Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

نے پلٹ کر خبردی تو فرمانے لگے : تمہاری کیا رائے ہے ، اگر ہم بیت المال میں ایک دِینار داخل کردیں تو ذمہ داری سے سُبُک دوش ہوجائیں گے ؟انہوں نے کہا :قیمت تو نِصف دینار کی لگائی گئی! مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے حُکم دیا کہ بیت المال میں دو دینار جمع کروادو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۲)

ہو اَخلاق اچّھا ہو کردار سُتھرا

         مُجھے مُتَّقی تُو بنا یاالہٰی(وسائل بخشش ص ۸۶)

(۹)  خوشبو سونگھنے میں احتیاط

           امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کے سامنے مسلمانوں کے لیے مُشک کاوزن کیاجارہاتھا، تو انہوں نے فوراً اپنی ناک بند کرلی تاکہ انہیں خوشبو نہ پہنچے جب لوگوں نے یہ بات محسوس کی تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا : خوشبو سونگھنا ہی تو اس کانَفع ہے ۔ (چُونکہ میرے سامنے اس وَقت وافِر مقدار میں مُشک موجودہے لہٰذا اس کی خوشبو بھی زیادہ آ رہی ہے اور میں اتنی زیادہ خوشبو سونگھ کر دیگر مسلمانوں کے مقابلے میں زائدنَفع حاصِل کرنا نہیں چاہتا) (اِحیاء العلوم ج۲ ص۱۲۱، قُوتُ القلوب ج ۲ص۳۳۵ )

خوشبو دھو ڈالی

            اِس سے ملتاجلتا ایک واقعہ حضرتِ سیِّدنا عمر فاروق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی سیرتِ مبارکہ میں بھی ملتاہے کہ ایک مرتبہ آپ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے مالِ غنیمت کی مُشک اپنے گھر میں رکھی ہوئی تھی تاکہ آپ کی اہلیہ محترمہ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا  اس خوشبو کو مسلمانوں کے پاس فروخت کر دیں ۔ ایک روز آپ گھر تشریف لائے تو بیوی کے دوپٹے سے مُشک کی خوشبو آئی ۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ’’ یہ خوشبو کیسی ؟‘‘انہوں نے جواب دیا کہ ’’میں خوشبو تول رہی تھی ، اس سے کچھ خوشبو میرے ہاتھ کو لگ گئی ، جسے میں نے اپنے دوپٹے پر مَل لیا ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر فاروق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ان کے سر سے دوپٹہ اتارااوراس کو دھویا اس کے بعد سُونگھا ، پھر مٹی ملی اور دوبارہ دھویا حتّٰی کہ اس وقت تک دھوتے رہے ، جب تک خوشبو ختم نہ ہوگئی پھر وہ دوپٹہ استعمال کے لیے زوجہ محترمہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا کو دیا ۔ (کیمیائے سعادت ، ج۱، ص۳۴۷)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرچہ اس قَدَر خوشبو کا لگ جانا قابلِ گِرِفت عمل نہ تھا لیکن حضرتِ سیِّدنا عمرفاروق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے چاہا کہ دروازہ بالکل بند ہوجائے تاکہ کوئی برائی اس میں داخل نہ ہوسکے ۔

(۱۰)  سیب کے لئے اپنے آپ کو برباد کر لوں

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرایک بار سرکاری سیب مسلمانوں میں تقسیم فرمارہے تھے ، اسی دوران ان کا ایک کم سِن مَدَنی منا آیا اور ایک سیب اٹھا کر کھانا چاہا ۔ انہوں نے فوراًسیب کو اس کے ہاتھ سے چھین لیا، بچہ روتا ہوا اپنی امّی جان کے پاس پہنچا، انہوں نے بازار سے سیب منگا کر اس کو دے دیا ۔ جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ گھر آئے تو سیب کی خوشبو سونگھ کر بولے کہ کہیں سرکاری سیب تو گھر میں نہیں آئے ! بچوں کی امّی نے واقعہ بیان کیا تو فرمایا: میں نے سیب اپنے بچے سے نہیں چھینابلکہ اپنے دل سے چھینا، کیونکہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ مسلمانوں کے ایک سیب کے لئے اپنے آپ کو خدا عَزَّوَجَلَّکے سامنے برباد کردوں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۹۰)

جو ناراض تُو ہوگیا تو کہیں کا

رہوں گا نہ تیری قسم یاالٰہی (وسائل بخشش ، ص۸۲)

(۱۱)  آگ کی چنگاریاں

            ایک بار آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی بیٹی نے ایک موتی بھیجا اور کہا کہ اس جیسا دوسرا موتی بھیج دیجئے تاکہ میں کانوں میں ڈالوں ، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس کو دو دہکتے ہوئے کوئلے بھیج دیئے اور پیغام بھیجا :اِنِ اسْتَطَعْتِ اَنْ تَجْعَلِیْ ھَاتَیْنِ الْجَمْرَتَیْنِ فِیْ اُذُنَیْکِ بَعَثْتُ اِلَیْکِ بِاُخْتٍ لَھَا  یعنی اگر تم ان سُرخ کوئلوں کو کان میں ڈالنے کی طاقت رکھتی ہو تو میں بیت المال سے اس موتی کا جوڑا بھیج دیتا ہوں !(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۴)

(۱۲)  چہرہ دیکھنا بھی پسند نہیں کروں گا

            ایک بارحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے باتوں باتوں میں لُبنان کے شہد کا شوق ظاہر کیا ۔ زوجہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہانے لُبنان کے گورنر ابن معدی کرب کو کہلا بھیجا چنانچہ انہوں نے وہاں سے بہت سا شہد بھیج دیا ۔ جب شہد سامنے آیا تو زوجہ کی طرف رُخ کرکے کہا : غالباً تم نے گورنر کے ذریعہ سے منگوایا ہے ۔ پھر اس کو فروخت کروا کر بیت المال میں قیمت داخل کروادی اورگورنرِ لبنان کو لکھا کہ اگر تم نے دوبارہ ایسا کام کیا تو میں تمہارا چہرہ دیکھنا بھی پسند نہ کروں گا ۔ (المعرفۃ والتاریخ، ج۱، ص۳۲۲)

(۱۳)  کھجوروں کی قیمت جمع کروائی

            ایک بار کسی شخص نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی خدمت میں کھجوریں روانہ کیں ، خادِم کھجوریں سامنے لا یا تو پوچھا : ان کو کس چیز پر لائے ہو؟ اس نے کہا :ڈاک کے گھوڑے پر ۔ چونکہ ڈاک کا تعلق سرکاری چیزوں سے تھااس لئے حکم دیا کہ کھجوروں کو بازار میں لے جا کر فروخت کر آؤ اور ان کی قیمت بیت المال میں جمع کروا دو ۔ وہ بازارمیں آیا توایک مَروانی نے انکو خرید لیا اور دوبارہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی خدمت میں بطورِ تحفہ بھیج دیں ۔ جب کھجوریں سامنے آئیں تو حیرت سے فرمایا: یہ تو وہی کھجوریں ہیں ۔ یہ کہہ کر کچھ سامنے کھانے کے لئے رکھ دیں ، کچھ گھر میں بھیج دیں اور ان کی قیمت بیت المال میں  جمع کروائی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۷)

(۱۴)  دودھ کے چند گھونٹ

             امیرُ المُؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے مسافروں ، مسکینوں او رفقراء کے لئے ایک مہمان خانہ بنا رکھا تھا، مگراپنے گھر والوں کو تنبیہ کی ہوئی تھی کہ اس



Total Pages: 139

Go To