Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

زنجیریں نہ ڈال دے ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۰)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب  مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیر المؤمنین کا لبا س

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز جب تک خلیفہ نہیں بنے تھے آپ کی نَفاسَت پسندی کا یہ حال تھا کہ نہایت بیش قیمت لباس زیب تن کرتے تھے اور تھوڑی دیر بعد اسے اُتار کر دوسرا قیمتی لباس پہن لیتے تھے ۔ لباس کے متعلق خود ان کا بیان ہے کہ جب میرے کپڑوں کو لوگ ایک مرتبہ دیکھ لیتے تھے تو میں سمجھتا تھا کہ پرانا ہوگیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۷۲) بسا اوقات آپ کے لئے ایک ہزار دینار میں عالیشان جُبَّہ خریدا جاتاتھامگر فرماتے : اگر یہ کُھردرا نہ ہوتا تو کتنا اچھا تھا !لیکن جب تختِ خلافت پر رونق افروز ہوئے تو مِزاج میں ایسی اِنقِلابی تبدیلی آئی کہ آپ کے لئے پانچ دِرہم کامعمولی سا کپڑا خریدا جاتا مگر آپ فرماتے : اگر یہ نَرم نہ ہوتا تو کتنا اچھا تھا!آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے پوچھا گیا : یاامیرَالمُؤمنین ! آپ کا وہ عالیشان لباس ، اعلیٰ سواری اورمہنگا عِطر کہاں گیا؟آپ نے فرمایا: میرا نفس زِینت کا شوق رکھنے والا ہے وہ جب کسی دُنیوی مرتبے کا مزا چکھتا تو اِس سے اُوپر والے مرتبے کا شوق رکھتا، یہاں تک کہ جب خلافت کا مزا چکھا جو سب سے بلند طبقہ ہے تو اب اُس چیز کا شوق ہوا جو اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔ ( احیاء العلوم، ج۳، ص۸۹۷)

ایک ہی کُرتا

            اکثر اوقات حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے جِسم پر صرف ایک ہی لباس رہتا تھا جسے دھو دھو کر پہن لیتے تھے ، ایک مرتبہ جمعہ کے لئے تاخیر سے پہنچے ، لوگوں نے تاخیر کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا :’’خادِم میرے کپڑے دھونے کے لئے لے گیا تھا ، اس لئے میں باہر نہیں نکل سکتاتھا ۔ ‘‘ یہ سن کر لوگوں کو پتا چلا کہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس ایک ہی لباس ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۲)

آٹھ سو کی چادر اور آٹھ درہم کا کمبل

          حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے ایک شخص سے فرمایا:  آٹھ دِرہم کا کمبل خرید کر لاؤ ۔ وہ صاحب خرید کر لائے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اسے بہت پسند کیا اور ہاتھ میں لے کر فرمایا :’’ بڑا  نَرم ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر وہ بے ساختہ ہنسنے لگے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا :’’ عجیب اَحمق آدمی ہو ، بلاوجہ ہنستے ہو!‘‘ وہ صاحب کہنے لگے ۔ ’’حضور!میں اَحمق نہیں ہوں ، دراصل مجھے یاد آیا کہ جب آپ گورنر تھے تو مجھے فرمایا تھا کہ میں آپ کے لیے ایک عُمدہ قسم کی گرم چادر خرید کر لاؤں ۔ میں نے آٹھ سو دِرہم کی چادر خرید کر پیش کی تھی تو آپ نے اس پر ہاتھ رکھتے ہی فرمایا تھا :’’ بڑی کُھردری اٹھا لائے ۔ ‘‘ اور آج آٹھ درہم کے موٹے سے کمبل کو فرمایا جارہا ہے کہ’’ بڑا ملائم ہے ‘‘اس پر مجھے تعجب ہوا اور بے ساختہ ہنسی آگئی ۔ ‘‘ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا :’’ جو شخص آٹھ آٹھ سو کا کمبل خریدتا ہے میں نہیں سمجھتا کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے بھی ڈرتا ہے ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۴۳)

12درھم کا لباس

            حضرت سیِّدنارَجا بن حَیوَۃ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہجنہوں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی قدیم حالت کو دیکھا تھا ، فرماتے ہیں :’’ خلیفہ ہونے کے بعد اُن کے لباس یعنی عمامہ ، قمیص، قبا(اچکن) ، کُرتہ، موزہ اور چادر وغیرہ کی قیمت لگائی گئی تو صرف 12 دِرہم ٹھہری ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۷۴)

لباس کی سادگی

            حقیقت یہ ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز جس وقت بادشاہ نہ تھے اُس وقت بادشاہوں کی سی زندگی گزارتے تھے اور جس وقت عمامۂ خلافت سر پر باندھا تو بالکل سادہ مِزاج ہوگئے ، ایک بار قمیص کے گِرِیبان میں آگے اور پیچھے دونوں طرف پیوند لگے ہوئے تھے ، نَمازِ جمعہ پڑھا کر بیٹھے تو ایک شخص نے کہا : یاامیرَالمُؤمنین ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کو سب کچھ دیا ہے ، کاش! آپ عمدہ کپڑے پہنتے ! یہ سن کر تھوڑی دیر کے لئے سرجھکا لیاپھر سر اٹھا کرفرمایا:اِنَّ اَفْضَلَ الْقَصْدِ عِنْدَ الْجِدَّۃِ وَاَفْضَلَ الْعَفْوِ عِنْدَ الْمَقْدَرَۃِ یعنی تموُّل(یعنی امیری) کی حالت میں مِیَانہ رَوِی اور قوّت وقدرت رکھتے ہوئے عَفو ودَرگُزَربہتر ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۷۳)

سادہ لباس کی فضیلت

           نِت نئے ڈیزائن اور طرح طرح کی تَراش خَراش والے مہنگے لباس پہننے والوں کے لئے اِن حکایات میں دَرسِ عظیم پوشیدہ ہے ، واقعی اگر ہم سادَگی اپنالیں تودونوں جہاں میں بیڑا پار ہوجائے ، چُنانچِہ سادہ لباس پہننے کی فضیلت پڑھئے اور جُھومئے ۔ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:مَنْ تَرَکَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ وَہُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہَِ تَوَاضُعًا کَسَاہُ اللَّہُ حُلَّۃَ الْکَرَامَۃِ یعنی جو باوُجُودِ قُدرت اچھّے کپڑے پہننا ، تواضُع (عاجِزی ) کے طور پر چھوڑ دے گا اللّٰہعَزَّوَجَلَّاس کو کَرامت کا حُلَّہ (یعنی جنّتی لباس) پہنائے گا ۔ (ابو داوٗدج۴ص۳۲۶، حدیث ۴۷۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نَماز پنجگا نہ کا اہتمام

          نَماز پنجگانہ نہایت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا فرماتے تھے ۔ اَذان کی آواز صاف طور پرسننے کے لئے گھر میں مغرب کی طرف ایک چھوٹی سی کھڑکی بنارکھی تھی ، اگر مُؤذِّن اَذان دینے میں دیر کرتا تھا تو آدمی بھیج کر کہلوادیتے کہ وقت ہوگیا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۱) جب مُؤذِّن اَذان د یتاتو کوشش کرتے کہ اَذان کی آواز کے ساتھ ہی مسجِد میں داخل ہوجائیں ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۷۸)

نَماز کی حفاظت کی تاکید

 



Total Pages: 139

Go To