Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            جعفر بن بُرقان کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ہمیں مکتوب میں لکھا: دین کی سَربُلندی اور اسلام کی پائیداری ان باتوں میں ہے :اَ لْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ ، وَاِقَامُ الصَّلاَۃِ ، وَاِیْتَاء الزَّکَاۃِ ، فَصَلِّ الصَّلَاۃَ لِوَقْتِہَا وَحَافِظْ عَلَیْہَایعنی(۱) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  پر ایمان رکھنا (۲) نَماز قائم کرنا (۳) زکوٰۃ دینا ، لہٰذا تم نَماز کو اس کے وقت میں ادا کرو اور اس میں ہمیشگی اختیار کرو ۔ (درمنثور ج۱ص۷۱۸)

شب بیداری

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی زندگی کا سب سے  پُراَثَر منظر راتوں کو دکھائی دیتا ہے جو اُن کی عبادت گزاری کا اصل وقت تھا ۔ اس مقصد کے لیے گھر کے اندر ایک کمرہ مخصوص کرلیا تھا جس میں کمبل کے سِلے ہوئے کپڑے رکھے رہتے تھے ، جب رات کا پچھلا پہر ہوتا، تو دن کے کپڑے اُتار ڈالتے اور ان کپڑوں کو پہن کر صبح ہونے تک مُناجات اور گِریہ وزاری میں مصروف رہتے اسی حالت میں آنکھ لگ جاتی جب بیدار ہوتے تو پھر سے آہ وبُکا شروع کردیتے ، صبح ہو تی تو ان کپڑوں کو تہہ کرکے صندوق میں رکھ دیتے ۔ مرنے سے پہلے اس صندوق کو ایک غلام کے پاس اَمانتہً رکھ دیا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ اس کو دریا میں بہا دینے کی وصیت کی تھی، جب خاندانِ بَنو اُمَیَّہ کو اس صندوق کا حال معلوم ہوا تو غلام سے طلب کیا، اس نے کہا بھی کہ اس میں مال و دولت نہیں ہے لیکن ان کی حِرص و طَمَع نے اس کا اِعتبار نہیں کیا اور صندوق کو اٹھا کر نئے خلیفہ یزید بن عبدُالملک کی خدمت میں لے گئے ۔ انہوں نے تمام خاندان کے سامنے کھولا تو اندر سے کمبل کا وہی لباس نکلا جسے  حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْقدیررات کو پہنا کرتے تھے ۔ (سیرتِ ابن جوزی ص۲۱۰، ۲۱۱ملخصًا)

عبادت گزاروں کی رات

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ایک شخص کو لکھاـ:اگر تم سے ہوسکے تو عیدقربانِ کی رات عبادت میں بسر کرو کیونکہ یہلَیْلَۃُ الْعَابِدِین(یعنی عبادت گزاروں کی رات ) ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۵)

 رحمت کی چار راتیں

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے بصرہ کے گورنرعدی بن اَرطاۃ کو لکھا :سال بھر میں چار راتوں کو خوب یاد رکھو کیونکہ ان راتوں میں  اللّٰہعَزَّوَجَلَّرحمت کی چھماچھم برسات فرماتا ہے :(۱) رجب کی پہلی رات (۲) شعبان کی پندرھویں رات (۳) عید الفطر کی رات اور(۴) عیدِ قربان کی رات ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۷)

زکوٰۃکی ادائیگی اور نفلی روزوں کا اہتمام

             اپنے مال کی زکوٰۃ پابندی سے ادا فرماتے تھے ، حضرتِ مجاہدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا بیان ہے کہ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے مجھے 30درہم دیئے اور کہا کہ یہ میرے مال کی زکوٰۃ ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۸) آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نفلی روزوں کا بھی اہتمام کیا کرتے چنانچہ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کا معمول تھا، علاوہ ازیں یوم عاشُورا اور عَرَفہ(یعنی 9ذوالحجۃ الحرام) کا روزہ بھی رکھاکرتے تھے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۱)

شکر کی بوریاں صدقہ کیا کرتے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز شکر(یعنی چینی) کی بوریاں  خرید کرصدقہ کرتے تھے ان سے کہاگیا اس کی قیمت ہی کیوں نہیں صدقہ کردیتے فرمایا شَکر مجھے محبوب ومرغوب ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ راہِ خدا میں پیاری چیز خرچ کروں ۔ (قرطبی ، ج۲، ص۱۰۱)

شوقِ تلاوت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزروزانہ صبح سویرے قرآن مجید کی تھوڑی دیر تلاوت کرتے اور رات کے وقت جب سوتے تو نہایت پُر سوز لہجہ میں سورۂ اعراف کی یہ آیتیں پڑھتے :

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ۸، اعراف:۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان:بے شک تمہارا رب اللّٰہ ہے جس نے آسمان اور زمین  چھ دن میں بنائے

اور:

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآىٕمُوْنَؕ(۹۷) ۹، الاعراف :۹۷)

ترجمۂ کنزالایمان:کیا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں ۔

            بعض اوقات ایک ہی سورۂ مبارکہ کو بار بار رات بھر پڑھا کرتے تھے ، چنانچہ ایک رات سورۂ انفال شروع کی توصبح تک پڑھتے رہے ۔ (حلیۃ الاولیاء ، ج۵، ص۳۸۵ ملخصًا، وسیرت ابن جوزی ص۲۱۱)

ایک طرف کو جھک گئے

            ایک بار حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے بَرسر ِمنبر یہ آیت پڑھی:

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ     (پ۱۷، الانبیاء :۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن ۔

تو خوف سے ایک طرف کو جُھک گئے گویا زمین پر گررہے ہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۶)

آیت مکمل نہ پڑھ سکے

 



Total Pages: 139

Go To