Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            ایک شخص کا بیٹا فوت ہوگیا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی ہمراہی میں اس کے ہاں تعزیت کے لئے تشریف لے گئے ۔

  وہ شخص بڑی خاموشی سے اس صدمے کو سَہہ رہا تھا ، اس کی یہ کیفیت دیکھ کر کسی نے آواز لگائی : رِضا پر راضی ہونا تواِس کو کہتے ہیں ۔ یہ سنتے ہی حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزبول اٹھے : رِضا پر راضی ہونا کہیں گے یا صَبر کرنا؟ سلیمان نے اس کی وضاحت کی : واقعی صَبر اور رِضا میں فرق ہے ، رِضا کا مطلب یہ ہے کہ انسان مصیبت نازل ہونے سے پہلے اپنا ذہن بنائے کہ کیسی ہی مصیبت ٹوٹ پڑے میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی رِضا پر راضی رہوں گا ، جبکہ صَبر مصیبت نازل ہونے کے بعد کیا جاتا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کی اَشک باریاں پرنالے سے آنسوبہہ نکلے

            حضرتِ سیِّدُنا ابوجعفر رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہبیت المقدس کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں ایک جگہ پڑاؤکیا، ٹھیک اِسی جگہ کبھی حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے بھی قیام کیا تھا ۔ وہاں ایک راہب کی حضرتِ سیِّدُنا ابوجعفررحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے ملاقات ہوئی ۔ جب اس سے پوچھا کہ تم نے عمربن عبدالعزیز(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) میں کوئی مُنفَرِد بات دیکھی ہوتوبتاؤ ۔ راہب کہنے لگا:حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے یہاں چھت پر قیام کیا تھا ، رات کے وَقت پرنالے سے مجھ پر پانی کے چند قطرے گرے ، میں نے فوراً آسمان کی طرف دیکھا مگر وہاں  بارش کے کوئی آثار نہ تھے ، میں نے چھت پر چڑھ کر دیکھا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سجدے میں گرے ہوئے تھے ، وہ رورہے تھے اور ان کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوپرنالے کے ذریعے نیچے گر رہے تھے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۸)

داڑھی آنسوؤں سے تر تھی

            جَسْر ابوجعفر فرماتے ہیں کہ میں نے خناصرہ میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کوخطبہ دینے کے لئے منبر پر چڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی داڑھی آنسوؤں سے تَر تھی اور جب منبر سے نیچے اُترے تو بھی رو رہے تھے ۔ (موسوعہ ابن ابی الدنیا ، کتاب الرقۃ والبکاء ، ج۳، ص۱۹۱)

آنسوؤں کو غنیمت سمجھو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:اِغْتَنِمِ الدَّمْعَۃَ تُسِیْلُھَاعَلٰی خَدِّکَ لِلّٰہِ یعنی رِضائے الہٰی کے لئے اپنے رخساروں پر بہنے والے آنسوؤں کو غنیمت سمجھو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۶)

سجدہ گاہ آنسوؤں سے تَر تھی

            ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنَماز پڑھا کر فارِغ ہوئے تو لوگوں نے دیکھا کہ اُن کے سجدہ کرنے کی جگہ آنسوؤں سے تَر تھی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۸)

آنسوؤں میں خون

            حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران اور حضرتِ سیِّدُنا حَسَن بن حسین رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہما فرماتے ہیں : ہم نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو روتے ہوئے دیکھا حتّٰی کہ آپ کے آنسوؤں میں خون بہنے لگا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۹)

دُنیا کو تین طلاقیں دے چکا ہوں

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پڑوسی حضرت سیِّدُنا حارِث بن زَیدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ   فرماتے ہیں : ’’خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم!جب رات کی تاریکی چھاجاتی اور ستارے روشن ہو جاتے تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  مریض کی طرح بے چین و مُضطَرِب ہو جاتے اورغم زَدہ انسان کی طرح رونے لگتے اور فرماتے ’’اے دُنیا! تو کیوں میرا پیچھا کرتی ہے ؟ جا، مجھ سے دورہو جا، کسی اور کو دھوکا دے ، میں تو تجھے تین طلاقیں دے چکا ہوں ، اب تجھ سے رُجوع نہیں ہو سکتا ۔ تیری عمر کم ، تیری لذّتیں حقیر اورتیرے خطرات بہت زیادہ ہیں ۔ ہائے افسوس!میرے پاس زادِ راہ کم، سفر طویل اور راستہ پُرخَطَر ہے ۔ ‘‘ (الروض الفائق ، ص ۲۰۰)

سب رونے لگے

            بعض اوقات دورانِ خطبہ منبرشریف پر ایسا روتے کہ خطبہ جاری رکھنا دُشوار ہوجاتا ، چنانچہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے  دورانِ بیان سورۂ تکویر کی یہ آیات پڑھیں :

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ(۴) وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْﭪ(۵) وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْﭪ(۶) وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْﭪ(۷) وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ(۸) بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ(۹) وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ(۱۰) وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْﭪ(۱۱) وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْﭪ(۱۲) ۳۰، التکویر :۱ تا۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب پہاڑ چلائے جائیں اور جب تھلکی اونٹنیاں چھوٹی پھیریں اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں اور جب  سَمُندَر سلگائے جائیں اور جب جانوں کے جوڑ بنیں اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے :کس خطا پر ماری گئی ؟اور جب نامہِ اَعمال کھولے جائیں اور جب آسمان جگہ سے کھینچ لیا جائے ا ور جب جہنّم بھڑکا یا جائے  ۔

جب آیت 13پر پہنچے :

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْﭪ(۱۳) ۳۰، التکویر :۱۳)

ترجمۂ کنزالایماناور جب جنّت پاس لائی جائے ۔

 



Total Pages: 139

Go To