$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

الْیَوْمِ یعنی پھر اس دن کا کام کس طرح اَنجام پائے گا؟  انہوں نے کہا : ’’یَکُوْنُ فِی الْیَوْمِ الَّذِیْ یَلِیْہِ یعنی دوسرے دن ہوجائے گا ۔ ‘‘فرمایا:حَسْبِیْ عَمَلُ یَوْمٍ فِیْ یَوْمِہٖ فَکَیْفَ بِعَمَلِ یَوْمَیْنِ فِیْ یَوْمٍ یعنی میرے لئے یہی بہت ہے کہ روز کا کام روز اَنجام پاجائے ، دو دن کا کام ایک دن میں کیونکر پور اہوگا؟(سیرت ابن جوزی ص۲۲۵) بعض حضرات نے ان سے فُرصت کے اوقات میں فیض یاب ہونے کی خواہش ظاہِر کی تو فرمایا: مجھے فُرصت کہاں ! اب تو صِرف خدا عَزَّوَجَلَّکے یہاں ہی فرصت نصیب ہوگی ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۱۰)

وقت کی قَدَر

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!وَقت ایسی اَنمول دولت ہے جو امیروغریب کو یکساں ملتی ہے مگر ہماری اکثریت وَقت کی اہمیت سے ناآشنا ہے اور اِس اہم ترین نعمت (یعنی وَقت) کو فُضُولِیات میں برباد کرتی ہے مثلاً کئی لوگ آنکھ کھلنے کے باوجود بلاوجہ کافی دیر تک بستر نہیں چھوڑتے ، غسل خانے میں بے کار کافی وَقت نکال دیتے ہیں ، کھانا کھانے میں بہت زیادہ وَقت لیتے ہیں ، کافی دیر آئینے کے حضور حاضِری دیتے ہیں ، کہیں چائے پینے بیٹھے تو فُضول ولغْو گفتگو مَثَلاًمُلْکی وسِیاسِی حالات، میچوں پر تبصرے وغیرہ میں گھنٹوں وَقت کا ضیاع کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو غِیْبَت، چُغْلی، مَوسِیقی، بَدْگُمانی، دِل آزاری، تُہمت وبُہتان، مَخلوط تفریح گاہ وہو ٹل ، ٹی وی وغیرہ پر فلمیں ڈرامے ، کھیل کود کے غیر شَرعی پروگرام دیکھ کر وَقت جیسی عظیم نعمت کو برباد کرتے اور اپنی دُنیا و آخِرت کا نقصان اُٹھاتے ہیں ۔ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’دو نعمتیں ہیں جن میں لوگ بہت گھاٹے میں ہیں تندرستی اور فراغت ۔ ‘‘(بخاری، کتاب الرقاق ، ج۴، ص۲۲۲، الحدیث:۶۴۱۲) لہٰذاہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ دولتِ وَقت کواللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اِطاعت وفرمانبرداری والے کاموں میں خَرچ کرنے کی کوشِش کریں اور اس مختصر زندگی کے قیمتی لمحات کوفُضول وحرام خواہشات کی تکمیل میں صَرف کرنے سے بچیں کیونکہ جو وقت کو ضائع کرتا ہے وقت اسے ضائع کردیتا ہے ۔  [1]؎ 

دِن لہو میں کھونا تُجھے ، شب صبح تک سونا تجھے

شَرمِ نبی خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں (حدائقِ بخشش از امامِ اہلسنّت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزّتْ)

وقت برف کی مانندہے

            اِمام فخر الدِّین رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی فرماتے ہیں کہ میں نے سُوْرَۃُالْعَصْر کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا، جو بازار میں صدا لگا رہا تھا کہ رحم کرو اُس شخص پر کہ جس کا سرمایہ گُھلتا جارہا ہے ، رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلتا جارہا ہے اُس کی یہ بات سن کر میں نے کہا: یہ ہے ’’ وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) "کا مطلب، جو زندگی انسان کو دی گئی ہے وہ بَرَفْ کے پگھلنے کی طرح تیزی سے گُزر رہی ہے ، اِس کو اگر ضائِع کیا جائے یاغَلَط کاموں میں صَرف کردیا جائے تو اِنسان کا خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ (تفسیرکبیر، ج۱۱، ص۲۷۸)     

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بیت المال کی اِصلاح

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے جن جن شعبوں کی اِصلاح کی، ان میں بیت المال (یعنی قومی خزانہ) بھی ہے ۔ تفصیل ملاحظہ ہو:

            (۱) بیت المال مختلف قسم کی آمدنیوں کے مجموعے کا نام ہے جن میں ہر ایک کے مَصارِف و مداخِل جُدا جُدا ہیں ، غالباً حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے زمانے سے پہلے یہ تمام آمدنیاں ایک ہی جگہ جمع ہوتی تھیں ، لیکن انہوں نے آمدنیوں کے متعلِّق الگ الگ شعبہ جات قائم کئے ، اور ہر ایک قسم کی آمدنی کو الگ الگ جمع کیا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۱۲ملخصًا)

            (۲) بیت المال درحقیقت مسلمانوں کا مشترکہ خزانہ ہے جس سے ہر مسلمان برابر فائدہ اٹھاسکتا ہے ، لیکن حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے دور سے پہلے تمام خاندان شاہی کو عام مسلمانوں سے الگ الگ مخصوص وظیفہ ملتا تھا، جس کو وظیفۂ خاصہ کہتے تھے آ پ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس کومکمل طور پربند کردیا ۔

            (۳)  قصائد(یعنی تعریفی اشعار کہنے ) کے صِلے میں شعراء کو بیت المال سے جو اِنعامات ملتے تھے ان کو حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے بالکل موقوف کردیا ۔

            (۴) حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے دور سے پہلے یہ دَستور تھا کہ گورنر عشاء اور فجر کے وَقت نَماز کو جاتے تھے تو آدمی ساتھ ساتھ شمع لے کر چلتا تھا اور اس کے مصارف کا بار بیت المال پر پڑتا تھا، حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے اس کی رقم بند کردی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۵ملخصًا)

            (۵) بیت المال کی آمدنیوں میں خُمس کے پانچ مصارف متعین ہیں جن کے علاوہ ان کو کسی دوسری جگہ  صَرف نہیں کیا جاسکتا، لیکن حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزسے پہلے کے خلفاء ان مصارف کا لحاظ نہیں کرتے تھے ، مصارفِ خمس میں سب سے مُقَدَّم مَصرَف اہل بیت ہیں ، لیکن ولید اور سلیمان بن عبدُالملک نے باوجود حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے سمجھانے بجھانے کے ان کو بالکل اس حق سے محروم کردیا تھا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے خلیفہ بنتے ہی خمس کو ان کے صحیح مصارف میں  صَرف کیا اور اہلِ بیت کو ان کا حق دیا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۰۵ملخصًا)

آپ قسم کھائیے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے نزدیک بیت المال (قومی خزانے ) کی حفاظت کی بہت اہمیت تھی ۔ حضرتِ سیِّدُنا وَہب بن مُنَبِّہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہجو خود ایک متقی پرہیزگار بزرگ تھے ، بیت المال کے منتظم تھے اور بیت المال سے کچھ رقم کم ہوگئی، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو لکھا کہ بیت المال میں چند دینار کم ہیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ان کو جواب میں لکھا :’’ میں آپ کو اِلزام نہیں دیتا، مجھ سے اس مال کے بارے میں مسلمان پوچھ گچھ کرنے والے ہیں ، انہیں آپ کی قسم ہی مطمئن کرسکتی اس لئے آپ حلف اٹھائیے ۔ ‘‘ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۸)

مُحَاصِل کی اِصلاح

 



24    وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’اَنمول ہیرے ‘‘کا مطالعہ فرمائیے ۔



Total Pages: 139

Go To
$footer_html