Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ڈرایا اور مجھ پر ایک دشمن ( شیطان) مُسَلَّط کیا، میں اگر برائی کا قَصد کرتا ہوں تو وہ مجھے ہمت دلاتا ہے اور اگر نیکی کا اِرادہ کرتا ہوں تو حوصلہ شِکنی کرتا ہے ، میں غافِل ہوجاتا ہوں مگر وہ چوکَنَّا رہتا ہے اور میں بھول جاتا ہوں مگر وہ نہیں بھولتا، وہ مجھے شہوتوں میں لاکھڑا کرتا ہے اور مجھے شبہات میں ڈالتا ہے اگر تو اس کے مَکروفریب سے میری حفاظت نہ فرمائے گا تو مجھے وہ پُھسلا کررہے گا ۔ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !تُو اسے مغلوب کردے ا ور مجھے کثرت ذِکر کی توفیق دے کر اسے ذلیل کردے تاکہ میں ان پاکیزہ لوگوں کی صحبت میں کامیابی حاصِل کروں جوتیری توفیق کے طُفَیل شیطان کے شَر سے محفوظ ہیں ، برائی سے بچنے اور نیکی پر جمنے کی توفیق تیری ہی جانب سے ہے ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۹۴)

            {11}جب کبھی کسی نعمت پر نگاہ پڑتی تو یہ دُعا مانگا کرتے :اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُبَدِّلَ کُفْراً اَوْ اَ کْفَرَ بِھَابَعْدَ مَعْرِفَتِھَا اَوْاَنْسَاھَا فَلَااَثْنٰی بِھَا یعنی  یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں ناشکری کروں یا میں اس نعمت کو پہچاننے کے بعد اس کا انکار کروں یا میں اس نعمت کو فراموش کردوں اور اس پر تیری حمد وثنا نہ کروں ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۲۸) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیر المؤمنین کی ذمّہ داران پر اِنفِرادی کوشِشیں

ایک اہم مکتوب

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے حُکومتی ذمّہ داران کے نام ایک اہم خط تحریر فرمایاتھا، جس میں ہمارے لئے بے شمار مَدَنی پھول ہیں ، چنانچہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہلکھتے ہیں :اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے عمر بن عبدالعزیز ، امیرُ المُؤمنین کی طرف سے اُمرائِ لشکر کے نام  اَ مَّابَعْد! جو شخص حکمرانی و سلطنت میں  مُبتَلا ہوا اُسے بہت سی ناگواریوں اور بڑی مصیبتوں وآزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے اگر وہ ایک دن پیش نہ آئیں تو دوسرے دن لازِماً پیش آکر رہیں گی، صاحبِ سلطنت سے بڑھ کر کوئی شخص اپنے نفس کی جانب سے مشغول اور کَج رَوِی کے دَرپَے نہیں ہوتا اِلَّا یہ کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  ہی کسی کو عافیت میں رکھے اور اس پر اپنا رحم فرمائے ، اس لئے جتنا  ہوسکے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہو اور اپنے اس مَنصَب کو جس پر تم فائز ہو اور ان ذمہ داریوں کو جو تم پر ڈالی گئی ہیں ہمیشہ ذہن میں رکھو، اپنے نفس سے اسی طرح جہاد کرو جس طرح کہ تم اپنے دُشمن سے لڑتے ہو اور جب کوئی ناگوار معاملہ پیش آئے تواپنے نفس کو اس پر ثابت قدم رکھو محض اُس ثواب کی خاطر جو اِس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے یہاں ملے گا اور جس کا وعدہ مُتَّقِین سے موت کے بعد کیا گیا ہے ، جب تمہارے پاس کوئی ایسا جاہِل اور نادان فریق آئے جس کا معاملہ تقدیرِ الہٰی نے تمہارے سِپُرد کردیا ہے اور تم اس کی جانب سے بَدخُلقی اور بدتمیزی کا مظاہرہ دیکھو تو جہاں تک ممکن ہواسے راہِ راست پر لانے کی کوشِش کرو، اس سے نَرمی کا برتاؤ کرو اور اسے سمجھاؤ پس اگر وہ سمجھ جائے اور عِلم و بصیرت سے کام لینے لگے تو یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے اِنعام و فَضل ہوگا اور اگر اسے عِلم وبصیرت حاصِل نہ ہوسکے تو تم نے حُجت توپوری کردی ۔ اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ اس نے ایسے گناہ کا اِرتکاب کیا ہے جس کی وجہ سے وہ سزا کا مُستَحِق ہے تو اسے اپنے نفسیاتی غیظ و غَضَب کی بناء پر سزا نہ دو بلکہ خوب غور و فِکر کے بعد یہ دیکھو کہ اس کا گناہ کتنا ہے اور بتقاضائے اِنصاف اِس پر اُسے کتنی سزا ملنی چاہیے ، سزا گناہ کے بقَدَر ہونی چاہئے اگر گناہ کی سزا صِرف ایک کوڑا بنتی ہے تو ایک ہی کوڑا لگاؤ اورا گر گناہ اس سے بڑا ہے اور تمہارے خیال میں وہ اس کی سزا میں قَتل کا یا اس سے کم سزا کا مُستَحِق ہے تواسے فی الحال جیل بھیج دو ۔ اس بات کاخوب خیال رکھو کہ جو لوگ تمہاری مجلس میں آتے ہیں کہیں ان کی حاضِری تمہیں ملزَم کی سزا میں جلدی کرنے پر آمادہ نہ کرے ، کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ حاکم محض اپنے ہم نشینوں کی موجودگی میں شہریوں کو اَدَب سکھانے اوراُن کو مَرعوب کرنے کی خاطِر سزائیں جاری کرتا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں کہ وہ حاکِم کے کسی فیصلے کو سنے اور پھر اس کے پاس اپنی خواہش کے مُوافِق مختلف سِفارشیں لے کر نہ آئے البتہ اس سے وہ لوگ مُستَثنیٰ ہیں جن پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا رحم ہو، کیونکہ جن لوگوں پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے رحم فرمایا ہووہ حق و اِنصاف کے فیصلے میں اختلاف نہیں کرتے ، حق تعالیٰ کا اِرشاد ہے : وَ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ(۱۱۸) اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَؕ- (ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا ۔ (پ ۱۲، ہود :۱۱۸، ۱۱۹)

             اگر کوئی معاملہ مجہول اور مُبہَم ہو تو اُس کی اچھی طرح تحقیق کرلو، اور جب تمہارے گِرد و پیش کے لوگ یہ دیکھیں کہ تم اپنی رِعایا کے کسی بے وقوف آدمی کے ساتھ جس نے حماقت یا غَلَطی کی ہو کیا برتاؤ کرتے ہو تو اس کے بارے میں وہ فیصلہ کرو جو تمہارے نزدیک زیادہ اِنصاف پر مبنی ہو اور جو موت کے بعد تمہارے لیے بہتر ہو ، محض لوگوں کا تم کو دیکھنا اور تمہارے کارناموں کا  تَذکِرہ کرنا تمہارے لئے اِترانے کا باعث نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ جو بات بھی ان کے دل میں ہو خواہ وہ اسے پسند کریں ، یا ناپسند ، کم و بیش اسے ظاہر کرکے رہتے ہیں ۔ تم ہر اس دن اور رات کو غنیمت سمجھو جو عافیت وسلامتی سے گزر جائے اور کسی کو ناجائز سزا دینے کا و بال تمہاری گردن پر نہ ہو اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے اپنے اور اپنی رِعایا کے لئے بکثرت عافیت کی دُعا کیا کرو، کیونکہ رِعایا کے ٹھیک ہونے سے جو فائدہ تمہیں حاصِل ہوگا وہ ان میں سے کسی کو بھی حاصِل نہیں ہوگا اور رِعایا کے  صِرف ایک آدمی کے بگاڑ سے جو تمہیں نقصان ہوگا وہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں ہوگا، اگر تم نے رِعایا سے بھلائی کی یا ان کی اِصلاح ودُرُستی کی تو اس سے صِلہ مت چاہو، اگرر عایا کے لئے تم نے کوئی نیک عمل اور اچھا کارنامہ اَنجام دیا ہو تو ان سے جزا و ثواب کی خواہش رکھو نہ کسی مَدح و ثنا اور مادّی منفعت کی بلکہ جزا و ثواب کی توقع  صِرف رب تعالیٰ سے رکھی جائے جو ہر خیر کو عطا کرنے اور شَر کودور کرنے والاہے ۔ اورہاں ! اپنے دربان، پولیس اور تمام ماتحت حکام پر کڑی نظر رکھو، وہ تمہارے زیرِدست کسی قسم کا  ظُلم اور دھاندلی نہ کرنے پائیں ، ان کے بارے میں لوگوں سے بکثرت دریافت کرتے رہو ۔ پس ان میں سے جو شخص نیک سیرت ثابت ہواِس میں اُسی کا فائدہ ہے اور جو شخص بدخصلت ہو اسے ہٹا کر اس کی جگہ کسی اچھے آدمی کو رکھو ۔

            ہم  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے اس کی رحمت اور اس کی قدرت کا و اسطہ دے کر سوال کرتے ہیں کہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے ، ہمارے تمام کامو ں کو آسان کردے ، نیکی و تقویٰ اور اپنے پسندیدہ کاموں کے لیے ہمارے سینے کھول دے ، تمام ناپسندیدہ کاموں سے بچائے رکھے اور ہمیں ان متقیوں میں شامل کرے جن کا اَنجام بخیر ہے ۔ والسلام علیک  (سیرت ابن عبدالحکم ص۷۳)

 



Total Pages: 139

Go To