$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            حضرتِ سیدنا اوزاعی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کا معمول تھا کہ جب کسی شخص کو سزا کا  حُکم سناتے تواِس اندیشے کے تحت اُسے تین دن تک قید میں رکھتے کہ کہیں میں نے سزا کا  حُکمغیظ وغَضَب کی حالت میں تو نہیں دیا ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۰۶)

(۳)  میں تم سے قِصاص لیتا

             ایک بارحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے عامِل عبدالحمید بن عبدالرحمن نے ان کو لکھا کہ میرے سامنے ایک شخص اس جُرم میں پیش کیا گیا ہے کہ وہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو گالیاں دیتا ہے ، میں نے اس کی گردن اُڑا دینی چاہی تھی لیکن پھر اس خیال سے قید کردیا کہ پہلے اس بارے میں آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی رائے لے لوں ۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے جواب میں لکھا کہ اگر تم اس کو قَتل کردیتے تو میں تم سے قِصاص لیتا ، نَبِیِّ مُعَظَّم ، رَسُولِ مُحتَرم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کے سوا کسی اور کو گالی دینے پر کوئی شخص قَتل نہیں کیا جاسکتا ، اس لیے اگر تمہارا جی چاہے تو اس کو گالی دے کر بدلہ لو ورنہ رِہا کردو ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۰۷ملتقطًا)

(۴)  تقویٰ نے منہ میں لگام ڈال دی ہے

             کسی نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو ایک موقع پر نامناسب کلمات کہے ، لوگ بولے : آپ چُپ کیوں ہیں ؟ فرمایا :اِنَّ التَّقِیَّ مُلْجَمٌ  یعنی تقویٰ نے منہ میں لَگام ڈال دی ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۸)

(۵)  گالی دینے والے کو کچھ نہ کہا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو کسی نے ایک شخص کے بارے میں نشاندہی کی کہ یہ آپ کو گالی دیتا ہے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا، بتانے والے نے پھر کہا ، مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے نظر انداز کیا ، جب اس نے تیسری بار کہا توفرمایا:’’ عمر‘‘ اس (یعنی گالی دینے والے ) کو اس طرح ڈھیل دے رہا ہے کہ اس کو خبر تک نہیں ہوتی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۸)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرکوئی ہماری دل آزاری کردے یا گالی بھی دے دے تو بھی بحث وتکرار سے اِجتِناب کر کے دَر گُز ر سے کام لیتے ہوئے جھگڑے سے بچنے میں ہی بھلائی ہے ۔ سرکار نامدار ، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان جنت نشان ہے ، ’’ جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہیں کرتا میں اس کیلئے جنت کے گِرد ایک گھر کا ضامِن ہوں ۔ ‘‘(سنن ابی داوٗد ، ج۴ ، ص۳۳۲، الحدیث۴۸۰۰)

(۶)  بُرابھلا کہنے والے سے حسنِ سُلُوک

            ایک بارحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزسواری پر کہیں جارہے تھے کہ ایک پیدل چلنے والا شخص سواری کی جَھپٹ میں آگیا اور اس نے غصّے سے کہا: دیکھ کر نہیں چل سکتے ! جب سواریاں آگے نکل گئیں تو اس شخص نے کہا : کوئی ہے جو مجھے اپنے پیچھے بٹھائے ؟ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے اپنے غلام سے کہا کہ اس کواپنے ساتھ بٹھا کر چشمے تک لے چلو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۸)

          میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں کے اَخلاق نہایت ہی عُمدہ ہوتے ہیں اور وہ تکلیف پہنچنے پر بھی غصّہ میں نہیں آتے اور صَبر کا دامن نہیں چھوڑتے اور نہ صرف خطاکار کی خطا معاف کردیتے ہیں بلکہ بسا اَوقات تو حُسن سُلوک سے نواز دیتے ہیں ۔

(۷)  میں پاگل نہیں ہوں

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز رات کے وَقت مسجد میں گئے ، وہاں ایک شخص سورہا تھا، اندھیرے میں اس کو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاؤں کی ٹھوکر لگ گئی، تو اس نے جَھلّا کر کہا: أَ مَجْنُوْنٌ اَنْتَ یعنی کیا تم پاگل ہو؟ فرمایا: نہیں ۔ خادِم نے اس گستاخی پر اُس کو سز ا دینی چاہی لیکن حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے روک دیا اورفرمایا: اس نے مجھ سے  صِرف یہ پوچھا تھا کہ تم پاگل ہو؟ میں نے جواب دے دیا:’’ نہیں ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۲۰۹)

            سُبْحٰنَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! ہمارے بُزُرگانِ دین کا اخلاق کس قَدَر پاکیزہ تھا، مُقابل کوئی کمزور ہوتا تو اُن کے لہجے میں نَرمی آجاتی تھی مگر ہمارا غصّہ بڑا’’ عَقل مند‘‘ ہے کہ ’’ کمزور‘‘ کو سامنے دیکھ کر خوب پَھلتا پُھولتا اور سر چڑھ کر بولتا ہے ۔

(۸) گالوں سے خون نکل آیا

            ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز قَیلُولہ(یعنی دوپہر کا مختصر آرام) کرنے کے لیے اٹھنے لگے تو ایک آدمی ہاتھ میں کاغذات کی ایک بڑی فائل لئے ہوئے آگے بڑھا اورجلد بازی میں وہ فائل ان کی طرف پھینک دی، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے مُڑ کر دیکھا تو فائل منہ پر جا لگی جس کی وجہ سے گالوں سے خون نکلنے لگا لیکن سِیخ پا ہونے کے بجائے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے نہایت خاموشی کے ساتھ اُس کی درخواست پڑھی اور اس کی حاجت کو پورا کیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۸)

(۹)  سزا کے بجائے وظیفہ مقرر کردیا

             ایک بچے نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے بیٹے کو مارا، لو گ اس بچے کو پکڑ کر ان کی زوجہ فاطمہ بنت عبدالملک کے پاس لے گئے ۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہدوسرے کمرے میں تھے ، شور سنا تو کمرے سے نکل آئے ۔ اسی دوران ایک عورت آئی اور کہنے لگی : یہ میرا بچہ ہے اور یتیم ہے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے پوچھا : اس یتیم کو وظیفہ ملتا ہے ؟ عَرض کی: نہیں ۔ خادِم سے فرمایا : اس کا نام وظیفہ خوار بچوں میں لکھ لو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۷)

            سچ ہے کہ ہر بُلند مرتبہ شخص منکسرالمزاج اور دوسروں کی دِلجُوئی کرنے والا ہوتا ہے ۔ اُس کی مثال تو اُس درخت کی سی ہوتی ہے ، جس پر جتنے زیادہ پھل آتے ہیں اُس کی شاخیں اُسی قَدَر جھک جاتی ہیں ، جو خوش نصیب کمزوروں کے ساتھ نَرمی اور مُرَوَّت کا برتاؤ کرتے ہیں ، وہ قِیامت کے دِن شاداں وفرحاں ہونگے ، لیکن مغروروں کو شرمندگی کے سِوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html