$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            بڑی عمر کا ایک شخص اپنے بھتیجے کے ساتھ حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کی خدمت میں حاضِر ہوا ۔ دونوں کا کسی بات میں تنازُع تھا، بڑے میاں پہلے پہلے تو صلح صفائی کی طرف مائل تھے ، پھر اچانک انہیں غصّہ آیا اور ان کے نفس نے انہیں قَطع رَحمی کی پٹّی پڑھائی ۔ حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے بوڑھے پر اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے فرمایا :’’ بڑے میاں ! میں نے نہ تم سے زیادہ شیریں کسی کو دیکھا نہ تم سے زیادہ تَلخ ، نہ تم سے زیادہ قریب کسی کو دیکھا نہ تم سے زیادہ بَعِید، ابھی ابھی تم صُلح صفائی کی باتیں کررہے تھے کہ اچانک تمہارے نفس نے تمہیں قطع رحمی اور  ظُلم کی راہ پر لگادیا ۔ ‘‘ بڑے میاں کی لبیں (مونچھیں ) اتنی بڑھی ہوئی تھیں کہ منہ ڈھک رہا تھا، حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے اپنے  حجام سے فرمایا :’’اسے لے جاؤ اور اس کی لبیں کاٹ کر واپَس لاؤ ۔ ‘‘ وہ لبیں بنوا کر واپَس آیا تو فرمایا :’’ دیکھو! یہ کیسی اچھی لگتی ہیں ، اس سے نَظَافت بھی حاصِل ہوتی ہے اور فطرتِ صحیحہ سے مطابقت بھی ۔ ‘‘پھر بڑی نَرمی سے فرمایا:’’ بڑے میاں ! آؤ اب اپنے بھتیجے سے صلح کرلو ۔ ‘‘ اس نے عَرض کی:’’ بہت بہتر ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے دونوں کے مابَین صلح کرادی اور ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر کہا:’’ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ ۔ ‘‘ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۳)  

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اور انہیں آپس میں محبت واِتفاق سے رہنا چاہئے مگر شیطان کو یہ کیونکر گوارا ہوسکتا ہے چنانچہ وہ مَردُ ود مسلمانوں میں پھوٹ ڈَلواتا ، لڑواتا اورقَتل وغار تگری تک کرواتا ہے ، بعض اوقات دشمنی کا سلسلہ نَسَل دَرنسل چلتا ہے ، جس سے ہوسکے ان کے بیچ میں پڑ کر صلح کروانے کی کوشِش کرے ، ہمارا پیارارب عَزَّوَجَلَّ پارہ 26 سورۂ حجرات کی دسویں آیت کریمہ میں اِرشاد فرمارہا ہے :

 اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠(۱۰) (پ ۲۶، الحجرات:۱۰)

تر جمہ کنز الایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اوراللّٰہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو ۔

صلح کرواناسنت ہے

            صلح کروانا تاجدار حرم ، نبی مکرم ، رسول محترم ، شفیع معظم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مقدّس سنت بھی ہے ، چنانچہ خزائن العرفان میں ہے ، سرکار مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم دراز گو ش پر کہیں تشریف لئے جارہے تھے کہ اَنصار کے پاس سے گزر ہوا ، وہاں کچھ دیر توقُّف  فرمایا ، اس جگہ دراز گو ش نے پیشاب کیاتو ابن ابی نے ناک بند کرلی ۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن رواحہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : سرکارِ دوعالَم  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دراز گوش کاپیشاب تیرے مُشک سے زیادہ خوشبو دار ہے ۔ تاجدارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تو تشریف لے گئے ۔ ان دونوں کی بات بڑھ گئی اور دونوں کی قومیں آپس میں لڑگئیں اور ہاتھا پائی تک نَوبت پہنچی ۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم واپس تشریف لائے اور دو نوں میں صلح کروادی ۔ اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی:

وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-۲۶، الحجرات : ۹)

ترجمہ کنزالایمان : اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ ۔

صلح کروانے کا ثواب

            حضرت ِ سیِّدُنا اَنس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: ’’مَنْ اَصْلَحَ بَیْنَ النَّاسِ اَصْلَحَ اللّٰہُ اَمْرَہُ وَاَعْطَاہُ بِکُلِّ کَلِمَۃٍ تَکَلَّمَ بِہَا عِتْقَ َرقَبَۃٍ وَرَجَعَ مَغْفُوْراً لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِیعنی جوشخص لوگوں کے درمیان صلح کرائے گااللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کا معاملہ دُرُست فرمادے گا اور اسے ہر کلمہ بولنے پر ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا اور وہ جب لوٹے گا تواپنے پچھلے گناہوں سے مغفر ت یافتہ ہوکر لوٹے گا ۔ (التر غیب والتر ھیب، کتاب الادب، الحدیث ۹، ج۳ ، ص ۳۲۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عیادت وتعزیت

             اُمراء و سلاطین عِیادت وتَعزِیَت کے لئے بہت کم گھر سے باہَر قدم نکالتے ہیں لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز دوست دُشمن کی عیادت و تعزیت کو بے تکلف جایا کرتے اور ان کو تسلی دیتے تھے ۔ چُنانچِہ ایک بار حضرتِ سیِّدُناابو قِلابہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  شام میں بیمار ہوئے تو حضرت عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ان کی عیادت کو تشریف لے گئے اور بے تکلُّفی سے کہا : یَا اَ بَاقِلَابَۃَ تَشَدَّدْ وَلَاتُشْمِتْ بِنَا الْمُنَافِقِیْنَ یعنی ابو قلابہ !چاک وچوبند ہوجائیے اور ہم پر منافقین کو ہنسنے کا موقع نہ دیجئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۰۶)

مُردہ مُردے کی تعزیت کرتا ہے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبید اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے والد صاحب کا اِنتقال ہوا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے ان کے پاس ایک تعزیت نامہ بھیجا جس میں لکھا : ’’ہم آخِرت میں رہنے والی قوم کے افراد ہیں مگرہم نے دنیا کواپنا ٹھکانا بنا لیا ہے ، ہم مُردے ہیں اورمرجانے والوں کی اولاد ہیں ، حیرت ہے ایک مُردے پر کہ وہ مُردے کو خط لکھتا ہے اور مُردے کی تعزیت کرتا ہے ۔ ‘‘(حلیۃالاولیاء ج ۵ ص۳۰۰ )

تعزیت کا انداز

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکاایک دوست فوت ہوگیاتوآپ اس کے گھروالوں کے پاس تعزیت کے لئے گئے ۔ وہ آپ کو دیکھ کر شدیدآہ وزاری کرنے لگے ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے ان سے فرمایا:دنیا سے جانے والا تمہارارازِق نہ تھا، تمہارارازِق زندہ ہے جس پرموت نہیں آنی اورمرحوم نے تمہارے نہیں بلکہ اپنے رِزق کاراستہ بندکیاہے ، اورتم میں سے ہرآدمی پر ایک دن ایسا آئے گا کہ اس کا رِزق بند ہوجائے گا ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے جب سے دنیاکوپیداکیااس کے لئے فَنَالکھ دی، اس کے باسیوں پربھی فَنَا ہونا مقرر کردیا، جویہاں جمع ہوئے بالآخر مُنتَشِرہوگئے ، اس لئے تم اپنی فِکر کرو کیونکہ جس طرف آج تمہارایہ عزیز گیاہے تم سب کل اُسی (یعنی موت کی) طرف جانے والے ہو ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۶۴)

 صَبر اور رِضا میں فرق 

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html