Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

بنادے مجھے نیک نیکوں کا صَدقہ                  گناہوں سے ہردم بچا یاالٰہی

عبادت میں گزرے مری زندگانی               کرم ہو کرم یاخدا یاالٰہی(وسائلِ بخشش ص۷۸)

خلافِ شریعت کاموں میں ماں باپ کی اِطاعت جائز نہیں

            اِس سبق آموز حکایت سے ایک مدنی پھول یہ بھی ملا کہ اگر والِدین خلافِ شریعت حُکْم دیں مَثَلاً جھوٹ بولنے ، حرام روزی کماکر لانے یا داڑھی منڈانے کا کہیں تو یہ باتیں نہ مانی جائیں ، چاہے وہ کتنے ہی ناراض ہوں ، آپ نافرمان نہیں ٹھہریں گے ، بلکہ  اگر ان کی خلافِ شریعت باتیں مان لیں گے توخد ا ئے حنّان ومنّان عزَّوَجَلَّ  کے نافرمان  قرارپائیں گے ، سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے : ’’لَاطَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ اِنَّمَاالطَّاعَۃُ فِی الْمَعرُوْفِیعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں اِطاعت تو صرف نیکی کے کاموں میں ہے ۔ ( مُسلِم ص ۱۰۲۳ حدیث۱۸۴۰ ) اعلیٰ حضرت، مجدد دین وملت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰنفرماتے ہیں :جائز باتوں میں والدین کی اِطاعت فر ض ہے اور اگر وہ کسی ناجائز بات کا  حُکم دیں تو اِس میں اُن کی اِطاعت جائز نہیں ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۱ص۱۵۷)

 

گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی                 بُری عادتیں بھی چُھڑا یاالٰہی

مُطیع اپنے ماں باپ کا کر میں اُنکا             ہر اِک  حُکم لاؤں بجا یاالٰہی(وسائلِ بخشش ، ص۷۹، ۸۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دودھ میں پانی ملانا

            مذکورہ حکایت میں دودھ میں پانی ملانے کا بھی  تَذکِرہ ہے ، اگر دودھ بیچنے والا گاہک کو خود صاف صاف بتادے کہ ہم اس میں اِتنی مقدار (مثلاً10%) پانی ملاتے ہیں تو ایسا دودھ بیچنا جائز ہے ، یا اُس علاقے کا عُرف ہو کہ دودھ میں دس فیصد پانی ملایا جاتا ہے اور خریدار بھی اس بات کو جانتا ہے تو بھی جائز ہے ، لیکن اگر عُرف دس فیصد کا ہے یا گاہک کو دس فیصد بتایا مگر پانی زیادہ ملادیا تو اب بیچنا ناجائز ہوگا کیونکہ فریب ودھوکہ پایا گیا، سرکارِ دوعالَم نورِ مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمان عبرت نشان ہے :’’مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا وَالْمَکْرُ وَالْخِدَاعُ فِی النَّارِ یعنی جو ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کرے وہ ہم میں سے نہیں اورمکر اور دھوکہ بازی جہنَّم سے ہے ۔ ‘‘(المعجم الکبیر حدیث ۱۰۲۳۴ ج ۱۰ ص ۱۳۸)

            دودھ میں پانی کی مِلاوٹ کے مسئلے کو اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ  امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے ایک فتویٰ سے سمجھنے کی کوشِش کیجئے : چنانچہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے  مِلاوٹ والے گھی کی خریدو  فروخت کے بارے میں  سوال ہوا تو فتاوٰی رضویہ جلد 17صَفْحَہ150 پر فرمایا:اگریہ مَصنُوع جعلی (یعنی نقلی ) گھی وہا ں عام طور پر بِکتاہے کہ ہر شخص اس کے جَعل(یعنی نقلی) ہونے پرمُطَّلع ہے اور باوُجُودِ اِطّلاع خریدتاہے تو بشرطیکہ خریداراسی بَلَد(یعنی بستی) کا ہو، نہ غریبُ الوطن تازہ وارِد ناواقف (یعنی مسافِر ، نیا آنے والا اور اَنجان نہ ہو) اور گھی میں اس قدرمَیل(یعنی ملاوٹ) سے جتنا وہا ں عام طورپر لوگو ں کے ذِہن میں ہے اپنی طرف سے اور زائد نہ کیا جائے نہ کسی طرح اس کا جعلی (یعنی نقلی ) ہونا چھپا یاجائے ۔ خُلاصہ یہ کہ جب خریدارو ں پراس کی حالت مَکْشُوف(یعنی ظاہر) ہو اور فریب ومُغالَطہ راہ نہ پائے (یعنی دھوکہ دینے کی کوئی صورت نہ پائی جائے ) تو اس (یعنی ملاوٹ والے گھی ) کی تجارت جائزہے ، گھی بیچنا بھی جائز اور جوچیز اس میں ملائی گئی اُس کا بیچنا بھی، جیسے بازاری دودھ کہ سب جانتے ہیں کہ اس میں پانی ہے او رباوصَفِ عِلم(یعنی جاننے کے باوُجُود) خریدتے ہیں ، یہ(یعنی ناجائز ہونا تو) اس صورت میں ہے جبکہ بائِع(یعنی بیچنے والا) وَقتِ بَیع (یعنی بیچتے وَقت) اصلی حالت خریدار پرظاہر نہ کردے اور اگر خود بتادے توظاہرُ الرّوایہ  [1]؎  ومذہبِ امام عظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمیں مُطلَقًا جائز ہے خواہ (گھی میں ) کتنا ہی مَیل (یعنی ملاوٹ ) ہو، اگرچِہ خریدار غریبُ الوطن (یعنی پردیسی) ہو کہ بعدِبیان فریب (یعنی دھوکہ )  نہ رہا ۔ بالجملہ مدارِ کارظہورِ اَمر(یعنی ہر چیز کا دارومدار معاملے کے ظاہرہونے ) پرہے خواہ خود ظاہِر ہو جیسے گیہوں میں جَو(نمایاں ہوجاتے ہیں ) ، یا بجہتِ عُرف و اِشتہار(یعنی عرف وشہرت کے اعتِبار سے ) مُشترِی(یعنی خریدار) پرواضِح ہو جیسے (کہ) دودھ کا معمولی پانی، خواہ یہ (یعنی بیچنے والا) خود حالتِ واقعی (یعنی حقیقتِ حال) تمام وکمال (یعنی اچھی طرح) بیان کرے ۔ ‘‘( فتاوی رضویہ، ج۱۷، ص۱۵۰)

مدنی مشورہ: وہ اسلامی بھائی جو دودھ بیچنے کا یا کوئی اور ایساکاروبار کرتے ہیں جس میں مِلاوٹ کے اِحتمالات ومعاملات ہوتے ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ اپنے کاروبار کے حوالے سے تفصیلات بتا کر دارُالافتاء سے شَرعی  حُکم معلوم کر لیں ، اَ لْحَمْدُ للّٰہعَزَّوَجَلَّپاکستان میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام ’’دارالافتاء اہلسنّت‘‘ کی کئی شاخیں قائم ہوچکی ہیں جہاں رابطہ کرکے فتویٰ لیا جاسکتا ہے ۔

رشتہ طے کرتے وقت کیا دیکھنا چاہئے ؟

            ایک مَدَنی پھول یہ بھی ملا کہ جب بھی رشتہ کیا جائے توتقویٰ وپرہیزگاری   کو ترجیح دی جائے جیسا کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے کیا ۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی ہمیں یہی مَدَنی پھول عطافرمایاہے کہ ’’کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے چار چیزوں کو مَدِّ نظر رکھا جاتا ہے :(۱) اُس کا مال(۲) حَسَب ونَسَب(۳) حُسن و جمال اور (۴) دین ۔ ‘‘ پھر فرمایا:’’فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّینِیعنی تم دیندار عورت کے حُصُول کی کوشِش کرو ۔ ‘‘ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، الحدیث ۵۰۹۰، ج۳، ص۴۲۹)

            مگرافسوس کہ ہمارے معاشرے میں عام طور پر لڑکے والوں کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ مالدارکی بیٹی گھر میں آئے تاکہ ہمارے بیٹے کے سارے اَرمان نکلیں ، اِس قدر جہیز ملے کہ گھر بھر جائے بلکہ اب توہاتھ جھاڑ کر منہ پھاڑ کر مطالبہ کیا جاتا ہے کہ جہیز میں فُلاں فُلاں چیز دوگے تو شادی ہوگی، اُدھر لڑکی والوں کے سامنے اگرکسی نیک وپرہیزگار اسلامی بھائی کا رشتہ پیش کیا جائے تو بَسا اوقات صرف اِس وجہ سے اِنکار کردیتے ہیں کہ وہ بارِیش(یعنی داڑھی والا) اور سنتوں کا عامِل ہے جبکہ اس کے بَرعکس ایسے نوجوان کے رشتے کو ترجیح دینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں جومالدار ہو چاہے وہ



[1]    فقہ حنفی میں ظاہرُ الرِّوایہ ان مسائل کو کہا جاتا ہے جو حضرتِ سیِّدناامام مُحمّد بِن حَسَن شَیْبانِی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنی کی چھ کتابوں (1) جَامِع صَغِیر(2) جامِع کَبِیر (3) سِیَر کَبِیر (4) سِیَر صَغِیر(5) زِیادات (6) مَبْسُوط میں مذکور ہوں



Total Pages: 139

Go To