Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

سے کوئی شکایت نہیں ، اس کی رِعایا اس سے خوش ہے توآپ ایسے اعمال کیجئے کہ اس دن یہ مقام حاصل ہوجائے اور بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہی کی طرف سے نیکی کرنے کی قوت دی جاتی ہے اور برائی سے بھی وہی ذات بچانے والی ہے ۔ اورجو لوگ موت اور اس کی ہولناکیوں سے خوف کھاتے تھے مرنے کے بعدان کی وہ آنکھیں ان کے چہروں پر بہہ گئیں جو دُنیوی لذتوں سے سیر ہی نہ ہوتی تھیں ، ان کے پیٹ پھٹ گئے اور وہ تمام چیزیں بھی ضائع ہوگئیں جو وہ کھایا کرتے تھے ، ان کی وہ گردنیں جو نرم ونازُک تکیوں پر آرام کرنے کی عادی تھیں آج قبر کی مٹی میں بوسیدہ حالت میں پڑی ہیں ۔ جب وہ دنیا میں تھے تو لوگ ان سے خوش ہوتے اور ان کی خدمت کرتے لیکن آج یہی لوگ موت کے بعد ایسی حالت میں ہیں کہ ان کے جِسم گل سَڑگئے ، اگر ان لوگو ں کو اور ان کی دنیوی غذاؤں کو آج کسی مِسکِین کے سامنے رکھ دیا جائے تو وہ بھی اس کی بد بو سے اذیت محسوس کرے ، اب اگر ان کے تَعَفُّن زدہ جسموں پر ڈھیر ساری خوشبو ملی جائے تب بھی ان کی بد بو ختم نہ ہو ۔ ہاں ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  جسے چاہے اپنی رحمتِ خاصہ سے حصہ عطا فرمائے اور اسے دائمی نعمتیں عطا فرمائے ، بے شک ہم سب اسی کی طر ف لوٹنے والے ہیں ۔ اے عمر بن عبد العزیز  !آپ کے ساتھ واقعی ایک بہت بڑا معاملہ درپیش ہے ، آپ کبھی بھی جزیہ اور زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے ایسے عامِل مقرر نہ کیجئے گا جو بہت زیادہ سختی کریں اور لوگو ں سے بہت زیادہ تُر ش گوئی سے پیش آئیں اور بے جاان کا خون بہائیں ۔ اے عمر!اس طرح مال جمع کرنے سے بچئے ، ایسی خون ریزی سے ہمیشہ کوسوں دور بھاگئے ، اور اگر آپ کو کسی گورنر کے بارے میں یہ خبر ملے کہ وہ لوگوں پر ظُلم کرتا ہے اور پھر بھی آپ نے اسے گورنری کے عہدے سے معزول نہ کیا تو یاد رکھئے !آپ کو جہنم سے بچانے والا کوئی نہ ہو گااورذلت ورسوائی آپ کے گلے کا ہار ہوگی ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو اپنی حِفظ واَمان میں رکھے ، آمین ۔ اگر آپ ان تمام ظُلم وزِیادتی والے اُمور سے اِجتناب کرتے رہے تو دِلی سکون حاصل ہوگا اورآپ مطمئن رہیں گے (ان شاءاللہ  عَزَّوَجَلَّ ) ۔ اے عمر بن عبدالعزیز   !آپ نے لکھاکہ میں امیرُ المُؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی سیرت اور ان کے فیصلوں کے متعلق آپ کو معلومات فراہم کروں توامیرُ المُؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنے دور کے مطابق فیصلے کئے ، جیسی ان کی رِعایا تھی اب ایسی نہیں ، ان کے فیصلے اس دور کے اعتبار سے تھے ، آپ اپنے دور کے اعتبار سے فیصلے کیجئے ، اور اپنے دور کے لوگو ں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ان سے معاملات کیجئے ، اگرآپ ایسا کریں گے تو مجھے اللّٰہ ربُّ العزّت سے امید ہے کہ وہ آپ کو بھی امیرُ المُؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جیسی مدد و نصرت عطا فرمائے گا اورجنت میں ان کے ساتھ مقام عطا فرمائے گا ۔ اور اے عمر بن عبدالعزیز!آپ یہ آیتِ مبارکہ پیشِ نظر رکھئے :

وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ-اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُؕ-وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ(۸۸) ۱۲، ھود:۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان:اورمیں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتاہوں آپ اس کے خلاف کرنے لگوں ، میں توجہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں ، اور میری توفیق اللّٰہ ہی کی طرف سے ہے ، میں نے اسی پر بھروسہ کیااوراسی کی طرف رجوع کرتاہوں ۔

اللّٰہ رب العزت آپ کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور دارین کی سعادتیں عطا فرمائے ۔  آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم

والسّلام:سالم بنعبداللّٰہ

(عیون الحکایات ص۷۹ملخصًا)

(۱۲)  تقدیر پر صبر کیجئے

                حضرت سیِّدُنا عُبَید اللّٰہ بن عُتبہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃ اللّٰہ العزیز کو مکتوب میں لکھا:’’ اُس خدائے بزرگ وبَرتَر کے نام سے شروع جس نے سورتیں نازل فرمائیں اور تمام تعریفیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے لئے ہیں ، اَ مَّابَعْد !اے عمر ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سے ڈریئے بے شک خوفِ خدا فائدہ دیتا ہے اور آنے والی تقدیرپر صبر کیجئے اور اس پر راضی رہئے اگر چہ تقدیر آپ کے پاس کسی ایسی چیز کو لائے جو آپ کو پسند نہ ہو، اور انسان کی ہر وہ عیش والی زندگی جس پر وہ خوش ہوتا ہے ایک دن ایسا آئے گا جب سارے عیش ختم ہوجائیں گے ، والسلام ۔ ‘‘

(حلیۃالاولیاء ج۲ ص ۲۱۶)

(۱۳)  خالدبن صفوان کی ناصحانہ تقریر

            خالدبن صَفوَان حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پاس آئے اورعَرض کی:امیرالمومنین! آپ اپنی مَدح وثَنا کو پسند فرمائیں گے ؟ فرمایا: نہیں ، عَرض کی :توپھر وَعظ و نصیحت کو پسند فرمائیں گے ؟ فرمایا: ہاں ! خالِد نے کھڑے ہو کر خُطبہ پڑھااوررب تعالیٰ کی حَمدوثَناکے بعدکہا:امابعد: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے مخلوق کوپیدافرمایا، اسے نہ توان کی عبادت کی ضرورت ہے ، نہ ان کی مَعصِیَت سے اسے کوئی اندیشہ ہے ۔ انسانوں کے مَراتِب اوران کی رائے مختلف ہے اورعَرَب سب سے بَدتَرمرتبہ میں تھے ، بُت پرستی، پتھرتَراشی اوراونٹوں کی گَلہ بانی ان کاپیشہ تھا، جب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے اِرادہ فرمایاکہ ان میں اپنارسول(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) بھیجے اوران میں اپنی رحمت عام کرے تو اِنہیں میں سے ایک رسولِ محترم کو بھیجا، جن کے لئے تمہاری مشقت ناقابلِ برداشت ہے جوتمہاری خیرخواہی کے حَرِیص ہیں اور جواہلِ ایمان کے لئے نہایت شفیق و مہربان ہیں ۔ ‘‘یہ عظیم الشان رسول محمد مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمتھے ۔ مگران تمام اوصاف و خصائص کے باوجود لوگوں نے آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکوجسمانی اذیتیں پہنچائیں ، آپ پرطرح طرح کی آوازیں کَسیں اورآپ کووطن چھوڑکر ہجرت پرمجبورکیا، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے ساتھ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی جانب سے واضح دلیل موجودتھی، آپ حُکمِ الٰہی کے بغیرایک قدم نہیں اٹھاتے تھے ، نہ اس کی اِجازت کے بغیرنکلتے تھے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  ملائکہ کے ذریعہ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مددکرتاتھا، آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو غیب کی خبریں دیتاتھااوراس نے آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکوضمانت دی تھی کہ آخرِ کارکامیابی آپ   صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے قدم چومے گی اورجب آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوجہادکاحکم ہواتوبحسن وخوبی حُکمِ الٰہی کی تعمیل کی ۔ بہرحال آپ کی پوری زندگی دعوت وتبلیغ، اظہارِحق، دشمنوں سے جہاداوراَحکامِ خداوندی کی تعمیل میں گزری یہاں تک کہ اسی روش پرآپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وصال ہوا ۔ آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعدحضرتِ سیِّدُنا ابوبکررضی اللّٰہ تعالٰی عنہخلافتِ نبوت سے سَرفرازہوئے توعرب کے چند قبائل نے کہاہم نَماز پڑھا کریں گے مگر زکوٰۃ نہیں دیں گے ، مگرحضرتِ سیِّدُناابوبکررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایاکہ انہیں وہ تمام فرائض بجالانے



Total Pages: 139

Go To