Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            سیّدُ المُرسَلِین، جنابِ رحمۃٌ  لِّلْعٰلمِین  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکی محبت اور ادب و احترام ہر مسلمان کا جُزو ِایمان ہے اور حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز میں عِشقِ رسول کا  وَصف بہت نمایاں تھا ۔

بارگاہِ رسالت میں سلام بھیجا کرتے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں خُصُوصی طور پر قاصِد کو بھیجا کرتے تھے تاکہ وہ ان کی طرف سے نبیِّ پاک ، صاحبِ لولاک  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں سلام عَرض کرے ۔ (درمنثور ج۲ص۵۷۰) حضرت سلیمان بن سُحَیم رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں نُور والے آقا  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زِیارت کا شربت پیا تو عَرض کی : یارسولَاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جو لوگ آپ کی بارگاہ میں سلام عَرض کرتے ہیں کیا آپ ان کے سلام کو سمجھتے ہیں ؟ اِرشاد فرمایا: ہاں ! اور ان کا جواب بھی دیتا ہوں ۔ (ایضاً )

مقدَّس تحریرچوم لی

             اگر کہیں  رسولُاللّٰہ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کی کوئی یادگار مِل جاتی تھی تو سر اور آنکھوں پر رکھتے اور اس سے  بَرَکت اندوز ہوتے ۔ کسی نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے خِلاف ایک مقدمہ دائر کیا کہ انہوں نے آپ کو ایک کھیت فروخت کیا تھا پھر اس میں کانیں نکل آئیں ۔ مقدمہ میں کہا گیا کہ ہم نے آپ کو کھیت فروخت کیا تھا، کانیں فروخت نہیں کی تھیں اوربطورِ دلیل انہوں نے آپ کو رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی ایک تحریر دکھائی ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز  نے لپک کر وہ تحریر چوم لی اور اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اور اپنے منتظم سے فرمایا :’’اس کی آمدنی اور خَرچ کا اندازہ لگاؤ ۔ ‘‘ پھر آپ نے خَرچ وضع کرکے باقی رقم انہیں دے دی ۔ (فتوح البلدان ج۱ ص ۳۱ )

چوم کر آنکھوں پر رکھا

             رحمتِ دارین، تاجدارِ حَرَمَین  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے ایک صحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو جاگیریں دی تھیں اور اس کے متعلِّق ایک سَنَدلکھ دی تھی، ان کے خاندان کے ایک شخص نے حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو وہ سَنَد دکھائی تو اس کو چوم کر آنکھوں پر رکھ لیا ۔ (اسد الغابہ ج۵ ص۱۴۱)

حج کی خواہش

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے حَرَمَین طَیِّبَین کی حاضِری کے شوق سے بے قرار ہوکر اپنے غلام  مُزاحِم سے فرمایا: میرا حج کرنے کو جی چاہتا ہے ، کیا تمہارے پاس کچھ رقم ہے ؟ عَرض کی: دس دِرہم کے قریب موجود ہیں ۔ کفِ افسوس مَلتے ہوئے فرمایا:اتنی سی رقم میں حج کیونکر ہوسکتا ہے !کچھ ہی دن گزرے تھے کہ  مُزاحِم نے عَرض کی:امیرُ المُؤمنین تیاری کیجئے ، ہمیں بنو مروان کے مال سے 17ہزاردینار مل گئے ہیں ۔ فرمایا: ان کو بیت المال میں جمع کروا دو، اگر یہ حلال کے ہیں تو ہم بقَدَرِ ضَرورت لے چکے ہیں اور اگر حرام کے ہیں تو ہمیں نہیں چاہئیں ۔ مُزاحِم کا بیان ہے کہ جب امیرُ المُؤمنین نے دیکھا کہ یہ بات مجھ پر گِراں گزری ہے تو فرمایا: دیکھو  مُزاحِم!جو کام میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے لئے کیا کروں اسے گِراں نہ سمجھا کرو، میرا نفس ترقی پسند ہے اور خوب تَر کا مشتاق ہے ، جب بھی اسے کوئی مرتبہ ملا اس نے فوراً اس سے بلند تَر مرتبے کے حُصُول کی کوشِش شروع کردی ، دُنیاوی مَنَاصِب میں سے بلند تَر مَنصَب خِلافت ہے جو میرے نفس کو حاصِل ہوچکا ہے ،  اب یہ صِرف اور صِرف جنّت کا مُشتاق ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۳)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت میں ان لوگوں کے لئے دَرسِ عظیم ہے جو رشوت ، سُود خوری اور جوئے جیسے ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرتے ہیں اور اسی میں سے حج کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑی کامیابی حاصِل کر لی ہے ، ایسوں کو سنبھل جانا چاہئے کہ یہ کامیابی نہیں بلکہ چوری اور سینہ زوری والا معاملہ ہے اور اس کا اَنجام بہت بھیانک ہے ، ایک عبرت ناک حکایت ملاحظہ ہو:

لُوٹ کے مال سے حج کرنے والے کا اَنجام

            ایک قافلہ حج کو جارہا تھا کہ راستے میں ایک مسافر چل بسا، قافلے والوں نے کسی سے ایک پھاوڑا اُدھار لیااوراس سے قَبر کھودکر اسے وہیں دَفن کردیا ۔ جب قَبر بند کرچکے تو انہیں یاد آیا کہ پھاوڑا بھی قَبر ہی میں رہ گیا ۔ انہوں نے اسے نکالنے کے لئے قَبر کھودی ۔ اب جو اندر دیکھا تو اس شخص کے ہاتھ پیر پھاوڑے کے حلقہ میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر قَبر فوراً بند کردی اور پھاوڑے والے کو کچھ پیسے دے کر جان چھڑائی ۔ حج سے واپسی پر اس کی بیوی سے اس کے اَعمال کے بارے میں سوال کیا تو اس نے بتایا کہ ایک مرتبہ اس کے ہمراہ ایک مال دار شخص نے سفر کیا ۔ راستے میں اس نے اس کو مار ڈالا، اب تک یہ حج اور جہاد سب کچھ اسی کے مال سے کرتا رہا ہے ۔ ‘‘(شرح الصدور، ص۱۷۴)

مِٹا دے ساری خطائیں مری مِٹا یا رب            بنادے نیک بنا نیک دے بنا یارب

اندھیری قَبر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر                          کروں گا کیا جو تُو ناراض ہو گیا یا رب

گناہ گار ہوں میں لائقِ جہنَّم ہوں                  کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یا رب (وسائلِ بخشش ، ص۹۳)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کیتَبَرُّکات سے محبت

             نبیِّ مُحتَشَم، شافِعِ اُمَم  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کی متبرک یادگاروں میں سے گدامُبارَک، پیالہ ، چادر، چکی ، تَرکش اورعصا شریف کوحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ



Total Pages: 139

Go To