$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بندوں کے ہاتھوں کوئی عذاب نازل کرے تب بھی یہ ضرورہوگاکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ارتکابِ گناہ میں مُبتَلاان لوگوں پرخوف وہراس اورذِلّت  مُسَلَّط کردے گا، بسااوقات وہ ایک فاجِرسے دوسرے فاجِرکے ذریعہ اورایک ظالم سے دوسرے ظالم کے ذریعہ اِنتقام لیتا ہے ، پھر دونوں فریق اپنے اَعمالِ بدکے ساتھ جہنم رسیدہوجاتے ہیں ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی پناہ کہ ہم ظالم یا ظالموں کے  ظُلم پر خاموش رہنے والے بنیں ، مجھے یہ خبرملی ہے کہ تمہارے ہاں بدکاری عام ہورہی ہے اورفاسِق وبدکار شہروں میں مامون اوربے خوف ہیں اوروہ علانیہ حرام اور جہنم میں لے جانے والے کاموں کااِرتکاب کرتے ہیں ، یہ بات اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کونہایت ناپسندہے اوروہ اس پر چَشم پوشی کوبرداشت نہیں کرتا ۔

            واللّٰہ! اہل محارم پرہاتھ اورزَبان سے سختی کرنااوران کی خاطر مَشَقَّتیں برداشت کرنابھی جِہَاد فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ ہی کاایک شعبہ ہے ، خواہ وہ باپ ہوبیٹے ہوں یاقبیلے اوربرادری کے لوگ ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کاراستہ، اس کی فرمانبرداری ہے ۔ مجھے یہ خبرپہنچی ہے لوگ، مَلامت کے اندیشہ سے اَمْربِالْمَعْرُوْف اور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر(یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے روکنے ) میں سُستی کرتے ہیں تاکہ لوگ اُنہیں خوش اَخلاق، بے تکلُّف اور صِرف اپنی فِکرکرنے والاسمجھیں ، مگریہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے نزدیک خوش اخلاق نہیں بداَخلاق ہیں اورانہوں نے اپنی فِکرنہیں کی بلکہ اپنے آپ سے منہ پھیرلیا ہے اوریہ تکلف سے بَری نہیں بلکہ اس میں بُری طر ح گھرچکے ہیں ، کیونکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے اَمْربِالْمَعْرُوْف اورنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر کے  حُکم سے جوحالت ان کے لئے تجویزکی تھی اسے چھوڑکرانہوں نے دوسری رَوِش اِختیارکرلی ہے ۔ ہاں !بہت سے لوگوں کی زَبان پرایک آیت باربارآتی ہے ، جسے وہ بے محل پڑھتے ہیں اوراس کی غَلَط تاویل کرتے ہیں یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کایہ اِرشاد:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ-۷، المائدہ ۱۰۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو تم اپنی فِکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو ۔

            بلاشبہ کسی گمراہ کی گمراہی ہمارے لئے مُضِرنہیں جب کہ ہم ہدایت پر ہوں ، نہ کسی کی ہدایت ہمارے لئے  مُفِیدہے جبکہ خدانخواستہ ہم گمراہ ہوں ، کوئی کسی کابوجھ نہیں اٹھائے گا ، مگر جوچیزخوداپنی ذات پراوران لوگوں پرلازِم ہے اس پرامربالمعروف اورنہی عن المنکرکا حُکمبھی تو شامل ہے ، یعنی جب کچھ لوگ حرام کااِرتکاب کریں توخواہ وہ کوئی ہوں اورکہیں رہتے ہوں مگرلازِم ہے کہ ان کا بدلہ لیاجائے ۔ جولوگ یہ کہتے ہیں کہ’’ہمارے لئے اپنامشغلہ کافی ہے ‘‘اوریہ کہ ’’ہمیں لوگوں سے کیاپڑی؟ ‘‘اگرسب اسی نظریئے پرچل پڑیں تونہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے کسی  حُکم پرعمل ہوگانہ کسی معصیت سے بچاؤکی کوئی صورت ہوگی، نتیجہ یہ نکلے گاکہ باطِل پرست، حق پرست پرغالب آجائیں گے اوریہ دنیاانسانوں کی نہیں بلکہ چوپایوں اور جانوروں کی ہوجائے گی ۔

            اس لئے فاسِقوں پرتسلُّط رکھوخواہ تمہاری اوران کی حیثیت کیسی بھی ہو، اپنی سچائی سے ان کے باطِل کواوراپنی بینائی سے ان کے اندھے پن کودورکرو، کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے فاجراوربدکاروں کے مقابلے میں نیکوکاروں کوکُھلا غلبہ دیاہے اوراُن پراِن کادَبدَبہ رکھاہے ، خواہ یہ نہ حاکم ہوں نہ رئیس اورجو شخص اپنے ہاتھ اوراپنی زَبان سے برائی کوروکنے سے عاجزہواسے امام(خلیفہ) سے کہناچاہیئے کیونکہ یہ بھی نیکی اورتقویٰ میں تعاوُن کی ایک صورت ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۷)

عطا کردو مجھے اسلام کی تبلیغ کا جذبہ

             میں بس دیتا پھروں نیکی کی دعوت  یارسولَ اللّٰہ(وسائل بخشش ص۱۴۷)

غیرمسلموں کی مَناصِب سے معزولی

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے عُمَّال(یعنی گورنروں ) کولکھا:امابعد:مشرکین ناپاک ہیں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے ان کوشیطان کا لشکرٹھہرایاہے اورانہیں ایسے لوگ قراردیاہے جواَعمال کے لحاظ سے سراسر خسارے میں ہیں ، جن کی ساری محنت دُنیوی زندگی میں کھپ گئی اوروہ بزعمِ خوداچھے کام کر رہے ہیں ۔ واللّٰہ!یہ وہ لوگ ہیں جن پران کی محنت کی وجہ سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اورلعنت کرنے والوں کی لعنت پڑتی ہے ۔ گذشتہ دورمیں مسلمان جب ایسی بستی میں جاتے جہاں مُشرِک آبادہوتے ، توان سے (بھی کاروبارِمملکت میں ) مدد لیا کرتے تھے کیونکہ یہ لوگ تحصیلداری، کتابت اورنظم ونَسَق سے واقِف ہوتے تھے اوراس سے مسلمانوں کومدد ملتی تھی مگراب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے امیرالمومنین کے ذریعہ یہ ضَرورت پوری کردی، اس لئے اگر تمہارے زیرسلطنت علاقے میں کوئی غیرمسلم کاتب (کلرک) یاکوئی اورمَنصَب دارہوتواُسے معزول کرکے اس کی جگہ مسلمانوں کومقررکرو کیونکہ غیرمسلموں کے عہدے اورمَنصَبکامٹانادرحقیقت ان کے دینوں کامٹانا ہے ، حقارت وذلت کاجومقام اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے ان کے لئے تجویزکیاہے انہیں اُسی مقام پر رکھنامناسب ہے ، اس لئے اس  حُکمکی تعمیل کرو اوراپنی کارگزاری کی اِطلاع مجھے دواوردیکھوکوئی نصرانی زِین پرسوارنہ ہوبلکہ وہ پالان پرسوارہواکریں ۔ ان کی کوئی عورت اُونٹ کے کَجاوے میں سوارنہ ہوبلکہ پالان پربیٹھیں اوریہ لوگ چوپاؤں پر ٹانگیں کُشادہ کرکے نہ بیٹھیں ، بلکہ دونوں پاؤں ایک طرف کوکرکے بیٹھیں اوراس سلسلے میں اپنے تمام ماتحت افسران کوبھی پابندکرواورانہیں سختی سے اس کی تاکید کرو، میرے لئے  صِرف تمہیں لکھناکافی ہونا چاہیے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۵)

نومسلِم پرجِزیہ نہیں

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے دل میں یہ جذبہ مَوجزَن رہتاتھاکہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے اورلوگ راہِ  کُفر چھوڑکرصحیح راہ پرگامزَن ہوجائیں ۔ آپ نہا یت زوروشورسے علماء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلاماور اپنے  گورنروں کولکھتے کہ :’’ذِمّیوں کواسلام کی خوب دعوت دو ۔ ‘‘(طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۰۱) ذِمّیوں کے مسلمان ہونے کی صورت میں اگرکوئی گورنرجزیے کی آمدنی کم ہونے کی وجہ سے خزانہ خالی ہونے کی شکایت کرتاتوآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اسے ڈانٹ دیتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپ نے گورنرعبدالحمیدبن عبدالرحمن کولکھا:’’تم نے مجھے لکھاہے کہ حیرہ کے بہت سے یہودی، عیسائی اورمَجوسی مسلمان ہوگئے ہیں اور ان کے ذمے جِزیہ( شرعی محصول) کی بھاری رقم واجبُ الاداہے ، تم نے اُن سے جِزیہ وُصول کرنے کی اِجازت طَلَب کی ہے ۔ یادرکھو!اللّٰہتعالیٰ نے رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوخیر کی دعوت دینے والابناکربھیجاہے جِزیہ وُصول کرنے والا بنا کرنہیں بھیجا لہٰذا اگرغیرمسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں توان کے



Total Pages: 139

Go To
$footer_html