Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

‘‘(مشکوۃ المصابیح، کتاب الادب، رقم ۴۸۶۴، ج۳، ص۴۵)

کلام کو اپنے عمل میں شمار کرنے کا فائدہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ایک خط میں حمدوصلوٰۃ کے بعدلکھا :مَنْ عَدَّ کَلَامَہُ مِنْ عَمَلِہٖ، قَلَّ کَلَامُہٗ إِلَّا فِیْمَا یَنْفَعُہٗیعنی جو اپنے کلام کو عمل میں شمارکرتا ہے وہ  صِرف نفع بخش گفتگو کرتاہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۲)

زبان کی حفاظت

            حضرتِ سیِّدُنا ابوعُبَید رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سے بڑھ کراپنی زَبان کی حفاظت کرنے والا شخص نہیں دیکھا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۹۳)

دُعا دینے کو بھی سلیقہ چاہئے

            ایک شخص حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پاس آیا اور کہا: تَصَدَّقْ عَلَیَّ ، تَصَدَّقَ اللّٰہ عَلَیْکَ بِالْجَنَّۃِیعنی آپ مجھ پر صَدقہ کیجئے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  جنت میں آپ پر صَدقہ کرے گا ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس کی اِصلاح کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّ اللّٰہَ لَا یَتَصَدَّقُ ، وَلٰکِنَّ اللّٰہ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَیعنی بے شک اللّٰہ تعالیٰ صَدقہ نہیں کرتا بلکہ صَدقہ کرنے والوں کو جزا عطا فرماتا ہے ۔ (درمنثور ج۴ص۵۷۷)

طویل نہیں پاکیزہ زندگی کی دُعا دو

            حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن یحییٰ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک آدمی آیا اور آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو مُخاطَب کرکے کہنے لگا: اَ بْقَاکَ اللّٰہُ یَا اَمِیْرَالْمُوْمِنِیْنَ مَادَامَ الْبَقَائُ خَیْراً لَّکَ یعنی یاامیرَالمُؤمنین !اللّٰہ تعالیٰ آپ کو اُس وَقت تک زندہ رکھے جب تک زندہ رہنے میں آپ کے لئے بھلائی ہو ۔ ‘‘ مگر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: مجھے یوں دُعا دو:’’اَحْیَاکَ اللّٰہ حَیَاۃً طَیِّبَۃً وَتَوَفَّاکَ مَعَ الْاَبْرَارِ یعنی اللّٰہ تعالیٰ تمہیں پاکیزہ زندگی عطاکرے اوراچھوں کے ساتھ حَشر کرے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۷)

یکسوئی سے دُعا مانگو

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو اپنے ہاتھ میں موجود کنکریوں سے کھیلتے ہوئے یہ دُعا کررہا تھا: اللّٰھُمَّ زَوِّجْنِیْ مِنَ الْحُوْرِالْعَیْن یعنی  یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ! حورانِ عین سے میرا نکاح کروا دے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اس کے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا:کنکریاں پھینک کر خالص اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی طرف مُتَوَجِّہ ہوکر دُعا کیوں نہیں کرتے ؟  ؎[1](سیرت ابن جوزی ص۷۹)

بولنے میں رکاوٹ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے کاتب نُعَیم بن عبداللّٰہ فرماتے ہیں کہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے :فخر ومباہات میں  مُبتَلا ہونے کا خوف مجھے زیادہ بولنے سے روک دیتا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۹۵)

تین نقصان دہ عادتیں

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز    عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  نے حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے دریافت کیا: کونسی عادتیں انسان کو نقصان پہنچاتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا:کَثْرَۃُ کَلَامِہٖ ، وَاِفْشَائُ سِرِّہٖ ، وَالثِّقَۃُ بِکُلِّ وَاحِدٍ یعنی بہت زیادہ بولنا، اپنا راز کسی پر ظاہر کردینا اور ہر ایک پر اِعتِماد کر لینا ۔ (باب السلک فی طبائع الملک، السیاسۃ الثانیۃ، ۲۷۹)

 جاہل کون؟

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز    عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز   نے فرمایا: جب بھی کسی جاہِل سے تمہارا واسطہ پڑے گا تم اس میں دوخصلتیں ضرور پاؤ گے : کَثْرَۃُ الْاِلْتِفَاتِ وَسُرْعَۃُ الْجَوَابِ یعنی بہت زیادہ اِدھر اُدھر دیکھنا اور ہر بات کا جلدی جلدی جواب دے دینا ۔ (آداب الشرعیۃ ، فصل فی حسن الخلق ، ج۲ ص۳۱۱)

بیان روک دیا

            حضرت سیِّدُنا میمون بن مِہران رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز بیان فرما رہے تھے کہ ان کی نظر ایک شخص پر پڑی جو بیان سے متأثر ہوکر زاروقطارآنسو بہا رہا تھا ، یہ دیکھ کر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ایک دم خاموش ہوگئے ، میں نے عَرض کی : یاامیرَالمُؤمنین ! آپ بیان جاری رکھئے تاکہ سننے والوں کو فائدہ پہنچے تو فرمایا: میمون! کلام کرنا بھی ایک آزمائش ہے اور کچھ کہنے سے کر کے دِکھانا افضل ہے ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۸۸، ملخصًا)

کم گوئی کی عادت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز اکثر فرمایا کرتے : مجھے یہ پسند نہیں کہ بولنے کے بدلے مجھے اِتنا کچھ مل جائے ( یعنی مجھے خاموشی پسند ہے ) ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۴)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے زَبان کی حفاظت (قفلِ مدینہ) کے حوالے سے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے عطا کردہ مَدَنی پھول ملاحظہ کئے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ زَبان اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ۔ اس زَبان کے ذریعے نیکیاں بھی کمائی جاسکتی ہیں اور یہی زَبان ہمیں جہنم کی گہرائیوں میں بھی پہنچا سکتی ہے ۔ افسوس!فی زمانہ



[1]    دُعا کے آداب وفضائل جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ318 صفحات پر مشتمل کتاب ’’فضائلِ دُعا ‘‘کا ضرور مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 139

Go To