$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

زَبان کی حفاظت کا تصوُّر تقریباً مَفقُود ہوچکا ہے ، ہمیں اِحساس ہی نہیں ہے کہ گوشت کا یہ چھوٹا ساٹکڑا جو دوہونٹوں اور دوجبڑوں اور 32دانتوں کے پہرے میں ہے ، کس طرح ہمارے پورے وُجود کو دُنیوی واُخروی مصائب میں  مُبتَلا کروا سکتا ہے ، جیساکہ  مدینے کے سُلطان ، رحمتِ عالمیان صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حکمت نشان ہے کہ’’بندہ زَبان سے بھلائی کاایک کلمہ نکالتاہے حالانکہ وہ اس کی قَدَروقیمت نہیں جانتاتو اس کے باعث اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  قِیامت تک اپنی رِضامندی لکھ دیتا ہے ، اور بیشک ایک بندہ اپنی زَبان سے ایک بُرا کلمہ نکالتا ہے اوروہ اس کی حقیقت نہیں جانتاتو  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اس کی بناء پراس کے لئے قِیامت تک کی اپنی ناراضی لکھ دیتاہے ۔ ‘‘(ترمذی، کتاب الزھد، باب فی قلۃ الکلام، ج۴، ص۱۴۳، الحدیث ۲۳۲۶)

خاموشی باعثِ نجات ہے

             نبیوں کے سَروَر، شاہِ بحر وبَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِرشاد فرمایا:’’مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جو خاموش رہا اس نے نجات پائی ۔ ‘‘(ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، رقم : ۲۵۰۹، ج۴، ص۲۲۵)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی کم بولنے والا فائدے میں رہتا ہے ، ہم میں سے ہر ایک کو غور کرنا چاہئے کہ ہم بول کر بارہا پچھتائے ہوں گے کیا کبھی خاموش رہ کر بھی پچھتائے ؟ اے کاش ! ہمیں زَبان کا قفلِ مدینہ نصیب ہوجائے ۔

آپ خاموش کیوں ہیں ؟

            حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما  سیمَروِی ہے کہ جب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا  آدم صفیُّ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو زمین پر اُتارا تو آپعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کثیر اولاد ہوئی ۔ ایک دن آپعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بیٹے ، پوتے اور پَڑپوتے سب آپعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے اِردگرد جمع ہوکر باتیں کرنے لگے مگر حضرتِ سیِّدُنا آدم صفیُّ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامبالکل خاموش تھے ، اولاد نے پوچھا:’’آپ ہم سے بات چیت کیوں نہیں فرماتے ، خاموش کیوں ہیں ؟‘‘ اِرشاد فرمایا:’’میرے بچّو!جب سے  اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے مجھے اپنے جَوار سے زمین کی طرف اُتارا ہے ، اس نے مجھ سے عہد لیا ہے کہ ’’اے آدم !کم بولنا یہاں تک کہ تم میرے جَوار کی طرف جنّت میں لوٹ آؤ ۔ ‘‘ (تاریخِ دِمشق  ج۷ ص۴۴۷)

کلام کی اقسام

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زَبان کی مکمل حفاظت اسی وَقت ممکن ہے جب ہمیں کلام کی اَقسام اور ان کے اَحکام معلوم ہوں ۔ ہر کلام کی بنیادی طور پر چار اقسام ہوتی ہیں :(۱)  وہ کلام جس میں نقصان ہی نقصان ہے ، جیسے کسی کو گالی دینا ، فحش کلامی کرناوغیرہ(۲)  وہ کلام جس میں نفع ہی نفع ہو مثلاً تِلاوت ِ قرآن کرنا ، دُرُود پاک پڑھنا، نعت پڑھنا ، ذکرُ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کرنا ، کسی کو نیکی کی دعوت دینا وغیرہ ، (۳)  وہ کلام جو بعض صورتوں میں نفع بخش ہے اور بعض صورتوں میں نقصان دہ جیسے کسی مُقتَداء (مثلاً پیریا استاذ) کا اپنی نیکیوں کو اس نیت سے ظاہر کرنا کہ لوگ اس کی پیروی میں ان نیکیوں کو اپنانے کی طرف راغِب ہوں گے لیکن اگراس نے اپنی واہ واہ کروانے کی نیت سے نیکیاں ظاہر کیں تو یہ کلام اُسے نقصان پہنچائے گا ۔ (۴)   وہ کلام جس میں نہ تو کوئی نفع ہو اور نہ ہی نقصان ، اسے فُضول گوئی بھی کہا جاتا ہے جیسے موسم وغیرہ پر تبصرہ کرنامثلاً آج بڑی گرمی ہے ، یا ایسے سُوالات کرناجس سے نہ کوئی دنیاوی فائدہ حاصِل ہو اور نہ ہی اُخرَوِی مثلاًٹریفک سِگنَل نہ جانے کب کھلے گا؟

خاموش رہنے کی عادت کیسے بنائیں ؟

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خاموش رہنے کی عادت بنانے کے لئے ان مَدَنی پھولوں پر عمل کرنا بے حد مُفِید ہوگا :(1) لکھ کر گفتگو کرنے کی کوشِش کریں کیونکہ اس میں نفس کے لئے مَشَقَّت ہے اور نفس مَشَقَّت سے بہت گھبراتا ہے ۔ چنانچہ ہماری گفتگو محض ضَرورت تک محدود رہے گی ۔ حضرت ِ سیِّدُنا مالک بن دِینار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہ الغفّارفرماتے ہیں :’’اگر لوگوں کو لکھ کر گفتگو کرنے کا مُکلَّف بنایا جاتا تو یہ بہت کم گفتگو کرتے ۔ ‘‘ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، ج۷، ص۵۸) اس سلسلے میں ایک مَدَنی پیڈ او رقَلَم ہر وَقت اپنی جیب میں رکھئے اور کم بولنے کی عادت بنانے کے لئے روزانہ کچھ نہ کچھ بات چیت لکھ کر کیجئے ۔ (2)  اِشارے سے گفتگو کرنا بھی زَبان کو کثرت ِ کلام کا عادی ہونے سے بچانے کے لئے بے حد مُفِید ہے ۔ (3) اگر کبھی زَبان سے فُضول بات نکل جائے تو اس پر نادِم ہو کر دُرودِ پاک پڑھئے اور نفع سے محرومی کا اِزالہ کرنے کی کوشِش کیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّدُرُود پاک کی  بَرَکت سے فُضول گوئی سے نجات مل ہی جائے گی ۔

اللہہمیں کردے عطا قُفلِ مدینہ                                       ہرایک مسلمان لے لگا قُفلِ مدینہ

یارب نہ ضَرورت کے سوا کچھ کبھی بولوں                          اللہزَباں کا ہو عطا قُفلِ مدینہ (وسائلِ بخشش ، ص۱۱۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حاسِد ظالم بھی مظلوم بھی

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز    عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز   نے فرمایا: میں نے حاسِد کے علاوہ کوئی ایسا نہیں دیکھا جو ظالم بھی ہو اور مظلوم بھی کیونکہ وہ طویل غم اوراپنے آپ کو تھکادینے والے کام (یعنی حَسَد) میں مصروف ہوجاتا ہے ۔ (الرسالۃ القشیریۃ ، باب الحسد، ج۱ ص ۷۲)

حَسَد کسے کہتے ہیں ؟

            ’’حَسَد ‘‘کا معنٰی ہے کسی سے نعمت کے چھِن جانے کی تمنّاکرنا ۔ (فتاوٰی رضویہ ، ج۴ ص ۴۲۸)

حَسَد نیکیوں کو کھا جاتا ہے

            سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’حَسَد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے اور صَدقہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، نَماز مؤمن کا نور ہے اور روزے ڈھال ہیں ۔ ‘‘ ( ابن ماجہ  ج۴ ص۴۷۳ ، الحدیث ۴۲۱۰)

حَسَد کے  چار دَرَجے

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html