وہ بِالیقیں ہے بامقدَّر کہ جسے جلوہ

تُو خواب میں دِکھلا گیا بغداد والے مرشد

شیطاں سے ایماں ہو گیا محفوظ جو تیرے

ہے’’ سلسلے‘‘ میں آ گیا بغداد والے  مرشد

کیوں ڈر مُریدوں کو ہو نَزع و قبرو محشر کا

تو   ’’لا تَخَف‘‘  فرما گیا بغداد والے  مرشد

جلوہ دکھا دیجے مجھے کَلمِہ پڑھا دیجے

اب وقتِ رِحلَت آ گیا بغداد والے مرشد

اے کاش!  پھر آ کر کہے دربار میں عطّارؔ

بغداد میں پھر آ گیا بغداد والے  مرشد



[1]     بدنصیب

 



Total Pages: 9

Go To