Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            ایک وَفد حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی خدمت میں آیا ، ایک نوجوان گفتگو کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: کسی بڑے کو بات کرنے دو ۔ اس نے عَرض کی : یا امیرالمؤمنین! اگر عمر کا زیادہ ہونا ہی مِعیَار ہے تو آپ کی جگہ بھی کسی بڑی عمر والے کو ہونا چاہئے تھا ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس کا ذہانت بھرا جواب سن کر اُسے بولنے کی اِجازت دے دی ۔ (احیاء العلوم، ج۴ ص۱۰۴)

جلد اِطاعت کا انعام

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزی نے فرمایاکہ جب   اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے فِرِشتوں کو  حُکم دیا کہ آدم (عَلَیْہِ السَّلام) کو سجدہ کریں تو سب سے پہلے  حضرتِ سیِّدُنااِسرافیل عَلَیْہِ السَّلام نے سجدہ کیا اس کا انعام یہ ملا کہ ان کی پیشانی پر قراٰنِ کریم لکھا گیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین اورزبان کا قفلِ مدینہ

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: مَنْ لَمْ یَعُدَّ کَلَامَہُ مِنْ عَمَلِہِ کَثُرَتْ ذُنُوْبُہٗیعنی جو شخص اپنے کلام کو عمل میں شُمار نہیں کرتا اس کے گناہ بڑھ جاتے ہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۹)

طنزومِزاح کرنے والوں پر اِنفِرادی کوشِش

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزمذاق مَسخری کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے ، ایک بار خاندانِ  بَنُو اُمَیَّہ کے چند لوگ جمع ہوئے اور ان کے سامنے ظَرافَت آمیز گفتگو شروع کردی تو فرمایا:’’کیا تم لوگ اِسی لئے جمع ہوئے ہو؟ اپنی محفلوں میں قرآن مجید کے متعلِّق گفتگو کرو، ورنہ کم از کم شریفانہ باتیں تو ضرور ہونا چاہئیں ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۷۷ملخصا) ایک اور مقام پر اِرشاد فرمایا: آپس میں ہنسی مذاق سے بچو کیونکہ یہ دل میں کِینہ اور کھوٹ پیدا کرتا ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ، ص۱۱۴)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سَنجیدَگی کو اپنے مِزاج کا حصہ بنا لیجئے اور مذاق مَسخَری کی عادت پالنے سے پرہیز کریں ۔ لیکن یاد رہے کہ رونی صورت بنا ئے رکھنے کا نام سَنجیدَگی نہیں اور نہ ہی بقَدَرِ ضَرورت گفتگو کرنا یا کبھی کبھار (جائز) مِزاح کرلینااور مسکرانا سَنجیدَگی کے مُنافی ہے ۔ ہاں ! کثرتِ مِزاح اور زیادہ ہنسنے سے پرہیز کریں کہ اس سے وَقار جاتا رہتا ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ’’ جو شخص زیادہ ہنستا ہے ، اس کا دَبدَبہ اور رُعب چلا جاتا ہے اور جو آدمی(کثرت سے ) مزاح کرتا ہے وہ دوسروں کی نظروں سے گر جاتا ہے ۔ ‘‘(احیاء العلوم ج ۳، ص۲۸۳ )  مزاح بھی ایسا ہونا چاہیے جس کی وجہ سے کسی گناہ کا اِرتکاب نہ کرنا پڑے مثلاً کسی کا دل دُکھا نا یا غیبت کرنا یاجھوٹ بولنا وغیرہ ۔  سَروَرِ کونین  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے اِرشاد فرمایا، ’’ایک شخص کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے پاس بیٹھنے والوں کو ہنساتا ہے ، لیکن وہ اُسے آسمان کے زمین سے فاصلے سے بھی زیادہ فاصلے تک دُور جہنم میں لے جائے گی ۔ ‘‘(مجمع الزوائد ، ج۸، ص۱۷۹، رقم:۱۳۱۴۹ )

شوروغُل کو ناپسند فرماتے

          حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزمَتانت اور سَنجیدَگی کی وجہ سے شور و غُل کو نہایت ناپسند کرتے تھے ۔ ایک بار ایک شخص نے ان کے پاس بلند آواز سے گفتگو کی تو فرمایا:اِخْفِضْ مِنْ صَوْتِکَ فَاِنَّمَا یَکْفِیْ الرَّجُلَ مِنَ الْکَلَامِ قَدْرَ مَایُسْمَعُ یعنی اپنی آواز پَست رکھو کیونکہ انسان کے لئے اتنی آواز سے بات کرنا کافی ہے کہ اس کی بات اس کا ہم نشین سن لے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۷)

شرم وحیا کا پیکر

            جن اَعضاء کے نام لینے سے شَرم آتی ہے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز اُن کا نام نہیں لیتے تھے ، ایک بار بَغَل میں پھوڑا نکلا، لوگوں نے پوچھا : کہاں پھوڑا نکلا ہے ؟ فرمایا: میرے ہاتھ کے بَطَن میں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۸)

خاموش طبع کی صحبت میں رہو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: جب تم کسی خاموش طَبع اور لوگوں سے دُور رہنے والے شخص کو دیکھو تو اس کے قریب ہوجاؤ کیونکہ  وہ حکیم (یعنی حکمت والا) ہوگا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۸)

زَبان خزان                        ے کی چابی ہے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: اَلْقُلُوْبُ اَوْعِیَۃُالسَّرَائرِِِوَااْلاَلْسِنُ مَفَاتِیْحُھَا ، فَلْیَحْفَظْ کُلٌّ امْرِئٍ مِّنْکُمْ مِفْتَاحَ وِعَائِ سِرِّہٖ یعنی دل رازوں کا خزانہ اور زَبان اس کی چابی ہے یعنی لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ خزانے کی چابی کی حفاظت کرے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۷)

بولنے والا فائدے میں رہا

            ایک عالِمِ دین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پاس تشریف لے گئے تو دورانِ گفتگو فرمانے لگے کہ عِلمہونے کے باوجود خاموش رہنے والا اورعِلم ہوتے ہوئے بولنے والا دونوں برابر ہیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:مگرمیرا خیال یہ ہے کہ بولنے والا افضل ہے کیونکہ اس نے  لوگوں کو نفع پہنچایا جبکہ خاموش رہنے والے کا فائدہ  صِرف اسی کی ذات کو پہنچا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۰)

بھلائی کا سِکھانا خاموشی سے بہتر ہے

            فرمانِ مصطفیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : تنہائی بُرے ہم نشین سے بہتر ہے ، اچھا ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے ، بھلائی کا سکھانا خاموشی سے بہتر ہے اور برائی کی تعلیم سے خاموشی بہتر ہے ۔



Total Pages: 139

Go To