$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو دنیا میں بھی عذابِ الہٰی کا خوف لگا رہتا تھا، ایک بار زور سے ہوا چلی تو ان کے چہرے کا رنگ سیاہ پڑ گیا ایک شخص نے پوچھا :امیر المومنین !آپ کا یہ کیا حال ہوگیا؟ فرمایا: دنیا میں ایک قوم کو ہوا ہی نے تباہ کیا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۵)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی اس حکایت میں سیرتِ سرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جھلک دکھائی دیتی ہے ، چنانچہ

بادلوں میں کہیں عذاب نہ ہو

            حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہا سے مروی ہے کہ جب رسولِ اکرم ، شفیع معظمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تیز آندھی کو ملاحظہ فرماتے اورجب بادَل آسمان پر چھا جاتے تو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے چہرہ ٔ اقدس کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ کبھی حجرہ سے باہَر تشریف لے جاتے اور کبھی واپَس آجاتے ، پھر جب بارِش ہو جاتی تو یہ کیفیت ختم ہوجاتی ۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو اِرشاد فرمایا :’’اِنِّی خَشِیْتُ اَن یَّکُوْنَ عَذَاباً سُلِّطَ عَلٰی اُمَّتِی یعنی مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں یہ بادل‘ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا عذاب نہ ہو جو میری امّت پر بھیجاگیا ہو ۔ ‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ، ج۱، ص۵۴۶، رقم الحدیث ۹۹۴ )

کوئی جنت میں جائے گا اور کوئی دوزخ میں

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز ایک مرتبہ رونے لگے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو روتا دیکھ کر آپ کی زوجہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا بھی رونے لگیں بعد میں دیگر گھر والے بھی رونے لگے ، جب رونے کا سلسلہ تھما تو عَرض کی گئی : یاامیرَالمُؤمنین ! آپ کیوں رو رہے تھے ؟ اِرشاد فرمایا:مجھے بارگاہِ الہٰی میں حاضِر ہونا یاد آگیا تھا جس کے بعد کوئی جنت میں جائے گا تو کوئی دوزخ میں ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۰۳)

پھر مرتے دم تک نہیں ہنسے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے ایک غلام کا بیان ہے کہ میں رات کے وَقت آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضِر رہتا تھا ، اکثر اوقات آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی گِریہ وزاری کی وجہ سے ٹھیک سے سو نہیں سکتا تھا ، ایک رات آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے معمول سے زیادہ آہ وزاری کی جب صبح ہوئی تو مجھے بلاکر نصیحت فرمائی:بھلائی اس میں نہیں کہ تمہاری بات سُنی جائے اور اِطاعت کی جائے بلکہ اس میں ہے کہ تمہیں تمہارے رب عَزَّوَجَلَّسے روکا جائے پھر بھی تم اس کی اِطاعت کرو ۔ پھر تاکید کی : صبح کے وَقت جب تک خوب دن نہ چڑھ جائے کسی کو میرے پاس نہ آنے دیا کرو کیونکہ لوگ میرے معاملات سمجھ نہیں پائیں گے ۔ میں نے  عَرض کی : آپ پر میرے ماں باپ قربان! آج رات تو آپ ایسا روئے کہ پہلے کبھی نہیں روئے ۔ میری یہ بات سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزرودِئیے اورفرمایا:خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں کھڑے ہونے کا منظر یاد آ گیا تھا ۔ اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہپر بے ہوشی طاری ہوگئی اور کافی دیر کے بعد ہوش میں آئے ، اس کے بعد میں نے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اس دنیا سے سفرِ آخِرت پر روانہ ہوگئے ۔

(سیرت ابن جوزی ص۲۱۶)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بعد ِ موت ‘قَبر میں طویل عرصے تک قیام کرنے کے بعد قِیامت قائم ہونے پر جب ہم میدان ِ محشر میں اپنے پَروَردگارعَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں پہنچیں گے توہمارے تمام اَعمال کو ہمارے سامنے لایا جائے گا ، جیسا کہ سورۃ النبا  میں ہے : یَوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُترجمۂ کنزالایمان: جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھ نے آگے بھیجا ۔ ۳۰ ۔ النبا۴۰) صِرف یہی نہیں بلکہ ہمیں اپنے نامۂ اَعمال کو سب کے سامنے پڑھ کر سنانا ہوگااور اپنے کئے کا حساب دینا ہوگاجیسا کہ پارہ 15سورۂ بنی اسرائیل آیت 13 اور 14میں اِرشاد ہوتا ہے وَ نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ(۱۴) .ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کے لئے قِیامت کے دن ایک نوشتہ(یعنی نامۂ اَعمال) نکالیں گے جسے کھلا ہوا پائے گا ، فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے ۔ ۱۵ ۔ بنی اسرائیل :۱۳، ۱۴) اس کے بعد ہمیں اِن اَعمال کا پورا پورا بدلہ جزایا سزا کی صورت میں دیا جائے گا ، جیسا کہ سورۃ الزلزال میں اِرشاد ہوتا ہے : یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶) فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) (ترجمہ کنزالایمان:اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا ۔ ۳۰، الزلزال ۶، ۷، ۸) پھر جس کسی کو بخشش ونجات کا پروانہ ملے گا وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے گا ، جیسا کہ سورۂ عبس میں اِرشاد ہوتا ہے : وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ(۳۹) ترجمۂ کنزالایمان: کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے ، ہنستے خوشیاں مناتے ۔ ‘‘ ۳۰، عبس ۳۸، ۳۹) اورجسے اس کی شامت ِ اَعمال کے باعث دوزخ میں جانے کا  حُکم سنایا جائے گا، وہ انتہائی مغموم ہوگا جیسا کہ سورۃ الحآقہ میں اِرشاد ہوتا ہے : وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ﳔ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵) وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ(۲۶) :ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جسے اپنانامۂ اَعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نوشتہ (یعنی نامۂ اَعمال) نہ دیا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے ۔ ‘‘۲۹، الحآقہ:۲۵، ۲۶)

            ہر عاقل شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ میدان مَحشَر میں شَرمِندَگی اور جہنم کے دل دہلا دینے والے عذابات سے بچنے کے لئے ہمیں کس قَدَر اِحتیاط کی ضَرورت ہے ؟ لہذا! ہمیں چاہئیے کہ اپنا مُحَاسَبَہ کریں کہ ہم اپنے نامۂ اَعمال میں کس قسم کے اَعمال دَرج کروا رہے ہیں ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں یونہی غفلت کی حالت میں موت آجائے اور سوائے پچھتاوے کے ہمارے ہاتھ کچھ نہ آئے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کاعِشقِ رسول

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html