Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اوراُن کے صَدَقے ہماری بے حساب مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ملزَم اور مُجرِم کا فرق

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کی طرف سے مقرر ہو نے والے عُمّال بعض اوقات خود اطلاع دیتے کہ ہم سے پہلے جو عمّال تھے ، انہوں نے  مال غَصَب کیا تھا، اگر امیر المؤمنین کا اِرشاد ہو تو یہ مال اُن سے ضَبط کرلیا جائے ؟ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزان کو  حُکم لکھوا کر بھیجتے کہ اس معاملہ میں مجھ سے مشورہ کرنے کی ضَرورت نہیں ، اگر شہادت ہو تو شہادت کی رُو سے اور اِقرار ہو تو اقرار کی رُو سے مال واپَس لو، ورنہ حلف لے کر چھوڑ دوجیسا کہ بصرہ کے گورنر عدی بن اَرطاۃ کو لکھا: امابعد!تم نے خط کے ذریعے بتایاتھا کہ تمہارے علاقے میں اہل کاروں کی خیانت کا اِنکشاف ہوا ہے اور انہیں سزا دینے کے لئے مجھ سے اِجازت مانگی تھی ، گویا تم اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی گِرِفت سے بچنے کے لئے مجھے ڈھال بنانا چاہتے تھے ، جب تمہیں میرا یہ خط ملے تو اگر ان کے خِلاف شہادت موجود ہو تو ان سے مؤاخذہ کرواور سزائیں دو ورنہ نَمازِ عَصر کے بعد ان سے یہ قسم لے لو: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہم نے مسلمانوں کے مال میں ذرا بھی خیانت نہیں کی ۔ ‘‘ اگر وہ یہ قسم کھا لیں تو انہیں چھوڑ دو کیونکہ ہم یہی کچھ کر سکتے ہیں ، واللّٰہ! ان کا اپنی خیانتیں لے کر بارگاہِ الہٰی میں پہنچنا میرے لئے آسان ہے بجائے اس کے کہ میں ان کے خون کا وَبال اپنی گردن پر لے کراللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضِر ہوں ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۵)

ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسطے اُٹھیں

       بچانا  ظُلم و سِتَم سے مجھے سدا یاربّ(وسائل بخشش ص۹۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کسی کی طرف گناہ کی نسبت کرنا

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حکایت سے ہمیں یہ دَرس بھی ملاکہ بلاثبوتِ  شَرعی کسی کی طرف گناہ کی نسبت نہ کی جائے یعنی کسی کو اس وَقت تک خائن، راشی ، سُود خور نہ قرار دیا جائے جب تک ہمارے پاس شَرعی ثبوت نہ ہو، حجۃ الاِسلام اِمام محمدغزالی علیہ رحمۃاللّٰہ الوالی فرماتے ہیں :’’ اگر کسی شخص کے منہ سے شراب کی بُو آرہی ہو تو اس کو شَرعی حد لگانا جائز نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے شراب کا گھونٹ بھرتے ہی کلّی کردی ہو یا کسی نے اسے زبردستی شراب پِلادی ہو ، جب یہ سب احتمال موجود ہیں تو (ثبوتِ شَرعی کے بغیر) محض قَلبی خیالات کی بنا پر تصدیق کردینا اور اس مسلمان کے بارے میں بدگُمانی کرنا جائز نہیں ہے ۔ ‘‘(احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان، ج۳، ص۱۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دِکھاوے کا اَنجام

            ولید بن ہشام نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکو خط میں لکھا :’’ میں نے اپنے ماہانہ اَخراجات کا حساب لگایا ہے تو پتا چلا ہے کہ میری تنخواہ میری ضَروریات سے زیادہ ہے اگر آپ منظور فرمائیں تو اس زائد رقم کو میری تنخواہ سے کم کردیا جائے ۔ ‘‘آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:لَوْکُنْتُ عَازِلًا اَحَداً عَلٰی ظَنٍّ لَعَزَلْتُہٗ یعنی اگر میں محض گمان کی بنا پر کسی کو معزول کرتا تو اِسے کردیتا ۔ پھر اس کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے تنخواہ کم کردی مگر اپنے ولی عہد یزید بن عبدالملک کے نام یہ تحریر لکھوائی :ولید بن ہشام نے مجھے اس مضمون کی درخواست بھیجی ہے ، اگرچہ مجھے اِطمینانِ قلب نہیں مگر میں نے ظاہر پر عمل کیا ہے کیونکہ غیب کا عِلم اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے  پاس ہے ، میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر مجھے کوئی حادثہ پیش آجائے اور تم مَسندِ خِلافت پر بیٹھو اور ولید تم سے یہ درخواست کرے کہ اس کی وہی پرانی تنخواہ بحال کی جائے جس میں میں نے کمی کردی تھی تو اُسے ہرگز اسکی مُرادِ نامُراد میں کامیاب نہ ہونے دینا ۔ چنانچِہ یہی بات ہوئی کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کا وِصال ہوا اور خِلافت یزید بن عبدالملک کے سِپُرد ہوئی تو ولید کا خط آپہنچا کہ عمر نے مجھ پر ظُلم کیا اور میری تنخواہ میں کمی کردی تھی لہٰذا میری تنخواہ بحال کی جائے ۔ یزید بن عبدالملک اُس کی دَغابازی پراتنا غَضَب ناک ہوا کہ اُسے معزول کردیا اور حضرت عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے زمانے سے اب تک جتنی تنخواہ وُصول کرچکا تھا وہ بھی واپَس لے لی اور ولید کو مرتے دَم تک پھر کبھی کوئی عہدہ نہ ملا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۱)

جَو شریف کا دَلیا

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  کو اِطّلاع ملی کہ سِپہ سالار کے باوَرچی خانے کا یومیّہ خَرچ ایک ہزار دِرہم ہے ۔ اس خبرِ وَحشَت اثر سے آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو  سَخت افسوس ہوا ۔ اس کی اِصلاح کیلئے انفِرادی کوشِش کا ذِہن بنایا اوراس کو اپنے یہاں مَدعُوفرمایا ۔ آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے باورچیوں کو  حُکم دیا کہ پُر تکلُّف کھانے کے ساتھ ہی جَو شریف کا دَلیا بھی تیاّر کیا جائے ۔ سِپَہ سا لا ر جب دعوت پر حاضِر ہوا تو خلیفہ نے قصداً کھانا منگوانے میں اِس قَدَر تاخیر فرمادی کہ سِپَہ سالار بھوک سے بے تاب ہوگیا ۔ بِالآخِرامیرُالْمُؤمِنِیننے پہلے جَو شریف کا دَلیا منگوایا ۔ سِپَہ سالار چُونکہ بَہُت بھوکا تھا اِس لئے اُس نے جَو شریف کادَلیاکھانا شروع کر دیا اور جب پُر تکلُّف کھانے دسترخوان پرآئے اُس وَقت اِس کا پیٹ بھر چکا تھا ۔ دانا خلیفہ نے پُر تکلُّف کھانوں کی طرف اِشارہ کر کے فرمایا: آپ کاکھانا تو اب آیا ہے کھائیے !سِپَہ سالار نے انکار کیااور کہا کہ حضور! میرا پیٹ تو دلیا ہی سے بھر چکا ہے ۔ امیرُالْمُؤمِنِیننے فرمایا: سُبْحٰنَ اللّٰہ! دَلیابھی کتنا عُمدہ کھانا ہے کہ پیٹ بھی بھر دیتا ہے اور ہے بھی اتنا سَستا کہ ایک دِرہَم میں دس آدمیوں کوسَیر کر دے ! یہ کہہ کر نصیحت کے مَدَنی پھول لٹاتے ہوئے فرمایا: جب آپ دَلیا سے بھی گزارہ کر سکتے ہیں تو آخِر روزانہ ایک ہزار دِرہَم اپنے کھانے پر کیوں خَرچ کرتے ہیں ؟ سِپَہ سالار صاحِب !خدا سے ڈریئے اور اپنے آپ کو زیادہ خَرچ کرنے والوں میں داخِل نہ کیجئے ۔ اپنے باورچی خانے میں جو رقم



Total Pages: 139

Go To