Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            جب خاندانِ بنو امیّہ نے خود کو تمام مسلمانوں کے ساتھ ایک سَطح پر شانہ بشانہ کھڑے دیکھا تو انہیں سخت ذِلّت محسوس ہوئی کیونکہ پرانے تَفَوُّق واِمتیاز نے اُن کے لئے اِس مُساوات کو خوابِ فراموش بنادیا تھا ، پھر ذاتی جائیداد کا ہاتھ سے نکل جانا بھی اِشتِعال کا مُمکِنہ سبب تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے طَرزِ عمل سے عوام کو یقین ہوچلا تھا کہ پہلے کے خلفائے بنواُمیہ نے جو رَوِش اختیار کی تھی وہ شَرعاً درست نہیں تھی ، اس لئے خاندان کو اپنے پورے سلسلہ کا دامن دَاغدَار نظر آتا تھا چُنانچِہ خاندان کے کئی اَفراد نے مختلف طریقوں سے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے سامنے اپنی تشویش کا اِظہار کیا تو ایک دن آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے مَروانی خاندان کو جمع کرکے کہا : اے بنو مَروان ! تمہیں بہت سی جائیدادیں ، عزتیں اور دولتیں ملی تھیں ، میرے خیال میں اُمّت کا نِصف یا تہائی مال تمہارے قبضے میں آگیا تھا، ایسا کیونکر ممکن ہوا؟ یہ سن کر سب پر سَکتے کی سی کیفیت طاری ہوگئی ، جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے دوبارہ وضاحت طَلَب کی تو سب یک زبان ہوکر کہنے لگے :’’ جب تک ہمارا سر ہمارے دھڑ سے الگ نہ ہوجائے ہم نہ تو اپنے آباؤ اَجداد کو بُرا بھلا کہہ سکتے ہیں اور نہ اپنی اولاد کو محتاج بنا سکتے ہیں ۔ ‘‘ (سیرت ابن جوزی ص۱۳۶) یہ کہہ کر وہاں سے چل دئیے ۔

’’سمجھانے ‘‘کی ایک اور کوشش

            خاندان کے اَفراد نے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو ’’سمجھانے ‘‘ کی ایک اور کوشش کی ، چُنانچہ ہشام بن عبدالملک کو اپنا وکیل بنا کر چند لوگوں کے ساتھ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس بھیجا ۔ ہشام نے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے پاس پہنچ کرکہا:’’ یاامیرَالمُؤمنین ! میں آپ کی خدمت میں آپ کے  سارے خاندان کی طرف سے قاصِد بن کر آیا ہوں ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ اپنی زیرِ حکومت چیزوں کے بارے میں اپنے طریقہ پر عمل کیجئے لیکن اُن کے پرانے حُقُوق کو باقی رہنے دیجئے ۔ ‘‘حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیز نے فرمایا:اگر تمہارے سامنے 2دستاویز پیش کی جائیں اور جن میں سے ایک حضرت سیِّدنا معاویہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی اور دوسری خلیفہ عبدالملک کی لکھی ہوئی ہو تو تم کس پر عمل کرو گے ؟ ہشام نے کہا:ظاہر ہے حضرت سیِّدنا معاویہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی تحریرمُقَدَّم ہے ، اُسی پر عمل کروں گا ۔ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیزنے فرمایا:تو پھر سُنو! میں کتابُ اللّٰہ کو سب پر مُقَدَّم پاتا ہوں اور ہر چیز کواِسی کے مُطابِق چلانے کی کوشش کروں گا ۔ اس پروہاں پر موجود خالد بن عمر نے کہا:پھر بھی جو چیزیں آپ کے زیرِ فرمان ہیں اُن پر عَدل واِنصاف سے حکومت کیجئے لیکن گذشتہ خلفا کی اچھی یا بُری چیزوں کو اپنے حال پر رہنے دیجئے اور یہ آپ کے لئے کافی ہوگا ۔ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیز نے فرمایا:اگر کسی شخص کے چند چھوٹے بڑے بچے ہوں اور وہ اِنتقال کر جائے پھر بڑے بیٹے چھوٹوں کی دولت پر قبضہ کر لیں اور چھوٹے بچے تمہارے پاس داد رَسی کے لئے آئیں تو تم کیا کرو گے ؟ خالد نے کہا: میں انہیں ان کا حق دلاؤں گا ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:میرے نزدیک بہت سے خلفا اور ان کے قریبی لوگوں نے لوگوں کا مال وجائیداد زبردستی ہَتھیا لیا اور جب میں خلیفہ بنا تو لوگوں نے مجھ سے داد رَسی چاہی تو میرے لئے اِس کے سوا کوئی چارا نہیں تھا کہ میں کمزوروں کو اُن کا حق دلاؤں ۔ یہ سن کر خالد بن عمر کے منہ سے بے اختیار یہ دعائیہ کلمات نکلے :وَفَّقَکَ اللّٰہُ یَا اَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنَ یعنی امیر المُؤمنین!اللّٰہعَزَّوَجَلَّآپ کواِس کی توفیق دے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۴۱)

میں قیامت کے عذاب سے ڈرتا ہوں

             اسی طرح کسی اورموقع پرخاندان کے لوگ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے دروازے پر جمع ہوئے اور اُن کے صاحبزادے حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق سے کہا : ’’ یا تو ہمیں باریابی کی اِجازت دِلواؤ، یا خود ہمارا پیغام امیر المومنین تک پہنچاؤ ۔ ‘‘ انہوں نے پیغام پہنچانے پر حامی بھری تو سب نے کہا : ان سے پہلے جو خلفا تھے وہ ہم کو عطیہ دیتے تھے اور ہمارے مَراتِب کا لحاظ رکھتے تھے ، لیکن تمہارے باپ نے ہم کو بالکل محروم کردیا ۔ ‘‘ انہوں نے جا کر یہ پیغام سنایا تو حضرتِ عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا : ’’ جاکر کہہ دو کہ میرا باپ کہتا ہے :إِنِّیْ اَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی اگر میں اپنے خدا عَزَّوَجَلَّ  کی نافرمانی کروں تو قیامت کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۳۹)

گنہگار طلبگارِ عَفو و رحمت ہے

            عذاب سہنے کا کس میں ہے حوصَلہ یاربّ(وسائل بخشش ص۹۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پھوپھی صاحبہ کی سفارش

            اُن سب نے ایک تدبیر یہ بھی کی کہ حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی پھوپھی صاحبہ کو بھیجا ۔ وہ آئیں اور کہا: تمہارے قَرابَت دار شکایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نے ان سے روٹی چھین لی ۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے جواب دیا: میں نے ان کا کوئی حق نہیں روکا ۔ وہ بولیں : ’’ سب لوگ اِسی کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ، مجھے خوف ہے کہ کسی دن تمہارے خلاف بَغَاوت نہ کردیں !‘‘ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے فرمایا:’’ان کی بَغَاوت کے دن سے زیادہ قیامت کے دن کا خوف ہے ۔ ‘‘اس کے بعد ایک اَشرَفی، گوشت کا ایک ٹکڑا اور ایک انگیٹھی منگوائی اور اشرفی کو آگ میں ڈال دیا، جب وہ خوب سُرخ ہوگئی تو ا سکو اٹھا کر گوشت کے ٹکڑے پر رکھ دیا جس سے وہ بھن گیا، اب پھوپھی صاحبہ کی طرف رُخ کرکے کہا: ’’  اَیْ عَمَّۃٌ! اَمَا تَأْوِیْنَ لِاِبْنِ اَخِیْکَ مِنْ مِّثْلِ ھٰذایعنی پھوپھی جان !اپنے بھتیجے کے لئے اِس قسم کے عذاب سے پناہ نہیں مانگتیں ؟‘‘ (سیرت ابن جوزی ص۱۳۸)

مجھے نارِ دوزخ سے ڈر لگ رہا ہے

              ہو مجھ ناتُواں پر کرم یاالٰہی(وسائل بخشش ص۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 خلافت سے بے نیازی

            جب خاندان کے کچھ لوگوں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز پراِسی حوالے سے کچھ زیادہ ہی بَرہَمی کااِظہارکیاتوآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ان کی سب باتوں کونہایت



Total Pages: 139

Go To