Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اپنے برُے اعمال سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو ناراض کر کے جہنم میں جانے کا سامان کررہا ہو، اُس کی صحبت اُن کی بیٹی کو بھی خوفِ خداعزَّوَجَلَّ  سے بے نیاز اور اُس کی عبادت سے غافِل کرسکتی ہو ۔ ہمارے اَسلاف اِس حوالے سے کیسی مَدَنی سوچ رکھتے تھے ، اِس حکایت سے اندازہ کیجئے ، چُنانچہ

تلاشِ رشتہ

            حضرت سیِّدُنا شیخ کِرمانی علیہ رحمۃاللّٰہ الغنی شاہی خاندان سے تعلق رکھتے  تھے لیکن آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ دُنیاوی مَشاغِل سے بہت دُور ہوچکے تھے ۔ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کی ایک صاحبزادی تھی جو حُسنِ صورت کے ساتھ ساتھ حُسنِ سیرت سے بھی آراستہ تھی ۔ ایک دن اُسی صاحبزادی کے لئے شاہِ کِرمان نے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ حضرت سیِّدُنا شیخ کرمانی علیہ رحمۃاللّٰہ الغنی نہیں چاہتے تھے کہ ملکہ بن کر میری  بیٹی دنیا کی طرف مائل ہو ۔ اس لئے آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے بادشاہ کو ٹال دیا اور  مسجد مسجد گھوم کر کسی متقی نوجوان کو تلاش کرنے لگے ۔ دورانِ تلاش ایک نوجوان پر آپ کی نگاہ پڑی جس کے چہرے پر عبادت وپرہیزگاری کا نُور چمک رہا تھا ۔ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے پوچھا :’’تمہاری شادی ہوچکی ہے ؟‘‘ اُس نے نفی میں جواب دیا ۔ پھر پوچھا: ’’کیا ایسی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتے ہو جو قرآن مجید پڑھتی ہے ، نَماز روزے کی پابند ہے ، خوبصورت، پاکباز اور نیک ہے ۔ ‘‘ اُس نے کہا :’’میں تو ایک غریب شخص ہوں بھلا مجھ سے اِن پاکیزہ صِفات کی حامِل لڑکی کا رشتہ کون کرے گا ؟‘‘ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا :’’میں کرتا ہوں ، یہ دَراہم لو اور ایک دِرہم کی روٹی ، ایک دِرہم کا سالن اور ایک دِرہم کی خوشبو خرید لاؤ ۔ ‘‘نوجوان وہ چیزیں لے آیا ۔ حضرت سیِّدُنا شیخ کرمانی علیہ رحمۃاللّٰہ الغنینے اپنی صاحبزادی کا نکاح اُس نیک وپارسا نوجوان کے ساتھ کردیا ۔ صاحبزادی جب رُخصت ہو کر اس نوجوان کے گھر آئی تو اس نے دیکھا کہ گھر میں پانی کی ایک صُراحی کے سِوا کچھ نہیں ہے ۔ اُس صُراحی پر ایک روٹی رکھی ہوئی دیکھی توپوچھا :’’یہ روٹی کیسی ہے ؟‘‘ نوجوان نے جواب دیا :’’یہ کل کی باسی روٹی ہے ، میں نے اِفطارکے لئے رکھ لی تھی ۔ ‘‘یہ سن کر کہنے لگی : مجھے میرے گھر چھوڑ آئیے ۔ نوجوان نے کہا : ’’مجھے تو پہلے ہی اندیشہ تھا کہ شیخ کرمانی کی بیٹی مجھ جیسے غریب انسان کے گھر نہیں رک سکتی ۔ ‘‘ صاحبزادی نے پلٹ کر کہا:’’میں آپ کی مُفلِسی کے باعِث نہیں لوٹ رہی ہوں بلکہ اس لئے کہ مجھے آپ کا توکُّل کمزور نظر آرہا ہے ، مجھے اپنے والد پر حیرت ہے کہ انہوں نے آپ کو پاکیزہ خَصلَت ، عَفِیف اور صالح کیسے کہا جب کہ آپ کا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر بھروسے کا یہ حال ہے کہ روٹی بچا کر رکھتے ہیں ۔ ‘‘یہ باتیں سن کر نوجوان بہت متاثر ہوا اور نَدامت کا اِظہار کیا ۔ لڑکی نے پھر کہا:’’میں ایسے گھر میں نہیں رُک سکتی جہاں ایک وَقت کی خوراک جمع کرکے رکھی ہو، اب یہاں میں رہوں گی یا روٹی!‘‘ یہ سن کر نوجوان فوراً باہَر نکلا اور روٹی خیرات کردی ۔ (روض الریاحین، الحکایۃ الثانیۃ والتسعون  بعد الما ئۃ ، ص۱۹۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میں اِن جیسا بننا چاہتا ہوں

            امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزچھوٹی سی عمر میں اپنی والدہ ماجدہ کے چچا جان حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہماکی خدمت میں بکثرت حاضِر ہوا کرتے تھے اوراپنی والدہ سے اکثر اِس خواہش کا اِظہار کیا کرتے کہ میں ان(یعنی سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہما) جیسا بننا چاہتا ہوں ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۰)  

بنادے مجھے نیک نیکوں کا صَدقہ

                     گناہوں سے ہر دَم بچا یاالٰہی(وسائل بخشش ص۷۸)

اپنے ننھیال میں رہے

            حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کچھ بڑے ہوئے تو والدِ محترم حضرتِ سیِّدُناعبدالعزیزرحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ  مِصرکے گورنر بن گئے ۔ وہاں جاکر اپنی زوجہ’’امِّ عاصم‘‘ کے نام پیغام بھیجا کہ بچے کو لے کر مِصر آجائیں ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا امِّ عاصم رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا اپنے چچاجان حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کی خدمت میں حاضِر ہوئیں اور اپنے شوہر کے پیغام سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے فرمایا:’’بھتیجی ! تمہارے شوہرنے بلایا ہے تو تمہیں جانا ہی چاہئے ۔ ‘‘ جب وہ روانہ ہونے لگیں تو حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہمانے ہدایت کی : اس مَدَنی مُنّے (یعنی عمر بن عبدالعزیز) کو ہمارے پاس چھوڑ جاؤ، یہ تم سب کی بہ نسبت ہمارے گھرانے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ۔ اپنے چچا کی بات ٹالنا انہیں اچھا نہ لگا ، چنانچہ وہ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو وہیں چھوڑ گئیں ۔ جب مِصر پہنچیں تو حضرتِ سیِّدُناعبدالعزیزرحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ خوشی خوشی اپنے بیٹے کے اِستقبال کے لئے نکلے جب انہیں اپنا لَختِ جگر دکھائی نہ دیا تو دریافت کیا :میرا بیٹاعمر کہاں ہے ؟ حضرتِ سیِّدَتُنا ام عاصم رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا نے حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماکے اِصرار پر انہیں مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً چھوڑ آنے کا سارا ماجرا بیان کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے بھائی خلیفہ عبدالملک بن مَروان کو سارا واقعہ لکھ کر بھیجا جنہوں نے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے اَخراجات کے لئے ایک ہزار دینار ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۱)

 موت یاد آنے پر رو دئیے

            سہولیات وآسائشات کے ماحول میں سانس لینے کے باوجود حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکا دل اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی عظمت اور خوف سے لبریز رہاچُنانچِہ طبیعت بچپن ہی سے پاکیزگی اور زُہد و تقویٰ کی طرف راغِب تھی ۔ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے جس دن حِفظِ قراٰن مکمل کیا تو اچانک رونے لگے ، والدہ ماجِدہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمّ عاصم رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا  کو پتا چلا اور انہوں نے رونے کی وجہ دریافت کی تو عَرض کی:’’ذَ کَرْتُ الْمَوْتَیعنی مجھے موت یاد آگئی تھی ۔ ‘‘ اپنے چھوٹے سے مَدَنی مُنّے کی یادِ آخِرت دیکھ کر اُن کادل بھر آیا اورآنکھوں سے اَشکوں کی برسات ہونے لگی ۔ (تاریخِ دِمشق، ج۴۵ ، ص۱۳۵)

            اے کاش!اِن نُفُوسِ قُدسِیَہ کے صدقے میں ہماری آنکھوں سے بھی غفلت کے پردے ہٹ جائیں اور ہم بھی اپنی موت کو یاد کرنے والے بن جائیں ، اگرچہ یہ طے ہے کہ’’ اِک دن مرنا ہے آخر موت ہے ‘‘مگر موت کو یاد کرنا فائدے سے خالی نہیں ، چُنانچِہ

 



Total Pages: 139

Go To