Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

راضی رہے گا اور اپنی خواہِش  تَر ک کر دے ، آزادی کے ساتھ زندَگی گُزارے گا ۔ کئی مرتبہ موت سونے ، یا قوت اور موتیوں کے سبب (ڈاکوؤں کے ذَرِیعے ) آ تی ہے ۔ (اِحیا ئُ العُلُوم ج ۳ ص ۲۹۸  )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کے گھر میں خاص سازوسامان نہ تھا

             ایک بار عراق سے ایک غریب عورت حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزکے گھر آئی ، جب دیکھا کہ ان کے اپنے گھر میں کسی قسم کا سازو سامان نہیں ہے توبولی: میں اِس ویران گھر سے اپنا گھر آباد کرنے آئی ہوں ؟ زوجہ محترمہ نے کہا: تمہیں جیسے لوگوں کی گھر کی آبادی نے ہی اِس گھر کو ویران کررکھا ہے ۔ (سیرت ابن عبدالملک ص۱۴۵)

دَابَق کی راتیں

            ایک دن حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز اپنی اہلیہ محترمہ حضرتِ فاطمہ بنت عبدالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیھا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : فاطمہ! آج کی بہ نسبت دابَق کی راتوں میں ہم زیادہ عیش و راحت میں تھے ۔ عَرض کی : ’’ آج آپ کو جتنے اِختیارات حاصِل ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے (یعنی عیش و راحت کا سامان کیا مشکل ہے ؟) یہ سن کر امیرُ المُؤمنین کی چیخ نکل گئی اورغم ناک لہجہ میں یہ کہتے ہوئے اٹھ گئے یَافَاطِمَۃُ! اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی فاطمہ! اگر میں اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔ وہ اس پُر دَرد جملے کو سن کر رو پڑیں اور دُعا کرنے لگیں : اَللّٰھُمَّ اَعِذْہُ مِنَ النَّارِ یعنی یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ان کو دوزخ سے نجات دے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۷)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اِس حِکایت کو سُن کر فَقَط نعرۂ دادو تحسین بُلند کر کے دل کو خوش کر لینے کے بجائے ہمیں بھی تقویٰ اور قَناعت کا دَرس حاصِل کرنا چاہئے ۔ با لخصوص اَربابِ اِقتدار و حُکومَتی افسران اور مختلف اسلامی شُعبہ جات سے وابَستہ ذمّہ داران کیلئے اِس حِکایت میں قَناعت و خُود داری اپنانے ، حِرص و طمع سے خود کو بچانے اوراپنی آخِرت کو بہتر بنانے کیلئے خوب خوب خوب سامانِ عبرت ہے ۔ کاش! ہم قلیل آمدنی پر قَناعت کرتے ہوئے نیکیوں میں کثرت کے تمنّائی بن جائیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

زاہِد تو عمربن عبدالعزیز ہیں

            کسی نے حضرتِ سیِّدُناعبداﷲبن مُبارَک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو’’ اے زاہِد!‘‘ کہہ کر پکارا تو انہوں نے فرمایا: ’’زاہد‘‘ تو عمربن عبدالعزیز (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) ہیں کیونکہ دنیا کا مال ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ قدرت رکھنے کے باوجود زُہد کو اِختیار کئے ہوئے ہیں ، میں ’’ زاہد‘‘ کہلانے کے لائق نہیں ۔ (احیاء العلوم ، ج۴ ص۲۶۸) اسی طرح کا قول حضرتِ سیِّدُنامالک بن دِینار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہ الغفّارسے بھی منقول ہے کہ فرمایا:النَّاسُ یَقُوْلُوْنَ مَالِکٌ زَاہِدٌ!إِنَّمَا الزَّاہِدُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ الَّذِیْ أَتَتْہُ الدُّنْیَا فَتَرَکَہَایعنی لوگ کہتے ہیں کہ مالک بن دینار ’’زاہِد ‘‘ ہے ، ’’زاہد‘‘تو عمر بن عبدالعزیز(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) ہیں جس کے پاس دنیا آئی بھی تو انہوں نے تَرک کر دی ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۲۹۱)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

زُہد کسے کہتے ہیں ؟

            حضورنبی کریم ، رء وف رحیم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’دنیا سے بے رَغبَتی مال کو ضائع کردینے اور حلال کو حرام کردینے کا نام نہیں ، بلکہ دنیاسے کنارہ کشی تویہ ہے کہ جوکچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس سے زیادہ قابل اِعتِمادنہ ہوجواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے ۔ ‘‘ (جامع الترمذی، کتاب الزھد ، الحدیث :۲۳۴۷، ج۴، ص ۱۵۲)

دُنیا سے بے رغبتی کا انعام

          حضرت ِسیِّدُنا موسیٰعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے عر ض کی:’’ یَاذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام! تو نے نیک بندوں کے لئے کیا تیا رکیا ہے اورتو انہیں کیا بدلہ عطا فرمائے گا؟‘‘ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے فرمایا:’’ دنیا سے بے رغبتی رکھنے والوں کے لئے تومیں اپنی جنّت کو مُباح کر دوں گا وہ اس میں جہاں چاہیں ٹھکانا بنا لیں اوراپنی حرام کردہ چیزوں سے پرہیزکرنے والوں کویہ انعام دوں گا کہ جب قِیامت کا دن آئے گا تو میں پرہیز گاروں کے علاوہ ہر بندے سے  سَخت حساب لوں گا کیونکہ میں پرہیز گاروں سے حیا کروں گا اور انہیں عزت واِکرام سے نوازوں گا پھر انہیں بغیر حساب جنت میں داخل فرماؤں گااور میرے خوف سے رونے والوں کیلئے رفیقِ اعلیٰ ہوگا جس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہوگا ۔  ‘‘(مجمع الزوائد ج۱۰ ص۵۲۹، الحدیث ۱۸۱۲۵)

کوئی ذاتی عمارت تعمیر نہیں کی

مَنصَب ووَجاہت کے حامِل لوگ  عُمُوماًمحلات وعالیشان مکانات تعمیر کیا کرتے ہیں مگر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے عمر بھر ذاتی حیثیت سے کوئی عمارت تعمیر نہیں کی بلکہ فرماتے تھے کہ رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت یہی ہے کہ آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اینٹ کو اینٹ پر اور شہتیر کو شہتیر پر نہیں رکھااور اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۰)

ایک اینٹ بھی دوسری اینٹ پر نہ رکھوں گا

یہاں تک کہ گھر میں ایک اونچا کمرہ تھا جس کے زینے کی ایک اینٹ ہلتی تھی اور اترتے چڑھتے وَقت گرنے کا خوف رہتا تھا ۔ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے غلام نے اس کو مٹی سے جوڑ دیا، اس کے بعد آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اوپر چڑھے تو اس اینٹ کی حرکت محسوس نہیں ہوئی، غلام سے پوچھا تو اس نے واقعہ بیان کیا، فرمایا: مٹی کو اکھیڑ ڈالو، میں نے خداعَزَّوَجَلَّ سے عہد کیا تھا کہ جب تک

 



Total Pages: 139

Go To