Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآ پ نے ! حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے تُحفے کے سیب قَبول فرمانے سے اِنکار کر دیا کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ یہ تُحفہ بحیثیتِ خلیفۂ وَقت دیا جارہا ہے اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو کوئی کیوں دیتا؟ اور یہ بات تو ہر ذی شُعُور آدَمی سمجھ سکتا ہے کہ وُزَراء ، قومی وصُوبائی اِسمبلی کے ممبران یا دیگر حُکومَتی افسران و منتخب نُمائندگان نیز جج صاحِبان حتّٰی کہ پولیس وغیرہ کو لوگ کیوں تُحفہ دیتے ہیں اور ان کی کس سبب سے خصوصی دعوتیں کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے یا تو ’’کام‘‘  نکلوانا مقصود ہوتا ہے یا یہ ذِہن ہوتا ہے کہ آیَندہ اس کی ضَرورت پڑنے کی صُورت میں آسانی سے ترکیب بن جائے گی ۔ ان دونوں وُجوہات کی بناپر ایسے لوگوں کو تُحفہ دینا اور ان کی خُصُوصی دعوت کرنا رِشوت کے  حُکم  میں ہے اور رِشوت دینے اور لینے والا جہنَّم کا حقدار ہے ۔ ایسے موقع پر عیدی، مٹھائی،  چائے پانی یا خوشی سے پیش کر رہا ہوں ، مَحَبَّت میں دے رہا ہوں وغیرہ خوبصورت  الفاظ رِشوت کے گناہ سے نہیں بچا سکتے ۔ اگر چِہ واقِعی اخلاص کے ساتھ پیش کیا گیا  ہو اوررشوت کی کوئی صورت نہ بنتی ہوتب بھی ایسوں کا اپنے ماتَحتوں سے تُحفہ یاخُصُوصی  دعوت قَبول کرنا ’’ مَظِنَّۂ تُہمت ‘‘ یعنی تُہمت کی جگہ کھڑا ہونا ہے ، جبکہ سردارِ مکّہ مکرّمہ ،  سلطانِ مدینۂ منوّرہ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکافرمانِ حفاظت نشان ہے ، جو اللّٰہ  تعالیٰ اور آخِرت پر ایمان رکھتا ہو وہ تہمت کی جگہ کھڑا نہ ہو ۔ (کشف الخفاء ج۲ص ۲۲۷  حدیث ۲۴۹۹) اس لئے یہاں مَظِنَّۂ تُہمت سے بچنا واجِب ہے لہٰذا دینا بھی ناجائز اور لینا بھی نا جائز ۔ ہاں اگر عُہدہ ملنے سے قَبل ہی آپس میں تحائف کے لین دین اور خُصُوصی دعوت کی ترکیب تھی تواب حرج نہیں مگر پہلے کم تھا اور اب مقِدار بڑھا دی تو زائد حصّہ ناجائز ہو جائیگا ۔ اگر دینے والا پہلے کی نسبت مالدار ہو گیا ہے اور اُس نے  اس وجہ سے بڑھایا ہے تو لینے میں حرج نہیں ۔ اسی طرح پہلے کے مقابلے میں اب جلدی جلدی خُصُوصی دعوت ہونے لگی ہے تب بھی ناجائز ہے ۔ اگر دینے والا ذَوِی الْاَر حام یعنی خونی رِشتے والوں میں سے ہے تو دینے لینے میں حرج نہیں ۔ (والِدَین ، بھائی ، بہن، نانا، نانی، دادا، دادی، بیٹا، بیٹی، چچا، ماموں ، خالہ، پھوپھی، وغیرہ مَحرم رشتے دار ہیں جبکہ پھوپھا، بہنوئی ، چچی، تائی، مُمانی، بھابھی، چچا زاد، پھوپھی زاد، خالہ زاد، ماموں زاد وغیرہ ذی رِحم یعنی مَحْرَم رشتہ داروں سے خارِج ہیں )   مَثَلاً بیٹا یا بھتیجاجج ہے اس کو والِد یا چچا نے تُحفہ دیا یا خُصُوصی دعوت دی تو قَبول کرنا جائز ہے ۔ ہاں بِالفرض باپ کا مقدّمہ جج بیٹے کے یہاں چل رہا ہو تو اب مَظِنَّۂ تُہمت کی وجہ سے ناجائز ہے ۔ بیان کردہ اَحکام صِرف حُکومَتی افراد کیلئے ہی نہیں ہر سماجی ، سیاسی اور مذہبی لیڈر وقائد کیلئے بھی ہیں ۔ حتّٰی کے دعوتِ اسلامی کی تمام تنظیمی مجالِس کے جملہ نگران و ذمّہ داران بھی اپنے اپنے ماتحتوں سے تُحفہ یا خُصُوصی دعوت قَبول نہیں کر سکتے ۔ چھوٹا ذمّہ دار اپنے سے بڑے ذمّہ دار سے قَبول کر سکتا ہے ۔ مَثَلاً دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا رکن، نگرانِ شوریٰ سے قَبول سکتا ہے مگر دیگر دعوتِ اسلامی والوں سے قَبول نہیں کر سکتا اور نگرانِ شوریٰ اپنے کسی بھی ماتحت دعوتِ اسلامی والے کا تحفہ نہیں لے سکتا ۔ مدرِّس اپنے شاگِردوں یا اُس کے سرپرست کا بِلا اِجازتِ شَرعی تحفہ نہیں لے سکتا ۔ ہاں تعلیم سے فراغت کے بعد اگر شاگِرد تُحفہ یا خُصُوصی د عوت دے تو قَبول کر سکتا ہے ۔ وہ عُلَماء و مشائخ جن کو لوگ عِلم و فَضل کی تعظیم کے سبب نذرانے پیش کرتے ہیں اور وہ قَبول بھی کرتے ہیں اور لوگ ان پر رشوت کی تُہمت بھی نہیں لگاتے چُنانچِہ ایسے حضرات کا تُحفہ قَبول کرنا مَظنَّۂ تُہمت سے خارج ہونے کی وجہ سے جائز ہے ۔

سود و رشوت میں نُحُوست ہے بڑی

نیز دوزخ میں سزا ہوگی کڑی(وسائل بخشش ص۶۶۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قلم باریک کر لو

            آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے دفتری اَخراجات میں کمی کردی، دفتر کے لئے بیت المال سے کاغذ کے لئے جو رقم ملتی تھی، اس کی نسبت گورنرابوبکر بن حزم کو لکھا کہ قلم کو باریک کرلو اور سطریں قریب قریب لکھو اور تمام ضروریات میں کفایت شعاری سے کام لو کیونکہ میں مسلمانوں کے خزانے میں سے ایسی رقم  صَرف کرنا پسند نہیں کرتا جس کا فائدہ ان کو نہ پہنچے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۱)

شمع کی جگہ چراغ جلاؤ

             حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے ابوبکر بن حَزم جومدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً کے گورنر تھے ، لکھا :اما بعد! میں نے تمہارا وہ خط پڑھا جو تم نے سلیمان بن عبدالملک( خلیفۂ سابق) کو لکھا تھا ، اس میں تھا کہ تم سے پہلے گورنروں کوشمع کی مَد میں اتنی رقم ملتی تھی جس سے وہ اپنی آمدورفت کے راستوں میں روشنی کا اِنتظام کرتے تھے ۔ ( سلیمان کا چونکہ اِنتقال ہوچکا ہے اس لئے ) اس کے  جواب کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے ، اے ابوبکر ! مجھے تمہارا وہ وَقت اچھی طرح یاد ہے جب تم سردیوں کی  سَخت اندھیری راتوں میں روشنی کے بغیر اپنے گھر سے نکلتے تھے ، آج تمہاری حالت اس دن سے کہیں زیادہ بہتر ہے ، لہٰذا اپنے گھر کے چراغوں سے کام چلاؤ ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۰)

 عَدل کا قلعہ بنا دو

            ایک گورنر نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی خدمت میں خط لکھا: ہمارا شہرخَستہ حال ہوچکا ہے ، عمارتیں ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اگر امیرُالمُؤمنین کی اِجازت ہو تو کچھ رقم مخصوص کرکے اس کی اَزسرنَو تعمیر ومرمت کردیں ؟آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جواب میں لکھا:حَصِّنْھَا بِالْعَدْلِ ، وَنَقِّ طُرُقَھَا مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّہٗ مُرَمَّتُھَا یعنی تم اپنے شہر کو  عَدل کا قلعہ بنالواور اس کے راستوں کو  ظُلم سے پاک کرو، یہی اس کی تعمیرومرمت ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۱۰)

گواہیوں پر فیصلہ کرو

             یحییٰ غسانی کہتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے مجھے شام کے شہر مُوصل کا حاکم مقرر کیا تو میں نے وہاں جاکر دیکھا کہ چوری اور نَقَب زَنی کی وارداتیں بکثرت ہوتی ہیں ، میں نے یہ تمام اَحوال حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکو لکھ کر بھیجے اور دریافت کیا کہ میں چوریوں کے ان مقدمات میں لوگوں کی تُہمت پر اِنحصار کرکے اپنی رائے کے مطابق سزادوں یا گواہیوں پر فیصلہ کروں ؟ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جواباً تحریر فرمایا: گواہیوں پر فیصلہ کرو ، اگر حق و عَدل نے اُن کی اِصلاح نہیں کی تو رب تعالیٰ کبھی ان کی اِصلاح نہیں فرمائے گا ۔



Total Pages: 139

Go To