Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

              مُفَسِّرِشَہِیر، حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے ہیں : حَسَد کے چار دَرَجے ہیں :پہلایہ ہے کہ حاسِددوسروں کی نعمت کا زَوال چاہے کہ خواہ مجھے نہ ملے مگر اس کے پاس سے جاتی رہے ، اس قسم کا حَسَد مسلمانوں پر گناہ ِکبیرہ ہے اور کافر، فاسِق کے حق میں جائز مثلاًکوئی مالدار اپنے مال سے کُفریا  ظُلم کر رہا ہے اُس کے مال کی اِس لئے بربادی چاہنا کہ دُنیا  کُفر و ظُلم سے بچے ، ’’جائز‘‘ ہے ۔ دوسرادَرَجہ یہ ہے کہ حاسد دوسرے کی نعمت خود لینا چاہے کہ فُلاں کا باغ یا اُس کی جائداد میرے پاس آجائے یا اُس کی رِیاست کا میں مالِک بنوں ، یہ حَسَد بھی مسلمانوں کے حق میں حرام ہے ۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ حاسد اس نعمت کے حاصِل کرنے سے خود تو عاجز ہے اس لئے آرزو کرتا ہے کہ دوسروں کے پاس بھی نہ رہے تاکہ وہ مجھ سے بڑھ نہ جائے یہ بھی منع ہے ۔ چوتھادَرَجہ یہ ہے کہ وہ تمنّا کرے کہ یہ نعمت اوروں کے پاس بھی رہے مجھے بھی مل جائے یعنی اوروں کا زوال نہیں چاہتا اپنی تَرقّی کا خواہش مند ہے اسے غِبْطَہ یا تَنافُس کہتے ہیں یہ دُنیوی باتوں میں مَنع اور دینی باتوں میں اچّھا اور کبھی واجِب بھی ہے ، رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ(۲۶)  30، المطففین26) (ترجمۂ کنزالایمان:اور اِسی پر چاہئے للچائیں للچانے والے ) حدیث شریف میں ہے کہ دو شخصوں پر حَسَدیعنی غِبْطَہ جائز ہے ، ایک وہ عالِم دین جو اپنے عِلمسے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہو، دوسرا وہ سخی مالدار جس کے مال سے فیض جاری ہو ۔ (بخاری ج۱ ، ص۴۳، الحدیث ۷۳ ملتقطاً)

حَسَد کا علاج

            خیال رہے کہ حَسَد ایک عالمگیر مَرَض ہے جس سے بَہُت کم لوگ خالی ہیں ، اِس لئے اِس کا علاج بَہُت ضَروری ہے ، اس کے  صِرف دو ہی علاج ہیں : ایک علمی علاج دوسرا عملی علاج (۱) علمی علاج : یہ ہے کہ حاسِد یہ عقیدہ رکھے کہ ہر ایک چیز تقدیر سے ہوتی ہے اور میں حَسَد کرکے اپنی بد نصیبی اور دوسروں کی نیک بختی کو بدل نہیں سکتا اور یہ بھی جانے کہ حَسَد ایمان کی آنکھ کا تنکا اور خاک ہے جیسے کہ دماغ کی آنکھ ان چیزوں سے گدلی ہوجاتی ہے ایسے ہی حاسد کاایمان بلکہ اس کے دین ودنیا حَسَد سے مُکَدَّر (اور خراب) ہوجاتے ہیں کہ دنیا میں رنج اور آخِرت میں عذاب کے سوا کچھ نہیں ملتا(۲) عملی علاج: یہ ہے کہ حاسِد(یعنی حَسَد کرنے والا) ، مَحْسُود (یعنی جس سے حَسَد ہواُس ) کے ساتھ طبیعت کے خِلاف برتاؤ کرے مثلاً اگر دل چاہتا ہے کہمَحْسُود  کی غیبت کروں تو فوراً اس کی تعریف کرنے لگ جائے ، اگر نفس کہتا ہے کہمَحْسُودکے سامنے اکڑ کر بیٹھوں تو فوراً اُس کے سامنے عاجِزی ونَرمی کرے ، اگر دل یہ کہتا ہے کہ اس سے نفرت کروں تو تکلُّفاً اس سے مَحَبَّت کرے ، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّان علاجوں سے بہت فائدہ ہوگا اور یہ بھی خیال رہے کہ بے اِختیاری نفرت یامحبت کی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے یہاں پکڑ نہیں ۔ (تفسیر کبیر، ج۱، ص۶۴۹، ملخصًا)

             حَسَد کے علاج کے لئے کُتُبِ تصوُّف خُصُوصاًحُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالیکی کتابیں جیسے اِحیاء العلوم وغیرہ کا مطالعہ کیجئے ۔

حَسَد ، وعدہ خِلافی، جھوٹ، چغلی، غیبت و گالی

مجھے ان سب گنا ہوں سے ہو نفرت یا رسول اللّٰہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صَبرمؤمن کا مددگار ہے

            جب سلیمان بن عبدالملک کا بیٹا فوت ہوا تو اس نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے دریافت کیا: کیا مؤمن اتنا صَبر کرے کہ اسے مصیبت محسوس ہی نہ ہو؟ فرمایا :پسند او رناپسند آپ کے لئے یکساں نہیں ہوسکتے مگر اتنا ضرور ہے کہ صَبر مؤمن کا مددگار ہے ۔ (درمنثور ، ج۱ ، ص۴۱۵)

ناپسندکام پر ردِ عمل

            امام اوزاعیرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو جب کبھی ناپسندیدہ معاملہ پیش آتا تو صَبر کرتے اورفرماتے : یہ مقدّر میں تھا اور عنقریب ہمیں بھلائی بھی ملے گی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۵)

صَبر نعمت سے افضل ہے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: جس شخص کو کوئی نعمت ملی پھر اس سے واپَس لے لی گئی اور اُسے صَبر کی توفیق دی گئی تو یہ صَبر اس نعمت سے افضل ہے ، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ۲۳، زمر :۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان:صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی  ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۳)

سب سے بہتر بھلائی

             آقائے مظلوم، سَروَرِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:’ ’ مَنْ یَصْبِرْ یُصَبِّرْہُ اللّٰہُ وَمَا اُعْطِیَ اَحَدٌ مِنْ عَطَاء  خَیْرٌ وَ اَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِیعنی جو صَبر کرنا چا ہے گا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اسے صبر کی توفیق عطا فرمادے گا اور صَبر سے بہتر اور وُسعت والی عطا کسی پر نہیں کی گئی ۔ ‘‘

(صحیح مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب فضل التعفف والصبر ، الحدیث ۱۰۵۳ ، ص ۵۲۴)

صَبر کی تین قسمیں

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!’’صَبر‘‘ کی تین قسمیں ہیں :(۱) مصیبت میں صَبر (۲) عِبادت اور اِطاعت کی مَشَقَّتوں پر صَبر(۳) نَفس کو گناہ کی طرف جانے سے روکنے پر صَبر، مَثَلاً مصیبت میں بے قراری اور بے چینی کے اظہار کو جی چاہا مگر دل کو قابو میں رکھااور کوئی شِکوہ وشِکایت زَبان پر نہ لائے بلکہ  اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رِضا پر راضی رہے تو یہ پہلی قسم کا صَبر ہے ، سردی کے موسم میں



Total Pages: 139

Go To