Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

مصروفیات کے باعث روایتِ حدیث پرزیادہ  توجُّہ نہیں دے سکے ، یہی وجہ ہے کہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے بہت کم احادیث مَروِی ہیں ، حافظ باغندی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے ’’مُسنَد عمر بن عبدالعزیز ‘‘ کے نام سے ایک مجموعہ بھی ترتیب دیا ہے ۔ بہرحال حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے مَروِی احادیث میں سے 6 روایتیں بطورِبرکت یہاں درج کی جارہی ہیں :

(۱)  نیکی کی دعوت چھوڑنے کا اَنجام

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت کی ہے کہ انہوں نے سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار، شہنشاہِ اَبرار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’لَتَأْمُرَنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوَنَّ عَنِ الْمُنْکَرِ اَوْ لَیُسَلَّطَنَّ عَلَیْکُمْ عَدُوٌّ مِنْ غَیْرِکُمْ تَدْعُوْنَہُ ٗفَلَایَسْتَجِیْبُ لََکُمْ یعنی تم ضرور بھلائی کی دعوت دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ تم پر باہَر سے ایسادشمن مُسَلَّط کردیاجائے گاکہ تم اس کے خلاف دعا کروگے مگر تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۸)

نہ ’’نیکی کی دعوت‘‘ میں سستی ہو مُجھ سے

بنا شائقِ قافِلہ یاالہٰی(وسائل بخشش ص۷۵)

(۲)  پسندیدہ نوجوان

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے حضرتِ سیِّدُنا  عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے کہ نبیِّ اکرم، رسولِ مُحتَشَم  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:’ ’اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الشَّابَّ الَّذِیْ یُفْنِیْ شَبَابَہٗ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ یعنی بیشک اللّٰہ تعالیٰ اس نوجوان کو پسند فرماتاہے جس نے اپنی جوانی اللّٰہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں بسرکی ہو ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۹) ؎

ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت

جوکرنا ہے اب کرلو ابھی نُوریؔ جواں تم ہو

(۳)  محبت ِرمضان

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامِت  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت کی کہ بیشک جب رمضان آتا تو رسولِ ہاشِمی، مکّی مدنی، محمدِ عَرَبیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم دعا کرتے :’ ’اَللّٰھُمَّ سَلِّمْنِیْ لِرَمَضَانَ وَسَلِّمْ لِیْ رَمَضَانَ وَتُسَلِّمہ مِنِّیْ مُقْبِلًایعنی اے اللّٰہ مجھے رمضان کے لئے سلامت رکھ اور رمضان کو میرے لئے سلامتی بنا اور میر ی طرف سے اسے بطورِ ضامِن قبول فرما ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۲۱)

تجھ پہ صدقے جاؤں رَمَضاں !تُو عظیمُ الشّان ہے                   کہ خدا نے تجھ میں ہی نازِل کیا قرآن ہے

ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں                   ماہِ رَمَضاں رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے

(وسائلِ بخشش ص۵۵۳)

(۴)  حالتِ جُنُب میں سونا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے اورانہوں نے امُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاسے روایت کی :’’کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِذَا اَرَادَ اَنْ یَّنَامَ وَھُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وُضُوْ ءَ ہُ لِلصَّلَاۃِیعنی جب رسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم حالت جنب میں سونے کا اِرادہ فرماتے تو نما ز کا سا وُضو کرتے ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۲۷)

(۵)  ذِکرُ اللّٰہ نہ کرنے پر حسرت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے حضرتِ سیِّدُنا عُروہ بن زُبیر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے اورانہوں نے امُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاسے روایت کی کہ انہوں نے اللّٰہ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’مَامِنْ سَاعَۃٍ تَمُرُّ ِبابْنِ اٰدَمَ لَمْ یَکُنْ ذَاکِراً لِلّٰہِ فِیْھَا بِخَیْرٍاِلَّا حَسِرَ عَلَیْھَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ  یعنی ابن آدم پر کوئی ایسی گھڑی نہیں گزرتی جس میں وہ بھلائی کے ساتھ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کاذِکر نہ کرے مگر قیامت کے دن اس پر اُسے نَدامت ہوگی ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۲۷) ؎

رہے ذِکر آٹھوں پَہَر میرے لب پر

تِرا یاالٰہی تِرا یاالٰہی(وسائل بخشش ص۷۷)

(۶)  اسلام کا خُلق حیا ہے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے حضرتِ سیِّدُنا امام زُہری  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے ، انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا ابن مالک  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت کیا کہ رحمتِ عالم ، نُورِ مجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِرشاد فرمایا :’’اِنَّ لِکُلِّ دِیْنٍ خُلُقاً وَاِنَّ خُلُقَ الِْا سْلَامِ اَلْحَیَاءُ  یعنی بے شک ہر دین کا ایک خُلق ہوتا ہے اور اسلام کا خُلق حیا ہے ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۳۱)

اُٹھے نہ آنکھ کبھی بھی گناہ کی جانب

                        عطا کرم سے ہو ایسی مجھے حیا یاربّ(وسائل بخشش ص ۹۹)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شادی خانہ آبادی

            امیرُالمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز طَبعاً صالح اور نیک تھے ، شاید یہی وجہ تھی کہ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کے چچا خلیفہ عبدالملک نے ہمیشہ ان کو دیگر اُموی



Total Pages: 139

Go To