Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

(۱۰)  غصے کی حالت میں سزا نہ دو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اپنے ایک گورنر کو لکھا کہ غصے کی حالت میں کسی مُجرِم کو سزا مت دو بلکہ اسے قید کردو جب تمہارا غصّہ ٹھنڈا ہوجائے تو اسے اُس کے جُرم کے مطابق سزا دو ۔ (احیاء العلوم، ج۳ ص۲۰۵)

(۱۱)  بلاوجہ داغنا نہیں چاہئے

             چند خارِجی حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی خدمت میں آئے اور مُناظَرہ شروع کردیا ۔ کسی نے مشورہ دیا :یاامیرَالمُؤمنین ! اِن کو ذرا جلال دِکھا کر مَرعُوب کیجئے مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نہایت نَرمی سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ وہ ایک خاص شَرط پر راضی ہوکر چلے گئے ۔ اُن کے جانے کے بعد آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے مشورہ دینے والے سے فرمایا: جب تک دَوا سے شفا کی اُمید ہو کسی کو داغنا نہیں چاہئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۷)

(۱۲)  بُرا بھلا نہ کہو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزاگرچہ حجاج بن یوسف کو اس کی ظالمانہ رَوِش کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے اور یہا ں تک فرماتے تھے کہ اگرقِیامت کے روزاُمتوں کاخباثت میں مقابلہ ہواورہراُمت اپنے خبیث لائے تواگرہم حجاج کولائیں تواُن پرغالب رہیں گے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۵۹) یہی وجہ تھی کہ حجاج کے خاندان کو جِلا وطن کردیا تھا مگراس کے باوجود جب کسی نے آپ کے سامنے حجاج بن یوسف کو گالی دی توفوراً روکا اور فرمایا:جب مظلوم ظالِم کو خوب بُرا بھلا کہہ کر اپنا بدلہ لے لیتا ہے تو ظالم کو اس پر ایک طرح سے بَرتری حاصِل ہوجاتی ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۹)

(۱۳)  سزا معاف کردی

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ایک شخص پر کسی وجہ سے   سَخت بَرہَم ہوئے یہاں تک کہ اسے کوڑے مارنے کا  حُکم دے دیا لیکن جب کوڑے لگانے کا وَقت آیا توخُدّام سے فرمایا: خَلُّوْا سَبِیْلَہُ یعنی اس کو رِہا کردو، اور اس شخص سے فرمایا: اگر میں غصے میں نہ ہوتا تو تمہیں ضَرورسزا دیتا، پھر یہ آیت پڑھی،

وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) ۴، ا ٰل عمران :۱۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان:اور غصّہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ  اللّٰہ کے محبوب ہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۷)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیزکے عَفو ودَرگُزَر کے اَنوار دیکھے یقینا  غُصّہاپنے ساتھ تباہ کاریوں کی طویل داستان لے کر آتا ہے کیونکہغُصّہ ہی اکثر دَنگافَساد، دوبھائیوں میں اِفتِراق، میاں بیوی میں طَلَاق، آپس میں مُنافَرت اورقَتل و غارت کا مُوجِب ہوتا ہے ۔ جب کسی پر غُصّہ آئے اور ماردھاڑ اور توڑ تاڑ کر ڈالنے کو جی چاہے تو اپنے آپ کو اس طرح سمجھائیے : مجھے دوسروں پر اگر کچھ قدرت حاصِل بھی ہے تو اس سے بے حد زیادہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ مجھ پر قادِر ہے اگر میں نے  غُصّے میں کسی کی دل آزاری یا حق تلفی کر ڈالی توقِیامت کے روز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے غَضَب سے میں کس طرح محفوظ رہ سکوں گا؟   [1]؎

امیرالمؤمنین کی رحم دلی

          ایک بار ایک دیہاتی آیا اور اپنی حاجت کوایسے پُردَرد اَلفاظ میں پیش کیا کہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیزنے گردن جھکالی اور آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری ہوگئے حتیّٰ کہ سامنے کی زمین گیلی ہوگئی ۔ جب کچھ اِفاقہ ہوا تو پوچھا :تم کُل کتنے افراد ہو ؟ اس نے کہا :ایک میں اور آٹھ بیٹیاں ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے بیت المال سے سب کے وظائف مقرر کردیئے اور سو دِرہم ذاتی طور پر اپنی جیب سے دیئے ۔ (سیرت ابن جوزی۹۱ملخصا) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جانور کو تین دن آرام کرنے دو

             یہ رحم  صِرف انسانوں تک محدود نہ تھا بلکہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیز کو جانوروں تک کی تکلیف گوارا نہ تھی، ان کے پاس ایک خچر تھا جس کو ان کا غلام کرائے پر چلاتا تھا ۔ کرایہ کی آمدنی روزانہ ایک دِرہم تھی ۔ ایک دن غلام ڈیڑھ دِرہم لایا تو دریافت کیا: یہ اِضافہ کیونکر ہوا؟ اس نے کہا :آج بازار تیز تھا ۔ فرمایا:نہیں ! تم نے جانور سے زیادہ کام لیا، اب اس کوتین دن آرام کر لینے دو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۹۷)

جانوروں کے بارے میں ہدایات

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے بازاروں کے نگران کے نام باقاعدہ یہ  حُکمنامہ تحریر فرمایا :’’جانوروں کو بھاری لگام نہ دی جائے اورنہ انہیں ایسی چھڑی سے ہانکا جائے جس پر لوہے کا خول چڑھا ہو ۔ ‘‘اورگورنرِ مِصر کو لکھا: ’’مجھے اطلاع ملی ہے کہ مِصرمیں بوجھ اٹھانے والے اونٹوں پر ہزار رِطَل(تقریباً 500سیر) تک بوجھ لادا جاتاہے ، جب میرا یہ خط ملے تو اس کے بعد کسی اونٹ پر چھ سورِطَل (تقریباً 300سیر )  سے زیادہ بوجھ لادنے کی اطلاع نہ آئے ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صلح کروائی

 



[1]    غصّے کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’غصے کا علاج ‘‘کا ضرور مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 139

Go To