$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اورامیرُ المُؤمنین نَماز پڑھ رہے ہیں ، نَماز پڑھ چکے تو دسترخوان کو سامنے کھینچ کر فرمایا: آؤ !کھاناکھاؤ، کہاں وہ مِصر و مدینہ کی زندگی اور کہاں یہ زندگی ! یہ کہہ کر رونے لگے حتّی کہ کچھ نہ کھا سکے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۰ ملخصا)

زیادہ کھانا سامنے آنے پر اٹھ کھڑے ہوئے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز اپنے کسی قریبی رشتہ دار کے پاس گئے تو اس نے انہیں کھانا پیش کیاجو بہت زیادہ تھا، دیکھتے ہی فرمایا:بھوک تو اس سے کم میں بھی مٹ جاتی ، نفس کی خواہش پوری ہوجاتی اور زائد کھانا تمہارے فقروفاقے کے دن کے لئے کافی ہوتا ۔ اس نے  عَرض کی: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے وُسعَت عطا کی ہے ۔ فرمایا: پھر تو تم پر شکرلازم تھا اور وہاں سے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۵)

پیٹ بھر کر کیسے کھاپی سکتا ہوں ؟

            ایک مرتبہ مُسَافِع بن شَیبَہ اپنے بیٹے کے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے مہمان ہوئے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا کہ اپنے بیٹے کو مہمان خانے میں بھیج دو اور تم میرے ساتھ گھر پر چلو(کیونکہ مُسَافِع آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی زوجہ محترمہ کے محرم رشتہ دار تھے ) ۔ نَمازِ مغرب پڑھانے کے بعد گھر پہنچے اور مسجد بیت میں جاکر سنتیں ونوافل پڑھنے اور گِریہ وزاری میں مشغول ہوگئے ، جب بہت دیر گزر گئی تو زوجہ محترمہ نے آواز دی :مہمان کھانے پر آپ کا انتظار کررہا ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزتشریف لے آئے اور مہمان سے معذرت کرتے ہوئے کہا: وہ شخص پیٹ بھر کرکیونکر کھا پی سکتا ہے جس پر مشرِق ومغرِب کے مظلوموں کا دعویٰ بنتا ہو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۴)

کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  کے خادِم کا بیان ہے کہ  خلیفہ بننے سے لے کر اِنتقال تک آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا ۔   (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۶۶)

تمہارے آقا کی یہی غذا ہے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے خادِم کو جب بار باردال کھانے کے لیے ملی تو ایک دن کہنے لگا:’’ کُلَّ یَوْمٍ عَدَسٌ یعنی روز روز دال!‘‘ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی زوجہ محترمہ نے فرمایا:  ہٰذَا طَعَامُ مَوْلَاکَ أمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَتمہارے آقا امیرُ المُؤمنین کی بھی یہی غذا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۱)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آفرین ہے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزپرکہ اتنی بڑی سلطنت کے تختِ خلافت پر مُتَمَکِّن ہوتے ہوئے ایسی سادہ اور کم غذا استعمال فرماتے تھے ، واقعی کم کھانے کی بڑی برکتیں ہیں ، چُنانچِہ

کھانا کتنا کھانا چاہئے

          اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے مَحبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ صحّت نِشان ہے ، ’’آدَمی اپنے پیٹ سے زیادہ بُرا برتن نہیں بھرتا، انسا ن کیلئے چند لقمے کا فی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اگر ایسا نہ کرسکے تو تِہائی (3/1) کھانے کیلئے تہائی پانی کیلئے اور ایک تِہائی سانس کیلئے ہو ۔ ‘‘  [1]؎

               (سنن ابن ماجہ ج۴ص۴۸ حدیث ۳۳۴۹)

میں کم کھانا کھانے کی عادت بناؤں

خدایا کرم! استِقامت بھی پاؤں

انگور کھانے کی خواہش

            ایک دن حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے دل میں انگور کھانے کی خواہش پیدا ہوئی تو اپنی زوجہ محترمہ سے فرمایا:’’ اگر آپ کے پاس ایک دِرہم ہو تو مجھے دے دیں ، میرا دل انگور کھانے کو چاہ رہا ہے ۔ ‘‘ انہوں نے جواب دیا : ’’میرے پاس ایک دِرہم کہاں ہے ؟کیا آپ کے پاس امیرُ المُؤمنین ہو نے کے باجود ایک دِرہم بھی نہیں کہ اس سے انگور ہی خرید لیں ؟‘‘ فرمایا:’’ انگور نہ کھانا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے کہ (حرام کھانے کے نتیجے میں ) کل میں جہنم کی زنجیریں پہنوں ۔ ‘‘  (تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۸)

دال اور کٹی ہوئی پیاز سے مہمان نوازی

             ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے ہاں کوئی  مہمان آیا ہوا تھا ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے غلام کو کھانا لانے کو کہا ۔ غلام کھانا لے  آیا جو چند چھوٹی چھوٹی روٹیوں پر مشتمل تھا، جن پر نَرم کرنے کے لئے پانی چھڑک کرنمک اور زیتون کا تیل لگایا گیا تھا ۔ رات کو جو کھانا پیش ہوا وہ دال اور کٹی ہوئی پیاز پر مشتمل تھا ۔ غلام نے مہمان کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا : اگرامیرُ المُؤمنین کے ہاں اس کے علاوہ کوئی اور کھانا ہوتا تو وہ بھی ضرور آپ کی مہمان نوازی کے لئے دسترخوان کی زِینت بنتا، مگر آج گھر میں صرف یہی کھانا پکا ہے ، امیرُ المُؤمنین نے بھی اسی سے روزہ اِفطار فرمایا ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۵ملخصًا)

کھانے میں اِسراف چھوڑ دیا

            مَسلَمہ بن عبدالملک کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نَمازِ فجر کے بعد حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی خَلوَت گاہ پر حاضر ہوا جہاں کسی اور کو آنے کی اِجازت نہ تھی ۔ اس وقت ایک لونڈی صیہانی کھجور کا تھال لائی جو آپ کو بہت پسند تھیں اور اسے رَغبَت سے کھاتے تھے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے کچھ کھجوریں اٹھائیں اور پوچھا:مَسلَمَہ!اگر کوئی اتنی



[1]     کم کھانے کے فوائد اور برکتیں جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ امیرِ اہلسنّت مدظلہ العالی کی مایہ ناز تصنیف فیضانِ سنّت جلد اول کے باب ’’پیٹ کا قفل مدینہ ‘‘کاضرور مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 139

Go To
$footer_html