Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اللَّذَّاتِ یعنی لذّتوں کو مٹا دینے والی موت کو کثرت سے یاد کرو ۔ (شعَبُ الایمان ج۱ص ۴۹۸  حدیث ۸۲۸ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خوفِ قِیامت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزروزِ قِیامت سے بھی نہایت خوف زَدہ رہتے تھے ، یَزید بن حَوشَب کا قول ہے :’’ میں نے حَسَن بصری اور عمر بن عبدالعزیز (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیھما) سے زیادہ کسی شخص کو قِیامت سے ڈرنے والا نہیں دیکھا ، گویا دوزخ صر ف انہی دونوں کے لیے پیدا کی گئی ہے ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۲۲۶)

امیرالمؤمنین کاجنتیوں اور وزخیوں کے بارے میں غوروفکر

            حضرتِ سیِّدُنا سفیان رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں کہ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی مجلس میں گفتگو کا سلسلہ جاری تھا مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہبالکل خاموش بیٹھے تھے ، پوچھا گیا: حضور! کیا بات ہے آپ خاموش کیوں ہیں ؟ فرمایا: میں اہلِ جنت کے بارے میں سوچ رہاہوں کہ وہ کس طرح خوشی خوشی ایک دوسرے سے ملاقات کیا کریں گے ! مگر دوزخی لوگ ایک دوسرے کو بے قراری سے مدد کے لئے پُکارا کریں گے ۔ ‘‘اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہرونے لگے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۴)

کہیں میں دوزخیوں میں سے نہ ہوں

            ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے سورۂ یونس کی آیت 61پڑھی :

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِؕ-۱۱، یونس :۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان:اور تم کسی کام میں ہو  اور اس کی طرف سے کچھ قرآن پڑھو اور تم لوگ کوئی کام کرو ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں جب تم اس کو شروع کرتے ہو ۔

تو رودئیے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے رونے کی آواز اہلِ خانہ تک پہنچی تو زوجہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا لپک کر آئیں جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی پاس بیٹھ کر رونے لگیں ، بقیہ گھر والے بھی آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے آس پاس جمع ہوگئے ۔ کچھ دیر بعد آپ کے شہزادے حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق بھی آگئے اور سب کو روتے دیکھ کر پوچھا : ابوجان! خیریت تو ہے !آپ کیوں رورہے ہیں ؟فرمایا:بیٹا! خیریت ہی ہے ، تمہارے باپ کی خواہش ہے کہ کاش وہ دنیاوالوں کو اور وہ اسے نہ جانتے ۔ ‘‘تھوڑے توقف کے بعد فرمایا:مجھے یہ خوف لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں میں دوزخیوں میں سے نہ ہوں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۷)

جنت ودوزخ کے ذِکر پر رودئیے

            حضرتِ سیِّدُنا محمد بن قَیس رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ دوپہرکے وَقت حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے مجھ سے فرمایا: جنت اور دوزخ کے بارے میں تَذکِرہ کرو ۔ جب میں نے جنت ودوزخ کے اَحوال بیان کئے تو اتناروئے کہ میں نے کسی کو اتنا روتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۸)

حوضِ کوثر کے چھلکتے جام پینے کی تڑپ

            حضرتِ سیِّدُنا ابو سلام اَسود  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سے کہا کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ثوبان  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو فرماتے ہوئے سناہے کہ رسولِ اکرم، نورِمجسّم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے فرمایا: میرا حوض’’ عَدَن ‘‘سے ’’ عُمَّان ‘‘کی مسافت جتنا وسیع ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور اسکے جام ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں ، جو شخص اس میں سے ایک گھونٹ پی لے گا اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا اور اس حوض پر سب سے پہلے آنے والے وہ مہاجرین فقراء ہوں گے جن کے سر گَرد آلود اورکپڑے بوسیدہ ہوں گے جو خوبصورت اور ناز ونعم والی عورتو ں سے نکاح نہیں کرسکتے تھے اورنہ ان کے لئے دروازے کھولے جاتے تھے ۔ ‘‘ یہ فرمانِ بشارت نشان سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے حسرت سے فرمایا: ’’مگر میں نے تو خوبصورت عورتوں میں سے فاطمہ بنت عبدُالملک سے نکاح کرلیا ہے اور میرے لئے دروازے کھول دئیے گئے ہیں لیکن اب میں اپنا سر نہیں دھوؤں گا جب تک پراگندہ نہ ہوجائے اور اپنے پہنے ہوئے کپڑے نہیں دھوؤں گا جب تک بوسیدہ نہ ہوجائیں ۔ ‘‘(ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ، الحدیث ۲۴۵۲، ج۴ ، ص ۲۰۱)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قِیامت کے امتحان کی فکر

            ایک شخص حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس کسی کام سے آیا اور عَرض کی : اے امیر المومنین ! اس وَقت میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں ، اسی منظر سے آپ بار گاہ ِ الہٰی میں اپنا کھڑا ہونا یاد کیجئے جس دن دعویٰ کرنے والوں کی کثرت آپ کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اوجھل نہیں کرسکے گی، جس دن آپ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے سامنے پیش ہوں گے اس دن عمل پر بھروسا ہوگا نہ گناہ سے چھٹکارے کی کوئی صورت ہوگی ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے یہ سن کر فرمایا:بھائی ! یہی بات دوبارہ کہنا، اس نے اپنی بات دُہرائی توحضرت سیِّدناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزروپڑے اور فرمانے لگے : وہی بات ذرا پھر سے کہنا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۱)

قِیامت کے 5 سُوالات

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم خواہ روئیں یا ہنسیں ، تڑپیں یا غفلت کی نیند سوتے رہیں قِیامت کا امتِحان بَر حق ہے ۔ تِرمذی شریف میں اِس امتِحان کے بارے میں فرمایا جارہا ہے :’’ انسان اُس وَقت تک قِیامت کے روز قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک کہ ان پانچ سُوالات کے جوابات نہ دے لے ۔ (۱) تم نے زندگی کیسے بَسَر کی؟ (۲) جوانی کیسے گزاری؟(۳) مال کہاں سے کمایا ؟اور(۴) کہاں کہاں خَرچ کیا؟(۵) اپنے عِلم کے مطابِق کہاں تک عمل کیا؟ ‘‘ (جامع ترمذی حدیث ۲۴۲۴ج۴ص۱۸۸ )

 



Total Pages: 139

Go To