Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیررحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے سامنے موت کا تَذکِرہ کیا جاتا ہے تو مُرغ بِسمِل (یعنی ذبح ہونے والے مُرغ) کی طرح تڑپنے لگتے اور اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تَر ہوجاتی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۴)

 نَرم حدیث بیان کرتا

            حضرت سیِّدُنامیمون بن مِہران علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن سے منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے مجھے کہا:اے میمون!مجھے کوئی حدیث سنائیے تومیں نے انہیں ایک حدیث سنائی جسے سن کر وہ اتنا زیادہ روئے کہ مجھے کہنا پڑا:یاامیرَالمُؤمنین ! !اگرمجھے معلوم ہوتاکہ آپ اِس کوسن کراتناروئیں گے تومیں اِس سے کچھ  نَرم حدیث بیان کرتا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۰۶)

رُونگٹے کھڑے ہوجاتے

             حضرتِ سیِّدُنا ابن ابی عَرُوبہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  کا بیان ہے :کَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ إِذَا ذَکَرَ الْمَوْتَ اِضْطَرَبَتْ أَوْصَالُہٗیعنی حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز  جب موت کو یاد کرتے تو ان کے رُونگٹے کھڑے ہوجاتے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۴۹)

کتنا سفر باقی ہے ؟

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ایک خط میں کسی کو سمجھاتے ہوئے لکھا:میرے بھائی!تم بہت ساسفر طے کرچکے اور تھوڑا سا باقی ہے ، خود کو دنیا کے دھوکے میں  مُبتَلا ہونے سے بچانا کیونکہ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہ ہواور اس کا مال ہے جس کے پاس مال نہ ہو، میرے بھائی!تم موت کے قریب ہوچکے ہولہٰذا تم خود ہی اپنے آپ کو سمجھالو نہ کہ لوگ تمہیں سمجھائیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۴)

مِیزبان کے پاس کب تک رہیں گے ؟

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ایک شخص سے فرمایا کہ میں نے گذشتہ رات ایک سورۂ مبارکہ پڑھی جس میں زِیارت کا ذِکر ہے ، یعنی

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱) حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲) ۳۰، التکاثر:۱، ۲)

ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا ۔

            پھر پوچھااب بتاؤ کہ زِیارت کرنے والا اپنے میزبان(یعنی قَبر) کے پاس کب تک رہے گا ؟ آخرکار اسے وہاں سے واپَس لَوٹنا ہے مگر معلوم نہیں کہ جنت کی طرف یا جہنم کی طرف!(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۶)

اُٹھنے والے جنازوں سے عبرت پکڑو

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے آخری خطبے میں اِرشاد فرمایا:اے لوگو!تمہارے پاس جو مال ہے وہ مرنے والوں کا چھوڑا ہوا ہے ، بالآخر تم بھی اسے یہیں چھوڑ جاؤگے ، کیا تم نہیں جانتے کہ تم روزانہ صبح یاشام کے وَقت اس دنیا سے رخصت ہونے والے کے جنازے میں پیچھے پیچھے چلتے ہو، تم اسے قَبر کے اس گڑھے میں اُتار آتے ہو جہاں بچھونا ہے نہ تکیہ، یہ مرنے والا اپنا سارا مال ومَتاع یہیں چھوڑجاتا ہے ، دوست اَحباب سے جُدا ہوکر مٹی کو اپنا مَسکَن بنا لیتا ہے ، حساب وکتاب کا سامنا کرتا ہے ، اُسی کا محتاج ہوتا ہے جو اِس نے آگے بھیجا ہوتا ہے اور جوکچھ وہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے اس سے بے نیاز ہوتا ہے ۔ پھر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز آنکھوں پر کپڑا رکھ کر رونے لگے اور منبر سے نیچے اُتر آئے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۰۰)

موت کو یاد کیاکرو

             ایک قریشی جو خلفاء کے ہاں جب بھی اپنی ضَرورت لے کر آتا تو ناکام نہیں جاتاتھا ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے پاس بھی آیا اور کوئی ضَرورت پیش کی، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:’’ لَایَجُوْزُ ھٰذَا یعنی یہ تو جائز نہیں ۔ ‘‘خِلافِ معمول وہ اپنے مقصد میں خود کو ناکام ہو تا دیکھ کر غصے سے چل دیا ۔ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے اسے دوبارہ بلایا، وہ سمجھا شاید اب ان کی رائے بدل گئی ہواور یہ میرا کام کردیں گے ۔ جب وہ واپَس آیا تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا :اِذَا رَاَیْتَ شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَا فَاَعْجَبَکَ فَاذْکُرِ الْمَوْتَ فَاِنَّہٗ یُقَلِّلُہٗ فِیْ نَفْسِکَ وَاِذَا کُنْتَ فِیْ شَیْئٍ مِّنَ اَمْرِ الدُّنْیَا قَدْغَمَّکَ وَنَزَلَ بِکَ فَاذْکُرِ الْمَوْتَ فَاِنَّہٗ یُسَہِّلُہٗ عَلَیْکَ وَھٰذَا اَفضَلُ مِنَ الَّذِیْ طَلَبْتَ  یعنی جب دنیا کی کسی چیز کو دیکھو اور وہ تمہیں پسند آجائے تو موت کو یاد کرلیا کروکیونکہ اس چیز کی وُقعت تمہاری نظر میں کم ہوجائے گی اور جب تم دنیا کی کسی چیز کو دیکھو جو تمہیں نہ ملنے کی وجہ سے پریشان کر دے تو موت کو یاد کر لیا کرو اُس چیز کے نہ ملنے کا غم ہلکا ہوجائے گا، جاؤ یہ نصیحت اس چیز سے بہتر ہے جس کا تم نے مطالبہ کیا تھا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۳) اسی طرح کی نصیحت ایک موقع پر عنبسہ بن سعید کو بھی کی : اَکْثِرْ مِنْ ذِکْرِ الْمَوْتِ ، فَإِنْ کُنْتَ فِیْ ضَیْقٍ مِّنَ الْعَیْشِ وَسَّعَہٗ عَلَیْکَ ، وَإِنْ کُنْتَ فِیْ سَعَۃٍ مِّنَ الْعَیْشِ ضَیَّقَہٗ عَلَیْکَیعنی موت کو اکثر یاد کیا کرو اس کے دو فائدے ہیں اگر تم محنت و تکلیف میں  مُبتَلا ہو تو یادِ موت سے تم کو تسلی ہوگی اور اگر فراغت و آسُودَگی حاصِل ہے تو موت کا ذِکر تمہارے عیش کو تَلخ کردے گا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۳۹)

            واقعی! جب انسان صِدقِ دل سے اپنی موت اور اس کے بعد درپیش معاملات کے بارے میں غوروتفکرکرتا ہے تودُنیاوی آزمائشیں اُسے آسان اور عارِضی دکھائی دیتی ہیں اور اگر اُسے آسائشیں میسر ہوں تو اِن کی رُخصتی کا خیال اُس کی دلچسپی کوکم کردیتا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کا دل فُضُولیات ولَغوِیات سے دور ہو کرعِبادت ورِیاضت کی طرف مائل ہوجاتا ہے ۔ رحمت ِعالَم ، نور ِمجسم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے بھی موت کو کثرت سے یاد کرنے کی ترغیب اِرشاد فرمائی ہے ، چنانچِہ

 لذَّتوں کو مٹانے والی

            جلیل ُ القدْر صحابی ٔ رسول حضرتِ سیِّدُنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رِوایت کرتے ہیں کہ محبوبِ رحمن، سَروَرِ ذیشان، رحمتِ عالَمِیَّانصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ لوگوں کو ہنستے دیکھ کر فرمایا :اگر تم لذَّات کو مٹا دینے والی ( موت) کو کثرت سے یاد کرتے تو وہ تمہیں اس چیز سے باز رکھتی، جس میں ، مَیں تمہیں مشغول دیکھ رہا ہوں ۔ پھر فرمایا:اَ کْثِرُوْا ذِکْرَھَاذِمِ



Total Pages: 139

Go To