$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

تمہیں ناپسند اور آخِرت کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں محبوب ہوجائیں گی ۔ ‘‘والسلام    (حلیۃالاولیاء جزء ۵ ص۲۹۹)

آباو اَجداد کی  قَبرو ں سے عبرت پکڑتے

            حضرت سیِّدُنا مَیمون بن مِہران علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز    عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے ہمراہ قبرِستان گیا ۔ جب انہوں نے قبروں کودیکھا تو رو پڑے اور فرمایا: اے میمون !یہ میرے آباو اَجداد بنواُمیہ کی قبریں ہیں ، گویا وہ دنیا والوں کے ساتھ اُن کی لذتوں میں شریک نہیں ہوئے ، کیا تم انہیں نہیں دیکھتے وہ بچھڑ گئے اور اب محض اُن کے قصے باقی ہیں ۔ (احیا ء العلوم ج۲ ص۲۶۴)

آخِرت کی فکر دِلانے والا ایک مکتوب

            ایک گورنر کو فِکرِآخرت سے مَعمُور مکتوب میں فرمایا:تم اپنے آپ کے بارے میں جلد سوچ وبچار کرو اس سے پہلے کہ تمہیں شدیدغم میں مُبتَلاکردیاجائے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کو کیا گیا تھا، تم نے لوگوں کودیکھاکہ وہ کیسے مرتے ہیں اورکس طرح اپنے پیاروں سے جُداہوتے ہیں ؟اور یہ بھی دیکھاموت کیسے جلدی جلدی توبہ کرواتی ہے اورلمبا عرصہ جینے کی امید رکھنے والوں سے اُمّیدکوختم کرتی ہے اور بادشاہ سے اس کی سلطنت مانگتی ہے ، موت ہی بڑی نصیحت ہے ، دنیاسے رُوح کولے جانے اورآخِرت میں رَغبَت دلانے والی ہے ، ہم بُری موت سے اللّٰہ عَزَّوّجَلَّکی پناہ مانگتے ہیں ، ہم تو اللّٰہعَزَّوّجَلَّسے اچھی موت اورموت کے بعدخیر کاسوال کرتے ہیں ۔ تم اپنے کسی ایسے قول وفعل سے دنیاکو طَلَب نہ کروجس سے تمہاری آخِرت کونقصان پہنچے ، اس کی وجہ سے رب عَزَّوَجَلَّ تجھ سے ناراض ہوجائے اورایمان رکھو کہ تقدیرتمہارے پاس تمہارارِزق پہنچادے گی اورتمہیں تمہاری دُنیامیں سے پوراپوراحصہ دے گی جس میں تمہاری قوت کی وجہ سے نہ توزِیادَتی ہوگی اورنہ ہی کمزوری کی وجہ سے اُس میں کچھ کمی ہوگی، اگراللّٰہ عَزَّوّجَلَّ  تمہیں فَقرمیں مُبتَلاکردے تواپنی غربت میں عِفَّت وپاکیزگی اِختیارکرنااوراپنے رب کے فیصلے کے سامنے سرجُھکا دینا اوراللّٰہ  تعالیٰ نے تمہارے حصے میں جواسلام جیسی عظیم دولت رکھی ہے اُسی کوغنیمت سمجھنا، دنیاکی جو نعمتیں تمہیں حاصِل نہ ہوں توتم اپنا یہ ذہن بنالوکہ اسلام میں فانی دنیاکے سونے اورچاندی سے بہتربدلہ موجودہے ۔ جوشخص اللّٰہ عَزَّوّجَلَّ کی رِضااورجنت کی تلاش میں لگتاہے اسے اللّٰہ عَزَّوّجَلَّ کبھی نقصان نہیں پہنچاتااورجوشخص اللّٰہ عَزَّوّجَلَّ کی ناراضی اورجہنم کاخطرہ مَول لیتاہے اُسے کبھی نفع نہیں پہنچائے گا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۱۲)

موت سے ڈرو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا: اِحْذَرُوا الْمَوْتَ فَاِنَّہُ اَشَدُّ مَاقَبْلَہُ وَاَھْوَلُ مَابَعْدَہُ یعنی موت سے ڈرو کیونکہ اس کے پہلے کے معاملات شدید اور بعد کے شدید تَر ہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۹)

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز فرمایا کرتے تھے :میں  نے کبھی ایسا یقین نہیں دیکھا جس میں شک کی مِلاوٹ ہوجیسا لوگوں کا موت کے بارے میں دیکھا کہ وہ اس کا یقین تو رکھتے ہیں مگر جب اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کرتے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید انہیں موت کی آمد کے بارے میں کوئی شک ہے ۔ (قرطبی ، ج۵، ص۴۸)

ہر خطا تُو دَرگُزَر کر بیکس و مجبور کی                یاالہٰی! مغفِرت کر بیکس و مجبور کی

زندگی اور موت کی ہے یاالہٰی کشمکش            جاں چلے تیری رِضا پر بیکس و مجبور کی(وسائلِ بخشش ص۷۶)

 قَبر کی دِل ہلا دینے والی کہانی

             حضرتِ سَیِّدُناعمر بن عبد العزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ایک جنازے کے سا تھ قبرِستان تشریف لے گئے ، وہاں ایک قَبْرکے پاس بیٹھ کر غور وفِکر میں ڈوب گئے ، کسی نے عَرض کی: ’’ یا امیرَالمومنین!رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ یہاں تنہا کیسے تشریف فرما ہیں ؟ فرمایا:’’ابھی ابھی ایک قَبْر نے مجھے پُکار کر کہا:اے عُمَر بن عبد العزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں اپنے اندر آنے والوں کے ساتھ کیا برتاؤکرتی ہوں ؟میں نے اُس  قَبْرسے کہا : مجھے ضَرور بتا ۔ وہ کہنے لگی :جب کوئی میرے اندر آتا ہے تَو میں اُس کا کَفَن پھاڑ کرجِسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی اوراسکا گوشت کھاجاتی ہوں ، ہتھیلیوں کو کلائیوں سے ، گُھٹنوں کوپِنڈلیوں سے اور پِنڈلیوں کو قدموں سے جُداکردیتی ہوں ‘‘ ۔ اتنا کہنے کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ہچکیاں لے کر رونے لگے ۔ جب کچھ اِفاقہ ہوا تو کچھ اس طرح عبرت کے مَدَ نی پھول لٹانے لگے :’’ اے اسلامی بھائیو! اِس دنیا میں ہمیں بَہُت تھوڑ اعرصہ رہنا ہے ، جو اِس دنیا میں ( سَخت گنہگار ہونے کے باوُجُود) صاحِب اِقتدارہے وہ( آخِر ت میں ) انتہائی ذلیل و خوا ر ہے ۔ جو اس جہاں میں مالدار ہے وہ (آخِرت میں ) فقیر ہوگا ۔ اِس کا جوان بوڑھا ہوجائے گا اور جو زندہ ہے وہ مرجائے گا ۔ دنیا کا تمہاری طرف آنا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے ، کیونکہ تم جانتے ہو کہ یہ بہت جلد رخصت ہوجاتی ہے ۔ کہاں گئے تِلاوتِ قراٰن کرنے والے ؟کہاں گئے بیتُ اللّٰہ کا حج کرنے والے ؟ کہاں گئے ماہِ رَمَضان کے روزے رکھنے والے ؟خاک نے انکے جسموں کا کیا حال کردیا ؟ قَبرکے کیڑوں نے ان کے گوشت کا کیا اَنجام کردیا ؟ان کی ہڈِّیوں اور جوڑوں کے ساتھ کیا ہوا ؟اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی قسم!دنیا میں یہ آرام دِہ نَرم نَرم بستر پر ہوتے تھے لیکن اب وہ اپنے گھر والوں اور وطن کو چھوڑ کر راحت کے بعد تنگی میں ہیں ، ان کی بیواؤں نے دوسرے نکاح کرکے دوبارہ گھر بسالئے ، انکی اَولاد گلیوں میں دَربَدر ہے ، ان کے رشتہ داروں نے ان کے مکانا ت ومِیراث آپَس میں بانٹ لی ۔ وَاللّٰہ! ان میں کچھ خوش نصیب ہیں جو قبروں میں مزے لوٹ رہے ہیں اور وَاللّٰہ! بعض قَبر میں عذاب میں گِرِفتار ہیں ۔ افسوس صد ہزار افسوس، اے نادان! جو آج مرتے وَقت کبھی اپنے والِد کی ، کبھی اپنے بیٹے کی توکبھی سگے بھائی کی آنکھیں بند کر رہا ہے ، ان میں سے کسی کو نہلا رہا ہے ، کسی کو کَفَن پہنا رہا ہے ، کسی کے جنازے کو کندھے پر اُٹھارہا ہے ،

 

کسی کے جنازے کے ساتھ جا رہا ہے ، کسی کو قَبر کے گڑھے میں اتارکردفنا رہا ہے ۔ (یاد رکھ! کل یہ سبھی کچھ تیرے ساتھ بھی ہونے والا ہے ) کاش مجھے علِم ہوتا! کون سا گال(  قَبر میں ) پہلے خراب ہوگا‘‘پھر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز رونے لگے اور روتے روتے بے ہوش ہوگئے اور ایک ہفتہ کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے ۔ (الروض الفائق ص۱۰۸ملخصًا)

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html