Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

زادِ آخِرت تیار کر لو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ایک مرتبہ فِکرِ آخرت دلاتے ہوئے اِرشاد فرمایا: اس موت نے دنیاوالوں کی چمک دَمک کوخراب وپَراگَندَہ کردیا ، جب ان کے پاس مَلکُ الموت عَلَیْہِ السَّلام تشریف لے آئے تو جس حالت میں وہ تھے اسی حال میں ان کی رُوح قَبض کر لی ، جہانِ آخِرت میں حسرت وافسوس ہے اس کے لئے جوموت سے نہ ڈرے ، اے کاش ! ایسا شخص نَرمی وآسانی میں موت کو یادکرتاتواپنے لئے کوئی خیرآگے بھیجتا، جسے دنیااوراہلِ دنیاکوچھوڑنے کے بعد پاتا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۲۹۸)

بوسیدہ نہ ہونے والا  کَفَن

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزایک مرتبہ قبرستان تشریف لے گئے تو ایک قَبر سے آواز آئی کیا میں آپ کو ایسے  کَفَن کے بارے میں نہ بتاؤں جو بوسیدہ نہیں ہوتا ! آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جواب دیا :’’ضرور بتاؤ ۔ ‘‘ آواز آئی :تقویٰ اور نیکیوں کا  کَفَن ۔ (البدایۃ والنہایۃ ، ج ۶ ، ص۳۴۳)

موت کو یاد کرنے کا فائدہ

 حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اہلِ شام کو ایک خط میں حمدوصلوٰۃ کے بعدلکھا:مَنْ اَکْثَرَ ذِکْرَ الْمَوْتِ رَضِیَ مِنَ الدُّنْیَا بِالْیَسِیْرِ یعنی جوموت کو اکثر یاد رکھتا ہے وہ دنیا کی تھوڑی شے پر راضی ہوجاتا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۲)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کیسی پیاری نصیحت ہے کہ دنیا سے رُخصتی جس کے پیشِ نظر ہوگی وہ ’’ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ‘‘(یعنی کچھ اور ہے ؟) کا نعرہ بلند نہیں کرے گا ، بلکہ تھوڑی چیز بھی اس کے لئے کافی ہوگی ۔

دنیاوی رَنج وغم کا علاج

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے شہزادے عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ میرے والدِ محترم فرمایا کرتے تھے :اِذَاکُنْتَ مِنَ الدُّنْیَا فِیْمَایَسُوْ ئُ کَ فَاذْکُرِ الْمَوْتَ فَاِنَّہُ یُسَھِّلُہٗ عَلَیْک یعنی جب تمہیں دُنیاوی رَنج وغم پہنچے تو موت کو یاد کر لیا کرو اس کا سہنا آسان ہوجائے گا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۹)

            واقعی اگرموت کی سختیاں پیشِ نظر رکھی جائیں تو ہر دُنیاوی مصیبت اس کے سامنے بہت چھوٹی دکھائی دے ، حضورِ اَکرم نورِ مجسمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے موت کی شِدّت کے بارے میں فرمایا: آسان ترین موت اُون میں کانٹے دار ٹہنی کی طرح ہے ، اُسے جب کھینچا جائے گا تو اس کے ساتھ ضرور کچھ نہ کچھ اُون بھی نکل آئے  گی ۔ (کنزالعمال، کتاب الموت، الحدیث ۴۲۱۶۷ ج۱۵، ص۲۳۹ )

کانٹے دار ٹہنی

            امیرُ المُؤمنینحضرتِ سیِّدُنا عمرفاروق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  نے حضرتِ سیِّدُنا کَعب  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے کہا: ہمیں موت کی  شِدّت کے متعلِّق بتاؤ! حضرتِ کَعب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے کہا: امیرالمومنین! موت ایسی ٹہنی کی طرح ہے جس میں بہت زیادہ کانٹے ہوں اور وہ انسان کے جِسم میں داخل ہوگئی ہو اور اس کے ہر ہر کانٹے نے ہر رَگ میں جگہ پکڑ لی ہو پھر اسے ایک آدمی انتہائی سختی سے کھینچے ، کچھ باہَر آجائے اور باقی جِسم میں باقی رہ جائے ۔ (جامع العلوم، الحدیث ۳۸ص۴۵۹ )

دنیا میں آنا آسان ، یہاں سے جانا مشکل ہے

            حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :دنیا میں داخلہ آسان مگر یہاں سے جانا آسان نہیں ہے ۔ (احیاء العلوم، ج۳ ص۲۵۸)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!موت کے وَقت تین باتوں کا سامنا ہوتا ہے ، پہلی نَزع کی تکلیف، جو ابھی مذکور ہوچکی ہے ، دوسری حضرتِ سیِّدُنا عِزرائیلعَلَیْہِ السَّلام کی صورت کا مشاہدہ اور اُسے دیکھ کر دل میں انتہائی خوف و دہشت کا پیدا ہونا، اگر بے پناہ ہمت والا آدمی بھی ملک الموت کی اس صورت کو دیکھ لے جو وہ فاسِق و فاجِر کی موت کے وَقت لے کر آتے ہیں تواس کی تاب نہ لاسکے ، چنانچہ

بے ہوش ہوگئے

            حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ملک الموتعَلَیْہِ السَّلام سے کہا: کیا تم مجھے اپنی وہ صورت دکھا سکتے ہو جس میں تم گنہگاروں کی رُوح قَبض کرنے کو جاتے ہو؟ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلام بولے : آپ میں دیکھنے کی تاب نہیں ہے ۔ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا: میں دیکھ لوں گا ۔ چنانچہ ملک الموت نے کہا: تھوڑی سی دیر دوسری طرف  توجُّہ کیجئے ۔ جب آپ نے کچھ دیر کے بعد دیکھا تو ایک کالا سیاہ آدمی نظر آیاجس کے رُونگٹے کھڑے ہوئے تھے ، بدبو کے بھَبھکے اٹھ رہے تھے ، سیاہ کپڑے پہنے ہوئے اور اس کے منہ اور نتھنوں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے اور دُھواں اٹھ رہا تھا،  حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام یہ منظر دیکھ کر بیہوش ہوگئے ، جب آپ کو ہوش آیا تو دیکھا کہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلام سابِقہ شکل میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا اگر فاسِق و فاجر کیلئے موت کی اور کوئی سختی نہ ہو تب بھی  صِرف تمہاری صورت دیکھنا ہی اُس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ۔ (مکاشفۃ القلوب، ص۱۶۹)

کِرامَین کاتِبَین کا سامنا

            موت کے وَقتایک نازُک لمحہ محافظ فِرِشتوں کو دیکھنے کا ہے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا وُھَیب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے مَروِی ہے کہ ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ جب بھی کوئی آدمی مرتا ہے تو وہ مرنے سے پہلے نامۂ اَعمال لکھنے والے فِرِشتوں کو دیکھتا ہے ، اگر وہ آدمی نیک ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللّٰہ  تعالیٰ تجھے ہماری طرف سے جزائے خیردے ، تونے ہمیں بہت سی بہترین مَجالِس میں بٹھایا اور بہت ہی نیک کام لکھنے کو دیئے ، اور اگر مرنے والا گنہگار ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللّٰہ تجھے ہماری طرف سے جزائے خیر نہ دے ، تو نے بہت ہی بُری مجالس میں ہمیں بٹھایا اور گناہوں اور فُحش کلام سننے پر مجبور کیا، اللّٰہ تجھے بہتر جزا نہ دے ۔ اس وَقت انسان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں اور وہ سوائے اللّٰہ تعالیٰ کے فِرِشتوں کے کسی چیز کو نہیں دیکھ پاتا ۔ (مکاشفۃ القلوب، ص۱۷۰)

مُرغ بسمل کی طرح تڑپتے

 



Total Pages: 139

Go To