$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

معاف کرنے میں خطا سزادینے میں خطا سے بہتر ہے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: شبہ کی صورت میں سزا میں حتی المقدور نَرمی اِختیار کرو، کیونکہ حاکم کا معاف کرنے میں خطا سزادینے میں خطا سے بہتر ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۲۳)

عادِل عدالت کا عادِل فیصلہ

            سَمر قند کے ذِمّیوں نے حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کے پاس ایک وفد بھیجا جس نے شکایت کی کہ مُسلِم سپہ سالار نے اِسلامی لشکر کشی کے اُصولوں سے اِنحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کیاتھا، لہٰذا ہمیں اِنصاف دلایا جائے ۔ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے سمرقند کے گورنر سلیمان بن ابی سرٰی کو خط لکھا کہ سمرقند والوں نے مجھ سے اپنے اوپر ہونے والے  ظُلم کی شکایت کی ہے ، میرا خط ملتے ہی ان کا مقدمہ سننے کے لئے قاضی مقرر کرو ، اگر قاضی ان کے حق میں فیصلہ کردے تو یہ لوگ اپنی چھاؤنی میں رہیں گے اور مسلمان پہلے والی جگہ پر واپَس آجائیں ۔ ‘‘ گورنر نے حسبِ  حُکم قاضی کا تقرر کردیا اسلامی  عَدل کے مَدَنی پھولوں (یعنی اصولوں ) کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ذِمّیوں کے حق میں فیصلہ کردیا اور حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کی ہدایت کے موافق ذِمّیوں کو چھاؤنی میں رہنے اور مسلمانوں کو چھاؤنی سے باہَر نکل جانے کا  حُکم دیانیز جدید مصالحت یا جنگ کا فیصلہ کرنے کا  حُکم دیا ۔  عَدل واِنصاف کے شاہکار فیصلے کو سن کر سمرقندی پکار اٹھے : نہیں ، ہم پہلے والی حالت میں ہی رہنا چاہتے ہیں ، جنگ نہیں چاہتے کیونکہ مسلمان ہمارے ساتھ امن وامان کی زندگی بسر کرتے ہیں ہمیں کوئی تکلیف نہیں دیتے ، اگر ہمیں جنگ میں دھکیل دیا گیا تو نہ جانے کامیابی کس کی ہو؟ اس لئے ہمیں حسبِ سابق مسلمانوں کے تحت رہنا قبول ہے ۔ (تاریخ طبری، ج۴، ص ۲۵۱)

ذِمّی کو اِنصاف دلایا

             ایک بار کسی مسلمان نے حیرہ کے کسی ذِمّی کو قَتل کرڈالا، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے وہاں کے گورنر کو لکھا کہ قاتل کو مقتول کے وارِث کے حوالے کردو، چنانچہ وہ قَتل کرے چاہے وہ معاف کر دے ، چنانچہ قاتل کو مقتول کے وارث کے حوالے کردیا گیا جسے اس نے بدلے میں قَتل کردیا ۔ (نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الھدا یۃج5ص90)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حجاج کے ساتھ کام کرنے والے کوگورنر نہ بنایا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک شخص کو گورنر بنایا ، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حجاج بن یوسف کا گورنر رہ چکا ہے تو اسے معزول کردیا ۔ وہ معذرت کے لئے آپ کے پاس آیا اور کہا: میں بہت تھوڑے عرصے کے لئے ہی حجاج کا گورنر رہا ہوں ۔ فرمایا: بُرے آدمی کی ایک آدھ دن کی صُحبت بھی تمہیں نقصان پہنچانے کے لئے کافی ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۸)

کیا یہ نافرمانی تھی ؟

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک شخص کو گورنر بنانا چاہا تو اس نے معذرت کر لی ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا اصرار بڑھا تو اس نے قسم کھا لی: میں یہ کام نہیں کروں ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: نافرمانی مت کرو ۔ وہ کہنے لگا :یاامیرَالمُؤمنین !اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے اِرشاد فرمایا ہے :

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا۲۲، احزاب:۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے ۔

            اب یہ بتائیے کہ کیا زمین وآسمان کا اِنکار کرنا نافرمانی تھی ؟ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اسے جانے دیا ۔ (حلیۃ الاولیاء ، ج ۵ ، ص۳۰۴)

                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت سے ہمیں ایک زبردست مَدَنی پھول ملا اور وہ یہ کہ ہمیں اپنے ماتحت سے ’’نہ ‘‘سننے کا بھی حوصلہ رکھنا چاہئے ، ہوسکتا ہے کہ وہ بے چارا کسی حقیقی مجبوری کی وجہ سے ہمارے کہے پر عمل نہ کرسکتا ہو ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کھلی آزمائش

            ایک شخص حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کی خدمت میں حاضِر ہوا، عَرض کی: یا امیر المومنین ! مجھ پر بڑا  ظُلم ہوا ہے ۔ فرمایا :’’ کس نے کیا ؟‘‘ وہ شخص خاموش رہا ، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے بار بار دریافت فرمایا مگر اس شخص کی زَبان سے  ظُلم کرنے والے کا نام نہیں نکل پاتاتھا جو غالباً آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا کوئی عزیز تھا، بالآخر اس نے کہا کہ فلاں شخص نے میرااتنا مال زبردستی لے لیا ہے ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فوراً غلام سے قلم ، دوات اور کاغذ طَلَب کیا اور اپنے گورنر کے نام لکھا: فلاں آدمی نے میرے پاس یہ شکایت کی ہے ، اگر یہ صحیح ہے تو مجھے اطلاع دینے سے پہلے اس کا مال اسے واپَس مل جانا چاہیے ۔ تحریر لکھنے کے بعد آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو مَلتے ہوئے یہ آیت پڑھی:

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ(۱۰۶) ۲۳، الصافات:۱۰۶)

ترجمۂ کنزالایمان:بیشک یہ روشن جانچ تھی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۳)

چالیس کوڑے لگوائے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کا حُکم تھاکہ کوئی مسلمان کسی ذِمّی کے مال پردَست درازی نہ کرے ، اس ہدایت کے اثرات تھے کہ کوئی مسلمان کسی غیرمسلم کے مال اورزمین پردَست درازی نہیں کرسکتااگرایساکرتاتواسے قرارواقعی سزاملتی تھی ۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک مسلمان ربیعہ نے ایک سرکاری ضَرورت کے تحت کسی کاگھوڑا بیگار(بِلااُجرت محض سرکاری دباؤ) میں پکڑلیااوراس پرسواری کی ۔ آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے پہلے یہ ایک معمولی بات ہوا کرتی تھی لیکن جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کواس بات کاپتہ چلاتواس عہدے دارکوچالیس کوڑے لگوائے تاکہ دوسروں کے لئے باعثِ عبرت ہو ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۱)

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html