$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے دل کو انہی چیزوں نے خوف ِ خدا کا آشیانہ بنادیا تھا، چنانچِہ

خوفِ خدا کی ضرورت

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے ایک بیان میں   فرمایا:لوگو!خوفِ خدا کو لازِم پکڑ لو کیونکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا خوف ہرچیز کا بَدَل ہے مگر اس کا کوئی بَدَل نہیں ، اے لوگو!میں تم سے مال ودولت بچا بچا کر نہیں رکھوں گا مگر جہاں ضَرورت ہوگی وہیں صَرف کروں گا، یاد رکھو! خالِق کی نافرمانی کرکے مخلوق کی فرمانبرداری جائز نہیں ہے ۔ (سیرتِ ابن عبدالحکم۳۶) ایک مرتبہ اِرشاد فرمایا:اے لوگو! مہلت زیادہ طویل اور قیامت کا دن کچھ زیادہ دُور نہیں ، جس کی موت آن پہنچی اس کے لئے قیامت بَرپا ہوگئی ۔ (سیرتِ ابن عبدالحکم۳۷)

میرے لئے دُعا کرنا

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے اپنے ایک فوجی اَفسر کو لکھا :’’ خدا عَزَّوَجَلَّکی عظمت اور خَشِیَّت کا سب سے زیادہ مستحق بندہ وہ ہے جو اس مصیبت میں مُبتَلا ہو جس میں اس وقت میں خود مُبتَلاہوں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے نزدیک مجھ سے بڑھ کر سخت عذاب کا حقدار اور مجھ سے زیادہ ذلیل کوئی نہیں ہے ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم جہاد کے لیے روانہ ہونا چاہتے ہو تو میری خواہش یہ ہے کہ جب تم صفِ جنگ میں کھڑے ہو تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے دعا کرنا کہ وہ مجھے شہادت عطا فرمائے ۔ ‘‘(طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۰۸)

خوفِ خدا کے اثرات

            حضرت سیِّدُناابوسائب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں :میں نے کبھی کسی شخص کے چہرے پر ایساخوف یا خُشُوع نہیں دیکھاجیساعمربن عبدالعزیز( عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز) کے چہرے پردیکھا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۲۹۴)

اہلیہ محترمہ کی گواہی

            باہر کے لوگ تو کسی سے مُتَاثِّر ہوہی جاتے ہیں ، گھر والے بھی اس سے  مُتَاثِّر ہوں ایسا بہت کم ہوتا ہے ، حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزانہی میں سے ایک ہیں چنانچِہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی اہلیہ محترمہ حضرت فاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیھاسے امیرُ المُؤمنین کی عبادت کا حال دریافت کیا گیا تو کہنے لگیں : ’’ وہ اور لوگوں سے بڑھ کر نَماز ، روزہ کی کثرت تو نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے کانپتے نہیں دیکھا‘ وہ اپنے بستر پر اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو خوفِ خدا کی وجہ سے چڑیا کی طرح پَھڑ پَھڑانے لگتے یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہوتا کہ ان کا دَم گُھٹ جائے گا اور لوگ صبح کو اٹھیں گے تو خلیفہ سے محروم ہوں گے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۲)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیرالمؤمنین کی یادِ موت

          اُمَراء و سَلاطِین کے یہاں راتوں کو عُمُوماًبزمِ عیش و طَرَب مُنعَقِدہوتی ہے لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے یہاں رات کے وقت فقہاء کرام جمع ہو تے ، موت اور قِیامت کا ذِکر ہوتا اورحاضِرین اس طرح روتے تھے گویا اُن کے سامنے جنازہ رکھا ہوا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۵)

 قَبروالے کے بارے میں سوچتے رہے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے اپنے ایک ہم نشین سے کہا کہ میں غور وفِکر میں رات بھر جاگتا رہا ۔ اُس نے پوچھا:کس چیز کے متعلِّق غور و فِکر کرتے رہے ؟ فرمایا: اگر تم مَیِّت کو تین دن بعد اس کی قَبر میں دیکھو توتمہیں اُس کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک مانُوس رہنے کے باوجود اُس سے وَحشَت ہونے لگے اور اگر تم اس کے گھر(یعنی  قَبر) کو دیکھو جس میں کیڑے پھر رہے ہوں ، پِیپ جاری ہو، کیڑے اس کے بدن کو کھارہے ہوں ، بدبو بھی آرہی ہو اور اس کا کَفَن بوسیدہ ہوچکا ہو ، جبکہ پہلے وہ خوبصورت تھا ، اس کی خوشبو اچھی تھی اور کپڑے بھی صاف تھے ، ‘‘ اِتناکہنے کے بعد آپ نے چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئے ۔ زوجہ محترمہ حضرت فاطمہ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا آئیں اور آپ کے چہرہ مُبارَک پر پانی کے چھینٹے پھینکے ، جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو ہوش آیا تو دیکھاکہ زوجہ محترمہ رو رہی ہیں ، پوچھا: یَافَاطِمَۃُ مَایُبْکِیْکِ یعنی فاطمہ تمہیں کس چیز نے رُلایا؟ عرض کی :یاامیرَالمُؤمنین ! آپ کی دنیا کی رُخصتی اور ہم سے جُدائی کے خیال نے مجھے رُلادیاہے ۔ فرمایا: فاطمہ!تم نے سچ کہا ۔ پھر کھڑے ہونے کی کوشِش کی تو گرنے لگے ، زوجہ محترمہ نے ان کوپکڑ کر گرنے سے بچایا اورکہا: ہم آپ کے بارے میں اپنے دل کی کیفیات کی پوری تَرجُمانی نہیں کرسکتے ۔ امیر المؤمنین پر دوبارہ بے ہوشی طاری ہوگئی یہاں تک کہ نَماز کاوَقت آگیاتوحضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا نے اُن کے چہرے پرپانی ڈالااورآواز دی:یاامیرَالمُؤمنین !  نَمازکاوقت ہوگیا، توگھبراکراٹھ گئے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۰۲  وسیرت ابن جوزی ص۲۲۱)

                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہم بھی اپنے دوستوں اور عزیز واَقارِب کے ساتھ وَقت گزارتے ہیں ، دنیا جہان کی باتیں کرتے ہیں ، مگر ہماری مَحفِلوں اور بیٹھکوں میں قَبر وحَشر، جزاوسزا اور دیگر اُمورِآخِرت کے بارے میں کتنی گفتگوہوتی ہے ؟ اس سوال کا جواب اپنے ضمیر سے پوچھئے !اے کاش ! کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے صَدقے ہمیں بھی حقیقی فِکرِ آخِرت نصیب ہوجائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

موت کو یاد کیا کرو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے اپنے کسی قریبی عزیز کو مکتوب میں لکھا :’’اگر تمہیں دن یا رات میں کسی وَقتموت کویاد کرنے کا شعور مل جائے تودنیا کی سب فانی اشیا



Total Pages: 139

Go To
$footer_html