$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

الْعَزِیزنے ایک کمرے میں حفاظت سے رکھا ہواتھا اور روزانہ اس کی زِیارت کرتے تھے ۔ اگر کبھی قُرَیش ان کے پاس جمع ہوتے تو ان کو لے جا کر ان مقدس تبرُّکات کی زِیارت کرواتے اور کہتے کہ یہ اُس مقدس ذات  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے تبرُّکات ہیں جس کے ذریعے سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے تم لوگوں کو عزت دی ہے ۔ (سیرت ابن جوزی۲۵۳) آپ کااِنتقال ہونے لگا تو سب سے زیادہ فِکر اِسی زادِ بابَرَکت کی ہوئی چنانچہ وصیت کی کہ  کَفَن میں نُورِ مُجَسَّم، نبیِّ مُحتَشَم، شافِعِ اُمَم  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکے چند موئے مُبارَک و ناخنِ پاک رکھے جائیں ۔

قبر میں میِّت کے سا تھ تَبَرُّکات رکھئے

            جب کسی اسلامی بھائی یا اسلامی بہن کا اِنتقال ہو جائے تو تدفین کے وَقت کچھ نہ کچھ تبرُّکات میِّت کے ساتھ رکھ دیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ یہ عمل میِّت کے لئے سکون و اِطمینان اور نکیرین کے سوالات کے جواب دینے میں مددگار ثابت ہو گا ۔

 حضرت سیِّدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عنہ  کی وصیَّت

            کاتبِ وحی حضرتِ سیِّدناامیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عنہ  نے بھی اپنے اِنتقال کے وَقت وصیت فرمائی تھی:’’ ایک دن حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم حاجت کے لئے تشریف لے گئے ۔ میں لوٹا لے کر ہمراہ رکاب سعادت مآب ہُوا ۔ حضورپُرنورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا پہنا ہوا ایک کُرتا مجھے بطورِانعام عطافرمایا، وہ کُرتا میں نے آج کے لئے سنبھال رکھا تھا ۔ اور ایک روز حضورِ انورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ناخن و مُوئے مُبارَک تراشے ، وہ میں نے لے کر اس دن کے لئے سنبھال رکھے تھے ، جب میں مرجاؤں تو قمیصِ پُر تَقدِیس کو میرے  کَفَن میں رکھنا اورموئے مُبارَک وناخُن ہائے مقدسہ کو میرے منہ اور آنکھوں اورپیشانی وغیرہ مواضع سُجودپر رکھ دینا ۔ ‘‘(  الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، معاویہ بن سفیان، ج۳، ص ۴۷۳)

تبرُّکات رکھنے کا طریقہ

            اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰنفرماتے ہیں :’’شجرہ طَیِّبَہ (اور دیگر تبرُّکات) قَبْر میں طاق بناکر رکھیں خواہ سرہانے کہ نکیرین پائینتی کی طرف سے آتے ہیں اُن کے پیشِ نظر ہو، خواہ جانبِ قِبلہ کہ میّت کے پیش رو (یعنی سامنے ) رہے اور اس کے سکون و اِطمینان واِعانتِ جواب کا باعث ہو ۔ ‘‘(فتاوی رضویہ، ج ۹، ص۱۳۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میں بھی غلامِ علی ہوں

            ایک بارامیرُ المُؤمنینحضرتِ سیِّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیمکے آزادشدہ غلام یزید بن عمر بن مورق ان کی خدمت میں حاضِر ہوئے توحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے دریافت فرمایا: تم کس طَبقَہ سے تعلق رکھتے ہو؟ بولے :میں مولیٰ بنی ہاشم میں ہوں اور حضرتِ سیِّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم کا نام لیا، توآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے اور کہا کہ میں خود حضرتِ سیِّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم کا غلام ہوں کیونکہ رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے فرمایا ہے کہ میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں ۔ پھر اپنے وزیر مُزاحِم سے پوچھا کہ اس قسم کے لوگوں کو کیا وظیفہ دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: 100یا 200 دِرہم ۔ فرمایا: وِلایتِ علی کی بنا پر اس کو پچاس دِینار دیا کرو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کا رضا ئے الٰہی پر راضی رہنا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سے ایک مرتبہ پوچھا گیا: مَا تَشْتَہِیْیعنی آپ کی کیا خواہش ہے ؟ فرمایا:  مَا یَقْضِی اللّٰہُیعنی جو اللّٰہ تعالیٰ کا حُکم ہو ۔ (احیاء العلوم، ج۱ ص۶۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہتعالیٰ کی رِضا پر راضی رہنا سعادت مندوں کا شیوہ ہے ، اور کیوں نہ ہو کہ ہمارے میٹھے میٹھے آقاصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  یہ دُعا مانگا کرتے تھے :  یااللّٰہ میں تجھ سے تندرستی ، پاک دامنی ، امانت داری ، اچھے اخلاق اور تقدیر پر رِضا مانگتا ہوں ۔ (کتاب الادب للبخاری، ص۸۶ ، الحدیث ۳۰۷)

اس پر میری رحمت ہے

            رِضائے الہٰی پر راضی رہنے والے کو بیش بہا بَرَکتیں ملتی ہیں !چُنانچِہ حُضُورِ اکرم، شفیعِ معظَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: بندہ اللّٰہتعالیٰ کی رِضا تلاش کرتا رہتا ہے ، اِسی جُستجو میں رہتا ہے ، اللّٰہتعالیٰ جبریل سے فرماتا ہے کہ فلاں میرا بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے آگاہ رہو کہ اس پر میری رحمت ہے ۔ تب حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلامکہتے ہیں : فلاں پراللّٰہکی رحمت ہے ، یہی بات حاملینِ عرش فِرِشتے کہتے ہیں ، یہی ان کے اِردگرد کے فِرِشتے کہتے ہیں حتی کہ ساتویں آسمان والے یہ کہنے لگتے ہیں پھر یہ رحمت اس شخص کے لیے زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ ( مسنداحمد، الحدیث ۲۲۴۶۴، ج۸، ص۳۲۸)

                 مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :(بندہ اللّٰہکی رِضا تلاش کرتا رہتا ہے ) اس طرح کہ اپنے دینی و دنیاوی کاموں سے رب تعالیٰ کی رِضا چاہتا ہے کہ کھاتا پیتا، سوتا جاگتا بھی ہے تو رِضائے الہٰی کیلئے ، نَماز و روزہ تو بہت ہی دُور ہے خدا تعالیٰ اس کی توفیق نصیب کرے ۔ ‘‘حدیثِ پاک کے اس حصے کہ ’’اس پر میری رحمت ہے ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یعنی اس پر میری کامِل رحمت ہے اس طرح کہ میں اس سے راضی ہوگیا، خیال رہے کہ اللّٰہ  کی رِضا تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت ہے ، جب رب تعالیٰ بندے سے راضی ہوگیا تو کَونَین (یعنی دونوں جہان) بندے کے ہوگئے ، آسمانوں میں اس کے نام کی دُھوم مچ جاتی ، شور مچ جاتا ہے کہ’’ رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ یہ کلمہ دُعائیہ ہے ، یعنیاللّٰہ تعالیٰ اس پر رحمت کرے ، یہ دُعا یا تو فِرِشتوں کی محبت کی وجہ سے ہوتی ہے یا خود وہ فِرِشتے اپنے قُربِ الہٰی بڑھانے کے لیے یہ دُعائیں دیتے ہیں ، اچھوں کو دُعائیں دینا قُربِ الہٰی کا ذریعہ ہے جیسے ہمارا دُرُود شریف پڑھنا ۔ (مراۃ ج۳ص۳۸۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html