$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ٹھنڈے پانی سے وُضُو کرنے کی ہمَّت نہیں پڑتی یا نَمازِفجر میں اُٹھنے کو جی نہیں چاہتا مگر دل پر جَبر کرکے اِن کاموں کو کرگُزرے یہ دوسری قسم کا صَبر ہے ، اِسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی حرام کے پیسوں سے عیش کررہا ہے ہمارا بھی دل عیش کو چاہتا ہے مگر دل کو حرام کی طرف جانے سے روک لیا، یہ تیسری قسم کاصَبر ہے ۔ (احیاء العلوم ، ج۴ ص۸۲)

دل کے لئے  مُفِیدشے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:دل کے لئے وہی بات  مُفِید ہے جو دل سے نکلے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۲۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سانپ اور بچھو سے بچنے کا وظیفہ

            افریقہ کے گورنر نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی خدمت میں بچھو وغیرہ کی شکایت لکھ کر بھیجی تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جوابی مکتوب میں لکھاتم روزانہ صبح وشام اس آیت مبارکہ کو اپنا وظیفہ [1]؎  بنا لو:وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَاؕ-وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَاؕ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠(۱۲) ۱۳، ابراہیم :۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان:اور ہمیں کیا ہوا کہ اللّٰہ پر بھروسہ نہ کریں اس نے تو ہماری راہیں ہمیں دکھادیں اور تم جو ہمیں سَتا رہے ہو ہم ضرور اس پر صَبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ چاہئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۱۵)

اِحسان قبول نہ کرو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:لَاتَقْبَلِ الْمَعْرُوْفَ مِمَّنْ لَّایَصْطَنَعَہٗ اِلٰی اَھْلِ بَیْتِہٖ یعنی ایسے شخص کا اِحسان قبول نہ کرو جو اپنے گھر والوں سے حُسنِ سُلُوک نہ کرتا ہو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۶)

کامیاب کون؟

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنے آپ کو مسائل میں اُلجھنے ، غصّہ کرنے اور حِرص سے دُور رکھا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۲۳)

حِرص کسے کہتے ہیں ؟

            مُفَسِّرِ شہیر حکیم الامّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنان لکھتے ہیں : کسی چیز سے سَیر نہ ہونا(یعنی جی نہ بھرنا) ، ہمیشہ زِیادَتی کی خواہش رکھنا حِرص ہے ۔ ‘‘(مراٰۃ المناجیح، ج۷، ص۸۶)

انسان کا پیٹ تو مِٹّی ہی بھر سکتی ہے

             دوسروں کی دولتوں اور نعمتوں کو دیکھ دیکھ کر خود بھی اُس کو حاصِل کرنے کے چکر میں پریشان حال رہنا اوراس مقصد کے حُصول کے لئے غَلَط و صحیح ہر قسم کی تدبیروں میں دن رات لگے رہنے کے پیچھے حِرص ولالچ کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور یہ در حقیقت انسان کی ایک پیدائشی خصلت ہے ۔ چنانچہ سرکارِ مدینۂ منورہ سردارِ مکّہ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے :لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَی وَادِیًا ثَالِثًا وَلَا یَمْلَا ُٔجَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی مَنْ تَابَیعنی اگر انسان کے لئے مال کی دو وادِیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی تمنّا کر ے گا اور انسان کے پیٹ کو تو صِرف مِٹّی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اُس کی توبہ قَبول فرماتا ہے ۔ ‘‘ (صحیح مسلم ، ص۵۲۲، حدیث ۱۰۵۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قَناعت فقہِ اکبر ہے

            حُریث بن عثمان اپنے بیٹے کے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی خدمت میں حاضِر ہوئے تو فرمایا: اپنے بیٹے کو فِقہ اکبر سکھاؤ ۔ عَرض کی: فقہ اکبر کیا ہے ؟ فرمایا:اَ لْقَنَاعَۃُ وَکَفُّ الْاَذٰی یعنی  قَنَاعَت کرنااور تکلیف پہنچانے سے باز رہنا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! قَنَاعَت یہ ہے کہ جوتھوڑا سامل جائے اُسی کو کافی سمجھے ، اُسی پر صَبْر کرے ۔ جو قَنَاعَت کرے گا اِن شائَ اللّٰہُ الغفّارعَزَّوَجَلَّخوشگوار زندگی گزارے گا ۔ دل میں دنیا کی حِرص جتنی زیادہ ہو گی اُتنی ہی زندگی میں بدمزگی بڑھے گی ، مقولہ ہے :اَلْحِرصُ مِفْتاحُ الذُّلِّ یعنی حِرص ، ذلّت کی کنجی ہے اوراَلْقَنَاعَۃُ مِفْتاحُ الرَّاحَۃِ یعنی  قَنَاعَت ، راحت کی کنجی ہے ۔

کامیابی کا راز

            نبیِّ محترم، رسولِ اکرمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ کَفَافًا وَقَنَّعَہُ اللّٰہُ بِمَا آتَاہُیعنی وہ کامیا ب ہوگیا جو مسلمان ہوا اور بقَدَرِ کِفایت رِزق دیا گیا اور اللّٰہ تعالیٰ نے اسے دیئے ہوئے پر قَناعَت دی ۔ ( مسلم ، الحدیث ۱۰۵۴، ص۵۲۴)

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی جسے ایمان و تقویٰ بقَدَرِ ضَرورت مال اور تھوڑے مال پر صَبر ، یہ چار نعمتیں مل گئیں ، اس پر اللّٰہتعالیٰ کا بڑا ہی کَرَم وفَضل ہوگیا ۔ وہ کامیاب رہا اور دنیا سے کامیاب گیا ۔ (مراٰۃ المناجیح ج۷ ص۹)

امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی کی نصیحت

            حُجَّۃُ الْاِسلامحضرت ِسیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی  نَقل کرتے ہیں ، عیش چند گھڑیوں کا ہے جو گزر جائے گا اور چند دنوں میں حالت بدل جائے گی ۔ اپنی زندگی میں قَناعت اِختِیار کر،



[1]    سینکڑوں اورادو وظائف اور دُعاؤں کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب’’مَدَنی پنج سورہ‘‘ کا مطالعہ بے حد مفید ہے ۔



Total Pages: 139

Go To
$footer_html