Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

یادِموت کا فائدہ

            حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالک  رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّمنے اِرشادفرمایا:’’ فَمَنْ اَ ثْقَلَہُ ذِکْرُ المَوْتِ وَجَدَ قَبْرَہُ رَوْضَۃً مِنْ رِیاضِ الجَنَّۃِ یعنی جسے موت کی یاد خوفزدہ کرتی ہے قَبر اُس کے لئے جنت کا باغ بن جائے گی ۔ ‘‘(جمع الجوامع، الحدیث ۳۵۷۶، ج۲، ص۱۴)

آہ ! ہر لمحہ گُنہ کی کثرت و بھرمار ہے                           غلبۂ شیطان  ہے ا ور  نفسِ  بد اَ طوار  ہے

                         زندگی کی شام ڈھلتی جا رہی ہے ہا ئے نفس !                گرم روز و شب گناہوں کاہی بس بازار ہے (وسائلِ بخشش ، ص۱۲۸)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی بشارت

            امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ایک دن کوئی خواب دیکھا اور بیدار ہونے کے بعد فرمایا:’’میری اولاد میں سے ایک شخص جس کے چہرے پر زَخم کا نشان ہوگا ، زمین کو عَدل واِنصاف سے بھر دے گا ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے صاحبزادے حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہمااکثر کہا کرتے : ’’لَیْتَ شَعْرِیْ مَنْ ھٰذَا الَّذِیْ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ فِیْ وَجْھِہِ عَلَامَۃٌ یَمْلَؤُ الْاَرْضَ عَدْلًا یعنی کاش! مجھے معلوم ہوجائے کہ میرے ابوجان(یعنی حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) کی اولاد میں سے کون ہوگا جس کے چہرے پر نشان ہوگا اوروہ زمین کو عدل واِنصاف سے بھر دے گا ؟‘‘وَقت گزرتا رہا، دن مہینوں میں اور مہینے سال میں تبدیل ہوتے رہے اور ’’فاروقی خاندان‘‘ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے خواب کی تعبیر دیکھنے کا منتظر رہا یہاں تک کہ حضرت عاصم بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماکے نواسے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی وِلادت ہوئی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰، ۱۱)

خوابِ فاروقی کی تعبیر

            حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزاپنے والد محترم سے ملنے مِصر آئے تو کچھ عرصہ وہاں رہے ۔ ایک دن دراز گوش(یعنی گدھے ) پر سوار تھے کہ زمین پر گرگئے ، اُن کی پیشانی پر زَخم آیا ، ان کے کم سِن سوتیلے بھائی اَ صبَغ بن عبدالعزیز نے جب ان کی پیشانی سے خون بہتا دیکھا تو خوشی سے اُچھلنے لگے ، جب ان کے والد حضرت سیِّدنا عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو معلوم ہوا تو ناراضی کا اظہار کیا کہ تم اپنے بھائی کے زخمی ہونے پر ہنستے ہو! اَ صبَغ نے وضاحت پیش کی :میں ان کی مصیبت پر ہرگز خوش نہیں ہوااور نہ ان کے گرنے پر ہنسا ہوں بلکہ میری خوشی کا سبب یہ تھا کہ میں دیکھتا تھا کہ ان میں ’’اَشَجُّ بَنِی اُمَیَّہ‘‘کی ساری علامتیں موجود ہیں مگر پیشانی پر زَخم کا نشان نہیں ، جب یہ سواری سے گرے اور پیشانی پر زَخم آیا تو میں بے اِختیارخوشی کے مارے جھومنے لگا ۔ یہ سن کر والد صاحب خاموش ہوگئے اور کہا: جس سے اِس قسم کی اُمیدیں وابستہ ہوں اس کی تعلیم وتربیت مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  ہی میں ہونی چاہئے ۔ چُنانچہ انہیں مدینے شریف بھیج دیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۱) اوروہاں کے مشہور عالم اور مُحَدِّث حضرتِ سیِّدُنا صالح بن کَیسان رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہکو آپ کااَتالِیق(یعنی نگران استاذ) مقرر کیا ۔

خود مدینے شریف جانے کی درخواست کی

            بعض رِوایات کے مطابق حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے اپنے والدِ محترم سے درخواست کی تھی کہ مجھے پڑھنے کے لئے مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  بھیج دیا جائے ، چُنانچہ البِدایہ والنہایہ میں ہے کہ حضرت عبدالعزیز رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو اپنے ساتھ مِصر سے شام لے جانا چاہاتو آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے عَرض کی : اباجان! میں آپ کو ایسا مشورہ نہ دوں جس میں ہم دونوں کا فائدہ ہو ! فرمایا: وہ کیا؟ عَرض کی: آپ مجھے مدینے شریف کی پُربہار عِلمی فِضا میں بھیج دیجئے تاکہ میں وہاں کے فقہائے کرام ومشائخِ عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامسے عِلم وعمل کے مَدَنی پھول حاصل کرسکوں ۔ والد صاحب کو یہ تجویز پسند آئی اور انہوں نے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو ایک خادِم کے ہمراہ  مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  بھیج دیا ۔ (البدایۃ والنہایۃ ، ج۶ ، ص ۳۳۲)

بال مُنڈوا دئیے

             حضرتِ سیِّدُنا صالح بن کَیسان رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہنے جس دَیانت ومحنت  کے ساتھ اپنے شاگردِ رشید حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے کِرداروگُفتار کی نگرانی کی، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک بار  حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنَماز کی جماعت میں شریک نہ  ہوسکے ۔ اُستاذِ محترم نے وجہ پوچھی توبتایا :’’میں اُس وَقت بالوں میں کنگھی کر رہا تھا ۔ ‘‘ تڑپ کر بولے :’’ بال سنوارنے کو نَماز پر ترجیح دیتے ہو!‘‘اور اس بات کی خبر مِصر میں آپ کے والد محترم کو کردی ، انہوں نے اُسی وَقت اپنا خاص آدمی بیٹے کوسزا دینے کے لئے  بھیجا جس نے مدینے شریف پہنچتے ہی سب سے پہلے اُن کے بال مُنڈوائے پھر کوئی دوسری بات کی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۴) اِسی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ کی شخصیت اُن تمام اخلاقی برائیوں سے پاک تھی جن میں بنواُمَیَّہ کے کئی نوجوان  مُبتَلا تھے ۔

            اِس حکایت میں اُن والدین کے لئے دَرس پوشیدہ ہے جو اپنی اولاد کی مَدَنی تربیت پر خاطر خواہ  توجُّہ نہیں دیتے ، اُن سے دُنیاوی تعلیم کے بارے میں تو پوچھ گچھ کرتے ہیں مگرنَمازوں کی اَدائی کی ترغیب نہیں دیتے ، یاد رکھئے کہ تربیتِ اولاد صرف اِس چیز کا نام نہیں کہ انہیں کھانے پینے اور لباس جیسی ضروریات اور دیگر آسائشات مہیا کردی جائیں بلکہ انہیں اللّٰہ ورسول  عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّمکا مُطِیع و فرمانبردار بنانے کی کوشِش کرنا بھی والدین کی ذِمّہ داریوں میں شامل ہے ۔  [1]؎

یاربّ   بچا لے  تُو  مجھے   نارِ جَحِیم  سے

اولاد پہ بھی بلکہ جہنَّم حرام ہو(وسائل بخشش ص۱۸۹)

 



[1]    اولاد کی بہترین تربیت کیونکر کی جائے ، یہ جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ188 صفحات پر مشتمل کتاب ’’تربیتِ اولاد ‘‘کا ضرور مطالعہ فرمائیے ۔



Total Pages: 139

Go To