Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بُزُرگانِ دین کی بارگاہوں سے رجوع

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیراگرچہ خود بھی تقویٰ وپرہیزگاری کے عظیم مرتبے پر فائز تھے مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ وقتاً فوقتاً دیگر بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِینسے بھی نصیحت وعبرت کے مَدَنی پھول حاصل کیا کرتے تھے ، ایسی ہی 14حکایات وروایات اورمکتوبات ملاحظہ کیجئے :

(۱)  موت کو اپنے سرہانے رکھئے

            ایک بار حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے حضرت شیخ ابوحازِمعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرم سے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت فرمایئے توانہوں نے فرمایا :  اِضْطَجِعْ ثُمَّ اجْعَلِ الْمَوْتَ عِنْدَ رَ أْسِکَ ثُمَّ انْظُرْ مَاتُحِبُّ اَنْ یَکُوْنَ فِیْہِ تِلْکَ السَّاعَۃُ فَخُذْ فِیْہِ اْلاٰن وَمَا تَکْرَہُ اَنْ یَّکُوْنَ فِیْکَ تِلْکَ السَّاعَۃُ فَدَعْہٗ الْاٰنَ یعنی زمین پر لیٹ جائیے اور موت کو اپنے سرکے پاس سمجھئے ، پھر غور کیجئے کہ اُس گھڑی آپ کو کونسی چیز محبوب ہوگی ؟پس اس چیز کو فوراً اِختیا ر کر لیجئے اوراُس وقت جس شے کو آپ ناپسند کریں اُسے ہاتھوں ہاتھ چھوڑ دیجئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۵۹)

(۲)  کسی سے اِمداد کی توقُّع نہ رکھئے

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے حضرت سَیِّدُناحَسَن بَصری علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی کی خدمت میں بذریعہ مکتوب درخواست کی کہ ’’ مجھے کوئی ایسی نصیحت فرمائیے جو میرے تمام کاموں میں مددگار ثابت ہو ۔ ‘‘ آپ نے اس کے جواب میں لکھا :’’اگراللّٰہعَزَّوَجَلَّ   آپ کا مُعاوِن نہیں ہے تو پھر کسی سے بھی اِمداد کی توقُّع نہ رکھئے ، اُس دن کو بہت نزدیک تصوُّر کیجئے جس دن ساری دنیا فَناہوجائے گی اور صِرف آخِرت باقی رہے گی ۔ ‘‘(تذکرۃ الاولیاء، ج۱ ، ص ۳۹)

(۳)  یہ نصیحت کافی ہے

حضرت سیِّدُنا ابوقِلابہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس گئے تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اُن سے کہا کہ مجھے نصیحت کیجئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابوقِلابہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے کہا :حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے وَقت سے اب تک کوئی خلیفہ باقی نہیں رہا ہے ۔ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے کہا کہ مجھے اورنصیحت کیجئے ۔ انہوں نے کہا : اب پہلا خلیفہ جو اِنتقال کرے گا وہ آپ ہوں گے ۔ کہا : اور بھی نصیحت کیجئے ۔ حضرت سیِّدُنا ابوقِلابہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا: اگر حق تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے تو پھر آپ کو کچھ خوف نہیں ‘ لیکن اگر وہ آپ کے ساتھ نہ رہے ‘ تو پھر آپ کس کی پناہ ڈھونڈیں گے یہ سن کرحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز فرمانے لگے :بس یہ نصیحت مجھے کافی ہے ۔ (التبر المسبوک فی نصیحۃ الملوک ، باب ان یشتاق ان رویۃ العلماء ، ج۱ ، ص۵)

(۴)  بُری خلافت کے گواہ ہوں

             حضرت سَیِّدُنا ابوحازِم علیہ رحمۃ اللّٰہ الاکرمنے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو خط لکھا :’’نبی پاک صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اِس حال میں ملنے سے ڈرئیے کہ آپ اُن کی رسالت کی گواہی دیں اوروہ اپنی اُمّت میں آپ کی بُری خلافت کے گواہ ہوں ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۵۹)

(۵)  شرفا کو ذمّہ داریاں دیجئے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے حضرت سیِّدُنا حَسَن بَصری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کو بذریعہ مکتوب درخواست کی کہ مجھے ایسے لوگوں کی نشاندہی فرمائیے جن سے میں حکمِ الہٰی نافذ کرنے میں مدد لے سکوں تو انہوں نے جواب میں لکھا :اہلِ دین آپ کے قریب نہیں آئیں گے اور رہے اہلِ دنیا تو ان کو آپ خودقریب نہیں کرنا چاہیں گے لیکن آپ شرفا کو ذمّہ داریاں دیجئے کیونکہ وہ اپنی شرافت کوخِیانت سے داغدار نہیں کریں گے ۔ (احیاء العلوم، ج۱، ص۹۹ )

(۶)  مختصر ترین نصیحت

            حضرت سَیِّدُناابوسعید علیہ رحمۃ اللّٰہ المجیدنے لکھا:یاامیرالمومنین!لمبی زندگی کی اِنتہااُس فَناتک ہے جومعلوم ہے لہٰذاآپ اس فَناسے وہ حصہ لیجئے جوباقی رہنے والانہیں ، اپنی اس بَقاء کے لئے جس نے فَنا نہیں ہونا، والسلام ۔ جب حضرت سَیِّدُنا عمربن عبدالعزیزعلیہ رحمۃ اللّٰہ العزیزنے خط پڑھا تورو پڑے ، فرمایا: ابوسعیدعلیہ رحمۃ اللّٰہ المجیدنے انتہائی مختصرنصیحت کی ہے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۵۱)

(۷)  مطلبی کی صحبت سے بچئے

            حضرتِ سیِّدُنا محمد بن کَعب علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے کہا :’ ’ایسے شخص کو ہرگز اپنا مُصاحِب نہ بنائیے جو اپنی حاجت کے پورے ہونے تک آپ کے آگے پیچھے ہو ، جب اُس کا مطلب نکل جائے تو اس کی آپ سے محبت بھی خَتم ہوجائے ، بلکہ ایسے لوگوں کو اپنا مصاحِب بنائیے جو بھلائی میں بلند مرتبہ والے اورحق کے معاملہ میں صَبر والے ہوں ، یہی لوگ نفس کے خلاف آپ کے مددگارہوں گے اور انکی حمایت ومدد آپ کے لئے کافی ہوگی ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۷)

(۸)  کاش میں نے یہ بات نہ کہی ہوتی

            حضرت زیاد رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سے ملاقات کے لئے آئے تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ان سے بھی اُمورِ خلافت کے بارے میں مشورہ طَلَب کیا تو انہوں نے پوچھا:یاامیرَالمُؤمنین !  اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جس کے خلاف ایک شخص نے دعویٰ دائر کررکھا ہو؟ فرمایا: ایسا شخص بُری حالت میں ہے ۔ پوچھا: اگر دو ہوں تو؟ فرمایا: یہ اس سے بھی بُری حالت ہے ۔ پوچھا:اگر تین ہوں تو؟ فرمایا:اس کے لئے تو زندگی کا لطف ہی باقی نہ رہے گا ۔ حضرت زیادرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا:تو پھر سنئے یاامیرَالمُؤمنین ! امّت محمدی کا ہر شخص قیامت کے دن آپ کا فریق ہوگا ۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز اتنا روئے کہ حضرت زیادرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے افسوس ہونے لگا کہ کاش میں نے ان سے یہ بات نہ کہی ہوتی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۶۴)

 



Total Pages: 139

Go To