Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

تو اگلی آیت :

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ(۱۴) ۳۰، التکویر :۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان:ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضِر لائی ۔

نہ پڑھ سکے توفِکرآخِرت سے مغلوب ہوکر رودئیے ، مسجد میں موجود لوگ بھی رونے لگے یہاں تک کہ آہ وبُکاسے مسجد گونجنے لگی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۸)

خلیفہ کا اثر رِعایا پر

            مشہور ہے کہ’’ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ‘‘ ، اسی طرح حکمرانوں کے طَرزِ زندگی کا اثر رِعایا پر بھی پڑتا ہے ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی عِبادت ورِیاضت کا رنگ عوام میں بھی منتقل ہوا چنانچہ ایک بزرگ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :خلیفہ ولید بن عبدالملک عمارات وغیرہ کا بانی تھا ، لوگ جب اس کے زمانے میں آپس میں ملتے تھے تو  صِرف عمارتوں کو بنانے خریدنے کے بارے میں ہی گفتگو ہوتی تھی ، پھر جب سلیمان بن عبدالملک کا دور آیا تو وہ کھانے پینے اور نکاح کا شوقین تھا اس لئے اس کے عہد میں لوگ شادیوں اور کنیزوں کی باتیں کیا کرتے اور جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکا دَورِ مُبارَک آیا تو آپ نے اپنی حکومت کا ستون رُوحانیت کو بنایا چنانچہ اس وَقت جب لوگ آپس میں ملتے تو عبادات کے بارے میں ہی گفتگو ہوتی اور وہ ایک دوسرے سے پوچھتے کہ تم کونسا وظیفہ پڑھتے ہو؟ تم نے کتنا قرآن پاک یاد کر لیا ؟ تم قرآن کریم کب ختم کرو گے ؟ اور کب ختم کیا تھا؟ اور مہینے میں کتنے روزے رکھتے ہو؟وغیرہ وغیرہ (البدایۃ والنھایۃ ج۶ ص۲۹۹ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مناجاتِ عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز

            {1}اَللّٰھُمَّ رَضِّنِیْ بِقَضَائِکَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ قَدْرِکَ حَتّٰی لَا اُحِبَّ تَعْجِیْلَ مَااَخَّرْتَ وَلَاتَاخِیْرَ مَاعَجَّلْتَیعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! تُو مجھے اپنی قضا پر راضی رہنے والا بنا اور اپنی تقدیر میں مجھے بَرَکت عطا فرما یہاں تک کہ جس چیز کو تو مؤخر کردے میں اس کی تعجیل کو پسند نہ کروں اور جو کچھ تو مجھے جلدی دے میں اس کی تاخیر کو پسند نہ کروں ۔

            آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرمایا کرتے تھے :یہ دُعا مجھے اس قَدَر راسخ ہوگئی ہے کہ اب میرے لیے قضا وقَدر کے علاوہ کسی چیز کی کوئی خواہش ہی نہیں رہی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۰ وسیرت ابن عبدالحکم ص۹۳)

            {2}اَللّٰھُمَّ اِنْ لَّمْ اَکُنْ اَھْلاً اَنْ اَبْلُغَ رَحْمَتَکَ فَاِنَّ رَحْمَتَکَ اَھْلٌ اَنْ تَبْلُغَنِیْ فَاِنَّ رَحْمَتَکَ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ئٍ وَاَنَا شَیْ ئٌ فَتَّسِعْنِیْ رَحْمَتُکَ یَااَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ یعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !اگرمیں تیری رحمت کا اہل نہیں ہوں مگر تیری رحمت تو مجھ تک پہنچنے کی اہل ہے کیونکہ تیری رحمت نے ہر شے کوگھیر رکھا ہے اور میں بھی ’’شے ‘‘ ہوں لہٰذا تیری رحمت مجھے بھی اپنے گھیرے میں لے لے ، یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن  عَزَّوَجَلَّ !(سیرت ابن جوزی ص۲۲۹)

            {3}اَللّٰھُمَّ اِنَّ رِجَالًا اَطَاعُوْکَ فِیْمَا اَمَرْتَھُمْ وَانْتَھَوْا عَمَّا نَہَیْتَھُمْ اَللّٰھُمَّ وَاِنَّ تَوْفِیْقَکَ اِیَّاھُمْ کَانَ قَبْلَ طَاعَتِھِمْ اِیَّاکَ فَوَفِّقْنِیْ یعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !بلاشبہ جوخوش نصیب لوگ تیرے  حُکم کی اِطاعت اور تیری نافرمانی سے بچتے ہیں ، یقینا ان کے اِطاعت کرنے سے پہلے تیری توفیق انہیں ملتی ہے ، اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  مجھے بھی (اپنی اِطاعت) کی توفیق عطا فرما ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۹)

            {4}اَللّٰھُمَّ اَصْلِحْ مَنْ کَانَ فِیْ صَلَاحِہِ صَلَاحُ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ اَللّٰھُمَّ اَھْلِکْ مَنْ کَانَ فِیْ ھَلَاکِہٖ صَلَاحُ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ یعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !ہر اس شخص کو سلامت رکھ جس کی سلامتی میں امّت سرکار کی سلامتی ہے اور ہر اس شخص کو تباہ کردے جس کی ہلاکت میں امت سرکار کی سلامتی ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۹)

            {5}اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَطَعْتُکَ فِیْ اَحَبِّ الْاَشْیَاء اِلَیْکَ وَھُوَالتَّوْحِیْدُ وْلَمْ اَعْصِکَ فِیْ اَبْغَضِ الْاَشْیَاء اِلَیْکَ وَھُوَالْکُفْرُ فَاغْفِرْ لِیْ مَابَیْنَھُمَایعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! میں نے تیری سب سے محبوب شے یعنی توحید میں تیری اِطاعت کی ہے اور تیری سب سے ناپسندیدہ شے یعنی’’  کُفر ‘‘ کے معاملے میں تیری نافرمانی نہیں کی(یعنی  کُفر کو اِختیار نہیں کیا) تو اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس میں مجھے معاف فرما دے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۰)

            {6}اَللّٰھُمّ سَلِّمْ سَلِّمْ  یعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !عافیت وسلامتی عطا فرما ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۰)

            {7} جب خانہ کعبہ میں داخل ہوتے تو یہ دُعا پڑھا کرتے :اَللّٰھُم اِنَّکَ وَعَدْتَّ الْاَمَانَ دُخَّالَ بَیْتِکَ وَانْتَ خَیْرُ مَنْزُوْلٍ بِہٖ فِیْ بَیْتِہٖ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ اَمَانَ مَاتُؤْمِنُنِیْ بِہٖ اَنْ تَکْفِیَنِیْ مَؤُوْنَۃَ الدُّنْیا حَتّٰی تَبْلُغَنِیْھَا بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَیعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !  تُو نے اپنے گھرمیں داخل ہونے والوں کے لئے امن کا وعدہ کیا ہے اورتُو اپنے گھر میں آنے والوں کے لیے سب سے بہتر مہمان نواز ہے ، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے ایسا پروانۂ امن عطا فرما جس کے ذریعہ مجھے امن وامان حاصِل ہو، وہ یہ کہ تُو دنیا کی مشقتوں سے میری کفایت فرما یہاں تک کہ یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن  عَزَّوَجَلَّ ! تُو مجھے اپنی رحمت کے طُفَیل جنت میں پہنچادے ۔

            نیز یہ دُعا کیا کرتے تھے :اَللّٰھُم اَلْبِسْنِی الْعَافِیَۃَ حَتّٰی تُھَنِّئَنِیْ الْمَعِیْشَۃُ وَاخْتِمْ لِیْ بِالْمَغْفِرَۃِ حَتّٰی لَاتَضُرُّنِی الذُّنُوْبُ وَاکْفِنِیْ کُلَّ ھَوْلٍ دُوْنَ الْجَنَّۃِ حَتّٰی تَبْلُغَنِیْھَا بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ یعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !  مجھے لباسِ عافیت عطا فرما تاکہ میری زندگی خوشگوار ہو اور بخشش پر میرا خاتمہ فرماتاکہ گناہ مجھے نقصان نہ دے سکیں اور جنت سے پہلے جتنی ہولناکیاں ہیں ان سے میری کفایت فرمایہاں تک کہ یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن عَزَّوَجَلَّ ! تُو مجھے اپنی رحمت کے طُفَیل جنت میں پہنچادے (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۴)

          {8}عرفات کے میدان میں یہ دُعا کیا کرتے تھے :اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ دَعَوْتَ اِلٰی حَجِّ بَیْتِکَ وَوَعَدْتَّ بِہٖ مَنْفَعَۃً عَلٰی شُھُوْدِ مَنَاسِکِکَ وَقَدْ جِئْتُکَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ مَنْفَعَۃً مَاتَنْفَعُنِیْ بِہٖ اَنْ تُؤْتِیَنِیْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً یعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !  تُو نے اپنے گھر کی زِیارت (یعنی حج) کے لیے بُلایا اور ان مقاماتِ عبادت کی حاضِری پر بہت سے منافع عطا کرنے کا وعدہ فرمایا، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! میں تیرے دربار میں حاضِر ہوگیا ہوں ، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !  مجھے یہ منفعت عطا فرما کہ مجھے دنیا میں بھی بھلائی ملے اور آخرت میں بھلائی ملے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۴)

            {9}اَللّٰھُمَّ لَاتُعْطِنِیْ فِی الدُّنْیَا عَطَاءً یُبْعِدُنِیْ مِنْ رَحْمَتِکَ فِی الْاٰخِرَۃِ یعنی : یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے دنیا میں ایسی چیز نہ دے جو مجھے آخرت میں تیری رحمت سے دور کردے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۴)

            {10}’’یارب عَزَّوَجَلَّ! تو نے مجھے پیدا کیا اور مجھے کچھ کاموں کے کرنے کا حُکم فرمایا اور کچھ کاموں سے منع فرمایا اور حُکم ماننے کی صورت میں مجھے ثواب کی ترغیب دی اور نافرمانی کی سزا سے



Total Pages: 139

Go To