Book Name:Noor Wala Aaya hay

ذرَّہ ذرَّہ جگمگایا ہر طرف آیا نکھار

گویا ساری ہی فضا کو نور میں نَہلایا ہے

نور والے کے رُخِ روشن کی بھی کیا بات ہے

چِہرۂ انور کے آگے چاند بھی شرمایا ہے

چھت پہ کعبے کی اُتَر کر حکمِ ربِّ پاک سے

حضرتِ جِبریل نے جھنڈا وہاں لہرایا ہے

چار سُو چھائی ہوئی تھیں کُفر کی تاریکیاں

تم نے آ کر نور سے سَنسار کو چمکایا ہے

چاند کی جوں ہی ربیعُ النّور کے  آئی  خبر

اہلِ ایماں جھوم اُٹھے شیطاں کو غصّہ آیاہے

جب اندھیرے گھر میں آئے نور سے گھر بھر گیا

گمشدہ سُوئی کو بی بی عائشہ نے پایا ہے

اے خدائے دو جہاں تیرا بڑا اِحسان ہے

تو نے پیدا اُن کی اُمّت میں ہمیں فرمایا ہے

نور والے ہم گنہگاروں کے گھر بھی روشنی

آ کے کر دو،    نور تم نے ہر جگہ پھیلایا ہے

اپناجانا اور ہے اُن کا بُلانا اور ہے

خوش نصیبی اُن کی جن کو شاہ نے بُلوایا ہے

مجھ کو ڈھارس ہے غلامِ سیِّدِ اَبرار ہوں

ماسِوا پلّے میں میرے کچھ نہیں سرمایہ ہے

نور والے!  اب خدارا مسکراتے آیئے

روشنی ہو قبر میں ہائے!  اندھیرا چھایا ہے

سن لے شیطاں تُو دبا سکتا نہیں عطّارؔ کو

دوجہاں میں اِس پہ میٹھے مصطَفٰے کا سایہ ہے

یہ عرض گنہگار کی ہے شاہِ زمانہ

 (۲۹محرم الحرام۱۴۳۳ھ۔    بمطابق25- 12- 2011) 

یہ عرض گنہگار کی ہے شاہِ زمانہ

جب آخِری وَقت آئے مجھے بھول نہ جانا

سکرات کی جب سختیاں سرکار ہوں طاری

حَسَنَین کا صدقہ سرِبالیں ضَرور آنا

ڈر لگتا ہے ایماں کہیں ہو جائے نہ برباد

سرکار بُرے خاتمے سے مجھ کو بچانا

جب روح مِرے تن سے نکلنے کی گھڑی ہو

شیطانِ لعیں سے مِرا ایمان بچانا

جب دم ہو لبوں پر اے شَہَنشاہِ مدینہ

تم جلوہ دکھانا  مجھے کلمہ بھی پڑھانا

آقا مِرا جس وَقت کہ دم ٹوٹ رہا ہو

اُس وَقت  مجھے چہرۂ پُرنور دِکھانا


 



Total Pages: 9

Go To