Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

عظمتِ الہٰی سے معمور سینہ

            جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے والد حج کے لئے  آئے اور اپنے بیٹے کے استاذِ محترم حضرت سیِّدُنا صالح بن کَیسان  رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ  سے ملاقات کی تو انہوں نے مَدَنی مُنّے کے بارے میں تاثرات دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا: میں نے آج تک کوئی ایسا بچہ نہیں دیکھا جس کے دل میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی اِتنی عظمت ہو جتنی اِس بچے کے سینے میں ہے ۔ (تاریخِ دِمشق، ج۴۵ ، ص۱۳۵)

حلیہ شریف

          حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کا رنگ سفید ، چہرہ پتلا ، آنکھیں گہری اورچہرے پر خوبصورت داڑھی مُبارَک تھی ، بچپن میں دَراز گوش (یعنی گدھے ) نے پیشانی پر لات ماری تھی جس کانشان باقی تھا اور اس لئے وہ ’’اَ شَجُّ بَنِیْ اُمَّیَّہ‘‘ کہلاتے تھے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۷۳ ملخصا)

بزرگانِ دین کی بارگاہوں میں حاضریاں

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزبچپن ہی میں قرآن پاک حِفظ کرنے کی سعادت پاچکے تھے ، اس کے ساتھ ساتھ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ حضرتِ سیِّدنا اَنَس بن مالک ، سائب بن یزید اور یوسف بن عبدُاللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی  عنہمجیسے جلیل القدر صحابہ اور تابِعین کے حلقۂ دَرس میں بھی شریک ہوئے ۔ یوں ان بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین کی صحبتِ بابرکت میں قرآن و حدیث اور فِقہ کی تعلیم مکمل کرکے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے وہ مَقام حاصل کیا کہ آپ کے ہم عَصربڑے بڑے مُحَدِّثین کو بھی آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کے فَضل وکمال کا اِعتراف رہا ، چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا علامہ ذَہَبی علیہ رحمۃاللّٰہ القوی نے آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کا  تَذکِرہ اِن الفاظ میں لکھا ہے :’’وہ بہت بڑے اِمام، فقیہ، مجتہد، حدیث کے بہت ماہر اور معتبرحافظ  تھے ۔ ‘‘ (تذکرۃ الحفاظ ج۱ ص۹۰) حضرت سیِّدُنا میمون بن مِہران علیہ رحمۃُ اللّٰہِ المناننے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو مُعَلِّمُ الْعُلَمَاء قرار دیا اور فرمایا:’’ہم اِن کے پاس اِس خیال سے آئے تھے کہ وہ ہمارے محتاج ہوں گے ، لیکن معلوم ہوا کہ ہم خود اِن کی شاگردی کے لائق ہیں ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۳۵) ایک صاحب جو حضرت سیِّدَینا ابنِ عمر اور ابنِ عبّاس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما  جیسی قدآور عِلمی شخصیات کی صحبت میں رہ چکے تھے ، ان کا بیان ہے کہ ہمیں جب بھی کوئی مَسئَلہ جاننے کی ضرورت پڑی تو اُس کا جواب حضرت عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سے ملا، وہ یقینا سب سے زیادہ عِلم رکھنے والے تھے ۔ (البدایۃ والنہایۃ ، ج۶، ص۳۳۳)

رات بھر مَدَنی مذاکرہ جاری رہا

            حضرت سیِّدنا عبداللّٰہ بن طاؤس رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ میرے والدِ گرامی حضرت سیِّدُنا طاؤس رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نَمازِ عشاء کے بعد ایک شخص سے مصروفِ گفتگو ہوئے تو رات بھر مَدَنی مذاکرہ جاری رہا حتی کہ فجر کی اذانیں ہونا شروع ہوگئیں ۔ میں نے اپنی حیرت دور کرنے کے لئے والد ِ محترم سے اُن کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: یہ خاندانِ بنواُمیہ کے سب سے نیک شخص حضرت عمر بن عبدالعزیز  (عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز) تھے ۔ (البدایۃ والنہایۃ ، ج۶، ص۳۳۳)

ہاتھوں ہاتھ جواب

            حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ایسے زبردست فَقِیہ وعالِم تھے کہ بڑے بڑے علماء کرام مشکل ترین سوالات کیا کرتے اور آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ ہاتھوں ہاتھ اُن کے جوابات دے دیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ حجاز اور شام کے متعدَّد علما جمع تھے ، انہوں نے آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کے صاحبزادے حضرت سیِّدنا عبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِقسے کہا کہ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سے پارہ22سورۂ سبا کی آیت 52 کی تفسیر پوچھئے :

اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ(۵۲) (پ۲۲، سبا :۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اب وہ اسے کیونکر پائیں اتنی دور جگہ سے !

انہوں نے جاکرپوچھا تو فرمایا:’’ اَلتَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚ ‘‘ سے وہ توبہ مراد ہے جس کی ایسی حالت میں خواہش کی جائے جس میں انسان اُس پر قادِر نہ ہو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۷)

عِلمی مَشاغِل جاری نہ رکھ سکے

            اُمُورِ سلطنت میں مصروفیت کی وجہ سے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز عِلمی مشاغِل جاری نہ رکھ سکے ، خود آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کا بیان ہے : خَرَجْتُ مِنَ اْلمَدِیْنَۃِ وَمَا مِنْ رَجُلٍ اَعْلَمُ مِنِّیْ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الشَّامَ نَسِیْتُیعنی میں مدینۂ طَیِّبَہ زَ ادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًسے زبردست عالِم بن کر نکلا مگر شام آکر (مصروفیت کی وجہ سے ) بھول گیا ۔ (تذکرۃ الحفاظ  للذھبی ج۱، ص۹۰)

آپ نے یاد رکھا اور میں بھول گیا

            عظیم مُحدِّث حضرت سیِّدُنا امام زُہری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سے ملاقات کی اور دورانِ گفتگو کچھ اَحادیث سنائیں تو فرمایا:کُلَّ مَا حَدَّثْتَ ِبہٖ فَقَدْ سَمِعْتُہٗ ، وَلٰکِنَّکَ حَفِظْتَ وَنَسِیْتُجو حدیثیں آپ نے بیان کیں وہ سب میں نے بھی سُنی تھیں مگر آپ نے انہیں یاد رکھا اور میں بھول گیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۷)

آپ تابعی بھی ہیں

             ’’تابِعی‘‘ اس خوش نصیب کو کہتے ہیں جس نے کسی صحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے ملاقات کی ہو ۔ (تدریب الراوی فی شرح تقریب النووی ، ص۳۹۲ ) اپنے والدِ گرامی کی طرح حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز بھی تابعی ہیں کیونکہ آپ نے متعدِّد صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمسے ملاقات کا شَرف پایا ہے ۔

حضرتِ عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سے مَروی اَحادیث مبارکہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان اور اپنے ہم عَصرتابعینِ عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامسے اَحادیث روایت کی ہیں مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ حکومتی



Total Pages: 139

Go To