Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

امتِحان سرپر ہے

            شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اس رِوایت کو نَقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :آج دنیا میں جس طالبِ عِلم کا امتِحان قریب آجا ئے وہ کئی روزپہلے ہی سے پریشان ہوجاتا ہے ، اُس پر ہر وَقت بس ایک ہی دُھن سُوار ہوتی ہے ، ’’ امتِحان سر پر ہے ‘‘وہ راتوں کو جاگ کر اس کی تیّاری اور اَ ہَم سُوالات پر خوب کوشِش کرتا ہے کہ شاید یہ سُوال آجائے شاید وہ سُوال آجائے ، ہراِمکانی سُوال کو حل کرتا ہے حالانکہ دنیا کا امتِحان بہت آسان ہے ، اِس میں دھاندلی ہوسکتی ہے ، رِشوت چل سکتی ہے ، اور اسکافائد ہ بھی فَقَط اتناکہ کامیاب ہونے والے کو ایک سال کی ترقّی مل جاتی ہے جبکہ فیل ہونے والے کوجیل میں نہیں ڈالا جاتا، صِرف اتنا نقصان ہوتا ہے کہ ایک سال کی ملنے والی ترقّی سے اسکو مَحروم کردیاجاتا ہے ۔ دیکھئے تو سہی! اِس دُنیوی امتِحان کی تیّاری کیلئے انسان کتنی بھاگ دوڑ کرتا ہے ، حتّٰی کہ نیند کُشا گولیاں کھا کھاکر ساری رات جاگ کر اِس اِمتِحان کی تیّاری کرتا ہے آہ! قِیامت کے امتِحان کیلئے آج مسلمان کی کوشِش نہ ہونے کے برابر ہے ، جس کا نتیجہ کامیاب ہونے کی صورت میں جنّت کی نہ ختم ہونے والی اَبدی راحتیں اور فیل ہونے کی صورت میں عذاب جہنَّم کا اِستِحقاق ہے ۔ (ماخوذ از قیامت کا امتحان، ص۹)

صرف ایک نیکی چاہئے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم سبھی کو قِیامت کے ہو شرُبا حالات پر غورکرنا چاہئے اورگناہوں سے باز رہتے ہوئے نیکیاں کمانے کی کوشِش کرنی چاہئے ، اُس دن ہمیں ایک ایک نیکی کی قَدَر محسوس ہوگی ، چنانچِہ حضرت سیِّدُنا ابو عبد اللّٰہ محمد بن احمد انصاری علیہ رحمۃ اللّٰہ الباری اپنی مشہورِ زمانہ تفسیر ’’تفسیرِ قُرطُبی ‘‘میں لکھتے ہیں : حضرتِ سیِّدُناعِکرَمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے :قِیامت کے دن ایک شخص اپنے باپ کے پاس آ کر کہے گا:اَبو جان!کیا میں آپ کا فرماں بردار نہ تھا؟کیا میں آپ سے مَحَبَّت بھرا سُلوک نہ کرتا تھا؟ کیا میں آپ کے ساتھ بھلائی نہ کرتا تھا؟ آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں کس مصیبت میں گِرِفتار ہوں !مجھے اپنی نیکیوں میں سے صِرف ایک نیکی عطا کر دیجئے یا میرے ایک گناہ کا بوجھ اٹھا لیجئے ۔ باپ کہے گا: ’’میرے بیٹے ! تو نے مجھ سے جو چیز مانگی وہ آسان تو ہے لیکن میں بھی اُسی چیز سے ڈرتا ہوں جس سے تم ڈر رہے ہو ۔ ‘‘اس کے بعد باپ بیٹے کو اپنے اِحسانات یاد دلاکر یِہی مطالَبَہ کرے گا تو بیٹا جواب دے گا:آپ نے بَہُت تھوڑی چیز کا سُوال کیا ہے لیکن مجھے بھی اِسی بات کا خوف ہے جس کا آپ کو ڈرہے ۔ یونہی ایک شوہر بھی اپنی بیوی سے کہے گا:کیا میں تیرے ساتھ حُسنِ سُلوک نہ کرتا تھا؟ میرے ایک گناہ کا بوجھ اٹھا لے ، ہو سکتا ہے میں نَجات پاجاؤں ۔ بیوی جواب دے گی:آپ نے ایک ہی چیز مانگی ہے لیکن میں بھی اسی طرح ڈرتی ہوں جس طرح آپ ڈرتے ہیں ۔ ‘‘حضرتِ سیِّدُنافُضَیل بن عِیاض  رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ’’بروزِ قِیامت ایک ماں اپنے بیٹے سے کہے گی:’’میرے لال!کیا میرا پیٹ تیرے لئے جائے قرار نہ تھا؟کیا میرا     سینہ تیرے لئے (دودھ کا) مَشکیزہ نہ تھا؟کیا میری گود تیرے لئے آرام گاہ نہ تھی؟ و ہ اِعتِراف کرتے ہوئے کہے گا:’’کیوں نہیں ، امی جان!‘‘ ماں بولے گی :’آج میں گناہوں کے بھاری بوجھ تلے دَبی ہوئی ہوں ، تُوان میں سے  صِرف ایک گناہ کا بوجھ اٹھالے ۔ بیٹاانکار کرتے ہوئے کہے گا:’’امی جان! جائیے کیونکہ مجھے توخُوداپنے گناہوں کی فِکر پڑی ہے ۔ ‘‘(قرطبی ج۷ ص۲۴۷ )

قِیامت کی گرمی میں سایہ عطاہو            کرم سے تِرے عرش کا یاالٰہی

خُدایامجھے بے حساب بخش دینا                 مِرے غوث کا واسِطہ یاالٰہی

جَوار اپنی جنّت میں مجھ کو عطاکر

تِرے پیارے محبوب کا یاالٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پُل صِراط سے گزرو

             امیر المؤمنین حضرت سیِّدناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی ایک کنیز آپ کی بارگاہ میں حاضِر ہوئی اور عَرض کرنے لگی ، ’’عالی جاہ! میں نے خواب میں عجیب معاملہ دیکھا ۔ ‘‘آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے دریافت کرنے پر وہ یوں عَرض گزار ہوئی :’’میں نے دیکھاکہ جہنم کو بھڑکایا گیااور اس پر پل صِراط رکھ دیا گیا پھر اُموی خلفاء کو لایا گیا ۔ سب سے پہلے خلیفہ عبدالملک بن مَروان کو اس پل صِراط سے گزرنے کا  حُکمدیاگیا ، چنانچہ وہ پلِ صراط پر چلنے لگالیکن افسوس! وہ تھوڑا سا چلا کہ پل اُلٹ گیا اور وہ جہنم میں گر گیا ۔ ‘‘حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے دریافت کیا:’’پھر کیا ہوا؟‘‘ کنیز نے کہا :’’ پھر اس کے بیٹے ولید بن عبدالملک کو لایا گیا ، وہ بھی اسی طرح پل صِراط پار کرنے لگا کہ اچانک پُل صِراط پھر الٹ گیا، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں جاگرا ۔ ‘‘آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے سوال کیاکہ ، ’’اس کے بعدکیا ہوا؟‘‘ عَرض کی:’’ اس کے بعد سلیمان بن عبدُالملک کو حاضِر کیا گیا ، اسے بھی  حُکم ہوا کہ پُل صِراط سے گزرو ، اس نے بھی چلنا شروع کیا لیکن یکایک وہ بھی دوزخ کی گہرائیوں میں اتر گیا ۔ ‘‘آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے پوچھا:’مزید کیا ہوا؟‘‘اس نے جواب دیا ، ’’یا امیر المؤمنین !ان سب کے بعد آپ کو لایا گیا ‘‘کنیز کا یہ جملہ سنتے ہی سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے خوف زدہ ہو کر چیخ ماری اور زمین پر گر گئے ۔ کنیز نے جلد ی سے کہا ’’اے امیر المؤمنین ! رحمن عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں نے دیکھا کہ آپ نے سلامتی کے ساتھ پُل صِراط پار کر لیا ۔ ‘‘لیکن سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کنیز کی بات نہ سمجھ پائے کیونکہ آپ پر خوف کا ایسا غلبہ طاری تھا کہ آپ بے ہوشی کے عالَم میں بھی اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ۔ (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۳۲)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حالانکہ غیرِ نبی کا خواب شَرِیعت میں حُجَّت  نہیں پھر بھی آپ نے دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزپُل صِراط پر گزرنے کے مُعامَلے میں کس قَدَر حُسّاس تھے ۔ واِقعی پُل صِراطکا مُعاملہ بڑا ہی نازُک ہے ۔ پُل صِراط بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے تیز تَر ہے اور یہ جہنَّم کی پُشت پر رکھا ہوا ہوگا ، خدا کی قسم ! یہ  سَخت تشویشناک مرحلہ ہے ، ہر ایک کو اس پر سے گزرناہی پڑے گا ۔ (پل صراط کی دہشت، ص۳ ملتقطًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عذابِ الٰہی کا خوف

 



Total Pages: 139

Go To