Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بنوائے تھے ، چنانچہ آپ کھلے میدان ہی میں خیمہ زَن ہوگئے ۔ (تاریخ یعقوبی، ج۱، ص۲۳۴)

(۵)  ذاتی چراغ جلا لیا

            ایک خلیفہ کی حفاظت میں آنے والی سب سے اہم چیز بیت المال یعنی خزانہ ہے ، اس لیے اس کی دیانت کا اصلی مِعیَار اسی کو قرار دیا جاسکتا ہے ، حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی دیانت ہمیشہ اِس مِعیَار پر پوری اتری ۔ وہ رات کے وقت خلافت کا کام بیت المال کی شمع سامنے رکھ کر اَنجام دیاکرتے تھے اور جب اپنا کوئی کام کرنا ہوتا تو اس شمع کو اٹھوادیتے اورذاتی چراغ منگوا کر کام کرتے ۔ اسی طرح کی ایک سبق آموز حکایت مُلاحظہ ہو، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس رات کے وقت کسی دُوردَراز علاقے کا قاصِد آیا، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہآرام فرمانے کے لئے لیٹ چکے تھے لیکن اسے اندر آنے کی اِجازت دے دی اور بڑی دیر تک اس کے علاقے کے حالات بڑی تفصیل سے دریافت فرماتے رہے کہ وہاں کے مسلمانوں اور ذِمّیوں کی حالت کیسی ہے ؟ گورنر کارَہن سہن کیسا ہے ؟چیزوں کے بھاؤ کیسے ہیں ؟مہاجرین و اَنصار کی اولاد کے حالات کیا ہیں ؟مسافروں اور فقراء کی کیا کیفیت ہے ؟کیا ہر حقدار کو اس کا حق دیا جاتا ہے ؟ کیا کسی کو شکایت تو نہیں ؟ گورنر نے کسی سے بے اِنصافی تو نہیں کی؟اسی طرح آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہایک ایک چیز کے بارے میں کُرید کُرید کر دریافت فرماتے رہے اور قاصِد اپنی معلومات کے مطابق جواب دیتا رہا ۔ جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے سُوالات کا سلسلہ ختم ہوا تو قاصد نے آپ کی مِزاج پُرسی کی کہ آپ کی صحت کیسی ہے ؟ اہل و عِیال کے بارے میں بھی پوچھا تو حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے فوراًپھونک مار کرچراغ بجھا دیا اور دوسرا چراغ لانے کا حکم دیا چنانچہ ایک معمولی چراغ لایا گیا جس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا: ہاں ! اب جو چاہو پوچھو ۔ اس نے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے اہل و عِیال اور متعلقین کے حالات پوچھے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہجواب دیتے رہے ۔ قاصد کوچراغ بجھانے سے بڑا تعجب ہوا تھا ، چنانچہ اس نے پوچھ ہی لیا : یاامیرَالمُؤمنین !  آپ نے ایک انوکھا کام کس لئے کیا؟ فرمایا: وہ کیا ؟عَرض کی: جب میں نے آپ کی اور اہل و عیال کی مزاج پرسی کی تو آپ نے چراغ گُل کردیا ؟ فرمایا :اللّٰہ کے بندے ! جو چراغ میں نے بجھایا تھا وہ مسلمانوں کے مال سے روشن تھا، لہٰذا جب تک میں تم سے مسلمانوں کے حالات و ضَروریات دریافت کررہا تھا تویہ روشن تھا، اس طرح یہ مسلمانوں کے کام اور ان ہی کی ضرورت کے لیے میرے پاس روشن تھا مگر جب تم نے میری ذات اور میرے اہل و عِیال کے بارے میں بات چیت شروع کی تو میں نے مسلمانوں کے مال سے جلنے والا چراغ بجھا دیا اور ذاتی چراغ روشن کردیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۳)

            اس حکایت میں اُن اسلامی بھائیوں کے لئے دَرسِ عظیم ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے وَقف یا چندے [1]؎ کے معاملات میں شامل ہوتے ہیں ، انہیں بہت زیادہ اِحتیاط کی ضرورت ہے کہ وَقف کی چیزوں کا تھوڑی دیر کا ناجائز استعمال طویل عرصے کے لئے جہنم میں پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے ، لوگوں کے دیئے ہوئے چندے کا غلط استعمال کرنے والوں کو اس کے بدلے جہنم کی پِیپ پینی پڑسکتی ہے ، اس لئے اگر آپ سے زندگی میں کبھی ایسی بے احتیاطی ہوئی ہو تو فوراً سے پیشتر توبہ کرلیجئے ، تاوان بنتا ہو تو وہ بھی دے دیجئے ، مولیٰ کریم عَزَّوَجَلَّہمارے حال پر رحم فرمائے ، اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(۶)  بیت المال کے کوئلے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے غلام سے غُسلِ جمعہ کے لئے پانی گرم کرنے کا کہا تو اس نے عَرض کی : ہمارے پاس جلانے کے لئے لکڑیاں نہیں ہیں ۔ فرمایا: مَطبَخ (یعنی باورچی خانے ) سے سَماوَار (یعنی پانی گرم کرنے کا برتن) لے آؤ ۔ جب سماوار لایا گیا تو وہ دہک رہا تھا ۔ حیرت سے فرمایا: تم نے تو کہا تھا کہ ہمارے پاس لکڑیاں نہیں ہیں ! شاید تم اسے مسلمانوں کے  مَطبَخ سے لائے ہو ۔ غلام نے ہاں میں سرہِلادیا ، فرمایا: مَطبَخ کے ذمّہ دار کو بلاؤ ۔ جب وہ حاضِر ہوا تو فرمایا:تم سے کہا گیا ہوگا کہ یہ امیرا لمؤمنین کا سَماوار ہے اور تم نے اس کو دہکا دیا ہوگا؟ عَرض کی : واللّٰہ !ایسا نہیں ہوا ! میں نے ایک بھی لکڑی اس میں استعمال نہیں کی بلکہ چند کوئلے موجود تھے کہ جنہیں اگر میں یُونہی چھوڑ دیتا تو تھوڑی ہی دیر میں وہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتے ۔ فرمایا: تم نے ان کوئلوں کی لکڑی کتنے میں خریدی تھی ؟ اس نے قیمت بتائی تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے وہ قیمت ادا کردی پھر پانی اِستعمال فرمایا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۹۱)

(۷)   ککڑیوں کا تحفہ

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خدمت میں اُردن سیکَکڑیوں کے دو ٹوکرے آئے آپ نے فرمایا :’’ یہ کس نے دئیے ہیں ؟‘‘ عَرض کی گئی :’’ کَکڑیوں کے ٹوکرے اردن کے گورنر نے ہدیہ بھیجے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا :’’کس چیز پر لاد کر لائے گئے ؟‘‘ جواب ملا:’’ سرکاری ڈاک کی سواریوں پر ۔ ‘‘ فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ نے ان سواریوں پر میرا حق عام مسلمانوں سے زیادہ نہیں رکھا، انہیں لے جاؤ اور فروخت کرکے ان کی قیمت ڈاک کی سواریوں کے چارے میں جمع کردو ۔ ‘‘

             راوِی کا بیان ہے : حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کے بھتیجے نے مجھے اِشارہ کیا کہ جب ان کی قیمت طے ہوجائے تو میرے لیے خرید لانا، چنانچہ وہ دونوں ٹوکرے بازار لائے گئے ، ان کی قیمت چودہ دراہم طے ہوئی میں نے یہ قیمت ادا کی اور ٹوکرے خرید کر ان کے بھتیجے کو لادیئے ۔ اس نے ایک خود رکھ لیا اور دوسرے کے لیے کہا :’’ یہ امیرُ المُؤمنین کی خدمت میں لے جاؤ ۔ ‘‘ میں نے وہ ٹوکراحضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کی خدمت میں حاضر کیا تو چونک کر فرمایا :’’ یہ تو وہی  کَکڑیاں ہیں ؟‘‘ میں نے عرض کی:وہ دونوں ٹوکرے آپ کے فلاں بھتیجے نے خرید لئے تھے ، ایک انہوں نے خود رکھ لیا ہے اور یہ دو سرا آپ کی خدمت میں بھیج دیا ہے ۔ ‘‘ فرمایا :’’ ہاں ! اب میرے لئے ان کا کھانا دُرُست ہے ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۴۷)

 

(۸)  بیت المال میں دودِینار جمع کروا ئے

             ایک بار آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  نے اپنے غلام  مُزاحِم سے کہا کہ مجھے قرآن پاک رکھنے والی ایک رِحل خرید دو ۔ وہ ایک رِحل لائے جو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو بہت پسند آئی ۔ پوچھا: کہاں سے لائے ؟ انہوں نے بتایا: سرکاری مال خانہ میں کچھ لکڑی موجود تھی ، میں نے اسی کی یہ رِحل بنوالی ۔ فرمایا: جاؤ !بازار میں اس کی قیمت لگواؤ ۔ وہ گئے تو لوگوں نے نِصف دینار قیمت لگائی، انہوں



[1]    چندے کے مسائل اوراس کی احتیاطیں تفصیل سے جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ امیرِ اہلسنّت مدظلہ العالی کی عالیشان تالیف ’’چندے کے بارے میں سوال جواب ‘‘کاضرور مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 139

Go To