Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بیٹھ گئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۰)

          میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ہمارے بُزُرگانِ دین علیہم رحمۃ اللّٰہ المُبین مَقام ومرتبہ اور عہدہ ومَنصَب ملنے کے باوجود کس قدر عاجِزی فرمایا کرتے تھے ! حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی ایسی  ہی مزید 14 حِکایات مُلاحظہ کیجئے :

(۱)  میرے مقام میں کوئی کمی تو نہیں آئی

            ایک رات حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے ہاں کوئی مہمان آیا، آپ کچھ لکھ رہے تھے ۔ قریب تھا کہ چراغ بُجھ جاتا ۔ مہمان نے عَرض کی : میں اُٹھ کر ٹھیک کر دیتا ہوں تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: لَیْسَ مِن مُّرَوَّ ۃِ الرَّجُلِِ اِسْتِخْدَامُہُ ضَیْفَہٗمہمان سے خدمت لینا اچھی بات نہیں ہے ۔ اُس نے کہا غُلام کو جگا دوں ؟ فرمایا: وہ ابھی ابھی سویا ہے ۔ پھر آپ خود اٹھے اور کُپّی لے کر چراغ کو تیل سے بھر دیا ۔ مہمان نے کہا: یا امیر المؤمنین! آپ نے خود ذاتی طور پر یہ کام کیا؟ فرمایا::قُمْتُ وَاَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْز ، وَرَجَعْتُ وَ اَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزجب میں (اِس کام کے لئے ) گیا تو بھی’’ عمر‘‘ تھا اور جب واپس آیا تو بھی ’’عمر‘‘ تھا، میرے مقام میں کوئی کمی تو نہیں آئی اور بہترین آدمی وہ ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں تواضُع کرنے والا ہو ۔ ( احیاء العلوم، ج۳، ص۷۹۷)

          میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ! حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز   عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے کس قدر عاجِزی فرمائی ، عاجِزی اختیار کرنے والا بظاہر کم تَر دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں بلند تَر ہوجاتا ہے ، چنانچہ

بلندی عطا فرمائے گا

            نبیِّ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّمصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکا فرمانِ مُعَظّم ہے : ’’جواللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے لئے عاجِزی اختیار کرے   اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اُسے بلندی عطا فرمائے  گا، پس وہ خود کو کمزور سمجھے گا مگر لوگوں کی نظروں میں عظیم ہو گا اور جو   تَکَبُّر کرے   اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اسے ذلیل کر دے گا، پس وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہو گامگرخودکو بڑا سمجھتاہو گا یہاں تک کہ وہ لوگوں کے نزدیک خِنزِیر سے بھی بَدتَر ہو جاتاہے ۔ ‘‘ (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، الحدیث:۸۵۰۵، ج۳، ص۲۸۰)

فخرو غُرور سے تُو مولیٰ مجھے بچانا

                      یاربّ! مجھے بنا دے پیکر تُو عاجِزی کا(وسائل بخشش ص ۱۹۵)

عاجِزی کس حد تک کی جائے ؟

            مگر یاد رہے کہ دیگر اَخلاقی عادات کی طرح عاجِزی میں بھی اِعتِدال رکھنا بہت ضَروری ہے کیونکہ اگر عاجِزی میں بلاضَرورت زیادَتی کی تو ذلّت اور کمی کی تو   تَکَبُّر  میں جاپڑنے کا خدشہ ہے ۔ لہٰذا اِس حد تک عاجِزی کی جائے جس میں ذلّت اور ہلکا پن نہ ہو ۔ (احیاء العلوم ، ج۳، ص ۱۵۴)

(۲)  مزاج پُرسی کرنے والے کو جواب

            ایک شخص نے حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرسے کہا: ’’یاامیرَالمُؤمنین !  کَیْفَ مَااَصْبَحْتَیعنی آپ نے کس حالت میں صبح کی ۔ ‘‘ عاجزی کرتے ہوئے فرمایا: میں نے اس حالت میں صبح کی کہ پیٹو، سُست کار اور گناہوں میں آلودہ ہوں ، اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر خام آرزوئیں باندھ رہا ہوں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۵)

(۳)  خادِمہ کی خدمت

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے باوجود خلیفہ ہونے کے کبھی اپنے آپ کو عام مسلمانوں بلکہ کنیزوں اور غلاموں سے بھی بالا تَر نہیں سمجھا ۔ ایک بار کنیز آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو پنکھا جھل رہی تھی کہ اس کی آنکھ لگ گئی ، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے خود پنکھا لیا اور اس کو جَھلنے لگے ، جب کنیز کی آنکھ کھلی تو حیرت وخوف کے مارے اس کی چیخ نکل گئی مگر آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا:تم بھی تومیری طرح ایک انسان ہو، تمہیں بھی اسی طرح گرمی لگتی ہے جس طرح مجھے ، اس لئے میں نے سوچا کہ جس طرح تم نے مجھے پنکھا جھلا ہے میں بھی تمہیں پنکھا جَھل دوں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۲)

(۴)  چادر اَوڑھا دی

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزجنازوں میں بھی شریک ہوتے اور عام مسلمانوں کی طرح جنازے کو کندھا دیتے ۔ ایک مرتبہ جنازے میں شریک ہوئے تو بارِش آگئی ۔ اِتفاقاً ایک مسافروہاں آگیا جس کے بدن پر چادر نہ تھی ، انہوں نے اس کو بُلایا اوربارش سے بچانے کے لئے اپنی چادر کا بچا ہوا حصہ اسے اوڑھادیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۴)

(۵)  تحریر پھاڑ ڈالتے

            آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ عُجب ، غرور اور تَکَبُّر سے بچنے کی اس قدرکوشش فرماتے تھے کہ جب خُطبہ دیتے یا کوئی تحریر لکھتے اور اس کے متعلق دل میں غُرور پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ، تو خطبہ میں چُپ ہوجاتے اور تحریر کو پھاڑ ڈالتے اور بارگاہِ الہٰی میں عَرض کرتے :’’:’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ یعنی : یاالہٰی عَزَّوَجَلَّ ! میں اپنے نفس کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۷۸)

(۶)  پہچان نہ پاتے

            اِسی تواضُع اورعاجِزی کا اثر تھا کہ جب کبھی ناآشنا لوگ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سے ملاقات کے لئے آتے تو شاہانہ جاہ وجلال نہ ہونے کی وجہ سے آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو پہچان نہ پاتے اور پوچھنا پڑتا کہ امیرُ المُؤمنینکہاں ہیں ؟کیونکہ آپ عام لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے ہوتے تھے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۴ ملخصًا)

(۷)  مجھے ’’ عمر‘‘ ہی سمجھو

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز خلیفۂ وقت اور امیرُ المُؤمنین تھے مگر اپنے آپ کو ہمیشہ ’’عُمَر‘‘ ہی سمجھتے ، ایک بارکسی نے کہا : اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ’’عُمَر‘‘ سمجھ کر



Total Pages: 139

Go To