$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی ہدایت کے مطابق ہی مقدمات کے فیصلے کئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب میرا مُوصل سے تبادلہ ہوا تو وہ پُرامن شہر بن چکا تھا جہاں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر تھیں ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۹۰)

قاضی کیسا ہونا چاہئے ؟

             مُزاحِم بن زُفر کا بیان ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو فرماتے سنا :قاضی میں پانچ خصلتیں ہونی چاہئیں :(۱) قراٰن وسنّت کا عالِم ہو(۲) حِلم والا ہو (۳) خُوددار ہو (۴) پرہیزگار ہو(۵) مشورہ کرنے والا ہو ۔ جب یہ پانچ چیزیں قاضی میں پائی جائیں تو وہ قاضی ہے ورنہ اِنصاف کے نام پر دَھبہ ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۵)

خوفِ خدا رکھنے والے کو قاضی مقرر کردیا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے زمانہ خلَافت سے پہلے سلیمان بن عبدالملک کے پاس اہلِ مِصر کا ایک وفد آیا ، جس میں ابن خُذامِرنامی ایک شخص بھی شریک تھا، خلیفہ سلیمان نے ان لوگوں سے اہلِ مغرب کے حالات پوچھے تو ابنِ خُذا مِرکے سوا سب نے وہاں کے حالات بیان کئے اور’’ سب اچھاہے ‘‘ کی رپورٹ دی ۔ جب وفد رخصت ہونے لگا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ابنِ خُذا مِر سے خاموشی کی وجہ پوچھی، اس نے کہا : جھوٹ بولتے ہوئے مجھے خدا کا خوف محسوس ہوتا ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز  نے اس واقعہ کو یاد رکھا ، یہاں تک کہ جب خلیفہ ہوئے تو’’ابنِ خُذا مِر‘‘ کو مِصر کا قاضی مقرر کر دیا ۔ (تاریخ دمشق ، ج۳۳، ص ۳۸۵)

گورنر بنانے سے پہلے ٹھوک بجا کر دیکھا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز جب کسی کوقاضی یا گورنرمقررکرتے تواس کے بارے میں تحقیق کرواکرساری معلومات جمع کرتے کہ یہ تقویٰ وطہارت میں کیساہے ؟عِلم وعمل میں اس کا کیامرتبہ ہے ؟اس کے ظاہروباطن میں کوئی فرق تو نہیں ؟یہ تحقیق اس لئے کرتے کہ کہیں آپ کسی کے ظاہِری حالات سے دھوکہ نہ کھائیں ۔ جب پوراپورااِطمینان ہوجاتاتوپھرآپ اس کوقاضی یاگورنر مقرر فرماتے چنانچہ بلال بن ابی بُردہ کوآپ نے اسی تحقیق وتفتیش سے رَدکیاتھا ۔ بلال بن ابی بردہ ایک ہوشیارذہین، ذکی اورنہایت عَقلمندشخص تھا ۔ یہ’’خَنَاصِرہ‘‘میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی خدمت میں حاضِرہوااورآپ کوان الفاظ میں خِلافت کی مُبارَکباددی :’’امیرالمومنین!اگرخِلافت کوکسی سے شرف حاصِل ہوا توآپ سے حاصِل ہواہے اوراگرخِلافت کوکسی سے زینت ملی ہو تو آپ سے ملی ہے ۔ ‘‘حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی تعریف کرنے کے بعدیہ شخص مسجدمیں گیااورایک ستون کے پاس کھڑا ہوکرنَمازپڑھنے لگا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے مُعتَمدِخاص سے کہاکہ اگراس کاباطِن بھی ظاہرکی طرح ہے تویہ واقعی عراق کاگورنر بننے کااہل ہے اوراس کی خدمات سے فائدہ اٹھاناضروری ہے ۔ رفیقِ خاص نے کہا:ابھی تحقیق کرکے اس کے مکمل حالات آپ کے سامنے پیش کرتاہوں ۔ چنانچہ وہ اسی وَقت مسجدمیں گئے اور بلال بن ابی بُردہ سے بات کاآغازاس طرح کیا:’’آپ کوپتہ ہے کہ امیرالمومنین کی نگاہ میں میراکیامقام ہے اگرمیں امیرالمومنین کے سامنے عراق کی گورنری کے لیے آپ کانام پیش کردوں توآپ مجھے کیادیں گے ؟بلال نے انہیں ضمانت دیتے ہوئے کہا:میں اس بدلے میں آپ کوبہت سا مال دوں گا ۔ انہوں نے سارا ماجرا اَمیرالمومنین کے سامنے کہہ سنایا توآپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہنے اُسے گورنر بنانے کا اِرادہ  تَر ک کر دیا اور اہلِ عراق کولکھ کر بھیجا:اس شخص کو بولناتو بہت آتا تھا مگر عَقل کم تھی ۔ (سیرتِ ابن جوزی ص۱۱۳ ملتقطاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کسی کام کا فیصلہ کیسے کرے ؟

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز    عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  نے فرمایا: اَلْاُمُوْرُ ثَلَاثَۃٌ اَمْرٌ اِسْتَبَانَ رُشْدُہٗ فَاَتْبِعْہُ ، وَاَمْرٌ اِسْتَبَانَ ضِدُّہٗ فَاجْتَنِبْہُ ، وَاَمْرٌ اَشْکَلَ فَرُدَّہُ اِلَی اللّٰہِ یعنی کام تین قسم کے ہوتے ہیں : (۱) جس کا دُرُست ہونا بالکل واضح ہو، اس کام کو کر ڈالو(۲) جس کا غَلَط ہونا یقینی ہو، اس کام سے بچواور (۳) وہ جس کا دُرُست یا غَلَط ہونا واضح نہ ہو تو ایسے کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اللّٰہ  تعالیٰ سے اِستخارہ کرو( یعنی ہدایت چاہو) ۔ (باب السلک فی طبائع الملک ، مشورۃ ذوی رأی، ج۱ ص ۶۷)

اُسی وَقت اِصلاح کرتے

            ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے کسی مقدمے کا فیصلہ سنایا تو حضرتِ سیِّدنا میمون بن مِہران رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہبھی وہیں موجود تھے ۔ جب آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے تو حضرتِ سیِّدنا میمون بن مہران رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہنے کہا: یا امیرالمؤمنین !میری رائے میں آپ نے دُرُست فیصلہ نہیں دیا ۔ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا: آپ کو اسی وَقت کہنا چاہئے تھا ۔ عَرض کی: مجھے اچھا نہیں لگا کہ لوگوں کے سامنے آپ کو شرمندہ کروں ۔ فرمایا:پھر بھی آپ کو کہہ دینا چاہئے تھا تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ بادشاہی حق کی ہے ۔  (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۰۰)

نصیحت کرنے کا حق

            حضرت سیِّدُنا میمون بن مِہران علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز    عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے مجھے تاکید کی :قُلْ لِیْ فِیْ وَجْہِیْ مَا اَکْرَہُ فَاِنَّ الرَّجُلَ لَا یَنْصَحُ اَخَاہُ حَتّٰی یَقُوْلَ لَہ ٗ فِیْ وَجْہِہٖ مَا یَکْرَہُ  یعنی جو بات مجھے ناپسند ہووہ میرے منہ پر کہہ دیا کریں کیونکہ انسان اپنے بھائی کو اُس وَقت تک حقیقی معنوں میں نصیحت نہیں کرسکتا جب تک اس کے سامنے ناگوار گزرنے والی بات کہنے  کی ہمت نہ رکھتا ہو ۔ (باب السلک فی طبائع الملک ، مشورۃ ذوی رأی، ج۱ ص ۷۱)

میرے غیر شَرعی  حُکم کو دیوار پر دے مارنا

            حضرتِ سیِّدنا میمون بن مہران رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے مجھے کسی چیز کی ذمّہ داری دی اور فرمایا:  اِنْ جَائَ کَ کِتَابِیْ بِغَیْرِالْحَقِّ فَاضْرِبْ بِہِ الْحَائِطَ یعنی اگر آپ کے پاس میرا کوئی غیرشَرعی حُکم آئے تو اسے دیوار پر دے مارئیے گا ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۰۰)

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html