$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

 

 میں خلیفہ رہوں گا ایک اینٹ بھی دوسری اینٹ پر نہ رکھوں گا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۶)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غیر ضَروری تعمیرات کی حوصلہ شِکنی

          حضرتِ سَیِّدُناخباب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے رِوایت ہے ، مالِکِ کون و مکان، رسولِ ذیشان، مَحبوبِ رحمن صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’مَا اَنْفَقَ مُؤْمِنٌ مِنْ نَفْقَۃٍ اِلاَّ اُجِرَ فِیْہَا اِلَّا نَفْقَتُہ ٗفِی ہٰذَا التُّرَابِ یعنی مسلمان کو ہر خَرچ کے عِوض اَجر دیا جاتاہے سِوائے اِس مِٹّی کے ۔ ‘‘ (مشکوٰۃالمصابیح ، ج۲، ص۲۴۶، حدیث۵۱۸۲ )

 مُفسّرِ شہیر، حکیم الامّت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج، مُفتی احمد یار خان  علیہ رحمۃ اللّٰہ المنان اِس حدیث کی شَرح میں فرماتے ہیں :’’(اچّھی نیّت کے ساتھ شریعت کے مطابق ) کھانے پینے ، لباس وغیرہ پرخَرچ کرنے میں ثواب مِلتا ہے کہ یہ چیزیں عبادات کا ذَرِیعہ ہیں مگر بِلا ضَرورت مکانات بنانے میں کوئی ثواب نہیں ، لہٰذا عمارات سازی کا شوق نہ کرو کہ اِس میں وَقت اور مال دونوں کی بَربادی ہے ۔ خیال رہے !یہاں دُنیوی عمارتیں وہ بھی بِلاضَرورت بنانا مُراد ہیں ۔ مسجد ، مدرَسہ (مَد ۔ رَ ۔ سہ ) ، خانقاہ ، مُسافِر خانے (اچّھی نیّت کے ساتھ ) بنانا تو عباد ت ہے کہ یہ تو صَدَقاتِ جارِیّہ ہیں ۔ یوں ہی (اچّھی نیّت کے ساتھ ) بَقَدَرِ ضَرورت مکان بنانا بھی ثواب ہے کہ اِس میں سُکون سے رہ کر  اللّٰہ  تعالیٰ کی عِبادت کرے گا ۔ بعض لوگ دیکھے گئے ہیں کہ وہ ہمیشہ مکان کے توڑ پھوڑ، ہر سال نئے نُمونے کے مکانات بنانے ہی میں مشغول رہتے ہیں یہاں یہی مُراد ہیں ۔ ‘‘        ( مراٰۃ شرحِ مشکوۃ ، ج ۷، ص۱۹)

اُونچے اُونچے مکان تھے جن کے                    تنگ  قبروں میں آج آن پڑے

آج وہ ہیں نہ ہیں مکاں باقی                            نام کو بھی نہیں ہیں نشاں باقی

(ماخوذ از جنتی محل کا سودا ، ص۴۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ہر سفر کے لئے توشہ لازمی ہے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک خطبے میں فرمایا :ہر سفر کے لئے زادِ راہ ضَروری ہوتا ہے لہٰذا تم دنیا سے سفرِ آخِرت کے لئے سامان تیار کرو، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جنت اور جہنم کے درمیان کوئی منزل نہیں اور تمہیں ان دونوں میں سے ایک میں جانا ہوگا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۲۱۷)

                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دنیاوی سفر کے لئے مختلف پہلو سامنے رکھ کر سفر کی تیاری کی جاتی ہے کہ کہاں جانا ہے ؟ کب جانا ہے ؟ کس چیز پر جانا ہے ؟ کتنی دُور جانا ہے ؟ کتنے دن کے لئے جانا ہے ؟اے کاش اسی طرح ہم اپنے سفرِ آخِرت کے لئے بھی خوب سوچ بِچار کیا کریں اور نیکیاں اکٹھی کرنے کے لئے کوشاں رہیں کہ اس سفر میں دنیاوی سازوسامان نہیں بلکہ نیکیاں کام آئیں گی ۔

کچھ نیکیاں کما لے جلد آخِرت بنالے

کچھ نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کاعَفْوْودَرگزر

            بدلے کی بھر پور طاقت رکھتے ہوئے بھی کسی کے نازیبا رویّے ، نامناسب سُلُوک یا زیادتی کو برداشت کرجانا بڑے دل والوں کا ہی حصہ ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے ، چُنانچِہ کَنزُالْعُمّالمیں ہے کہ سرکارِ مدینۂ منوَّرہ ، سلطانِ مکّۂ مکرَّمہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکا فرمانِ معظم ہے : جوغُصّہ پی جائے گاحالانکہ وہ نافِذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ قِیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رِضا سے معمور فرمادیگا ۔ (کنزالعُمّال  ج۳ص۱۶۳حدیث۷۱۶۰)

دو بہترین عادتیں

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز    عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  نے فرمایا:عِلم کے ساتھ عادتِ حِلم اور قدرت کے ساتھ عَفو (یعنی معاف کردینے ) کی عادت مل جانے سے بہتر کوئی شے نہیں ہے ۔ (آداب الشرعیۃ ، فصل فی حسن الخلق ، ج۲ ص۳۱۶)

          اَ لْحَمْدُ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزمیں یہ دونوں عادتیں بخوبی موجود تھیں ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے عَفو ودَرگُزَر اور صَبر وتحمل کی 13حکایات ملاحظہ ہوں ، چنانچِہ :

(۱)  سرجھکا لیا

             حُجَّۃُ الْاِسلامحضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہ الوالی نقل فرماتے ہیں :کسی شخص نے حضرتِ امیرُالْمُؤمِنِینسیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر سے  سَخت کلامی کی ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  نے سرجُھکا لیا اور فرمایا:’’کیاتم یہ چاہتے ہوکہ مجھے غُصّہآجائے اورشیطان مجھے تَکَبُّراور حکومت کے غُرور میں مبتَلا کرے اور میں تم کو  ظُلم کا نشانہ بناؤں اوربَروزِ قِیامت تم مجھ سے اِس کا بدلہ لو مجھ سے یہ ہر گز نہیں ہوگا ۔ ‘‘یہ فرما کر خاموش ہوگئے ۔ (کیمیائے سعادت ج۲ص۵۹۷)

(۲)  سزا دینے میں اِحتیاط

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html